Taqwa khouf e Khuda aur mohabbat e Ilahi article by Hafsa Umer

Taqwa khouf e Khuda aur mohabbat e Ilahi article by Hafsa Umer 

تقوٰی، خوفِ خدا اور محبت الٰہی

کالم نگار: حفصہ عمر

 

متقی کون لوگ ہوتے ہیں؟

آخر اللہ متقین سے محبت کیوں کرتا ہے؟

تقویٰ کیا ہوتا ہے؟

 

کل تلاوتِ قرآنِ پاک کے دوران میں نے ایک آیت پڑھی تو چند سوالات نے ذہن پر بسیرا کر لیا:

 

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ

"بے شک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔"

 

متقی، تقویٰ سے ماخوذ ہے۔ تقویٰ دل کی ایسی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتی ہے اور نیکی کے کام کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ تقویٰ ان لوگوں کی صفت ہے جن کے دل میں اپنے رب کی محبت ہوتی ہے۔ اور انسان جس سے محبت کرتا ہے، اسی کی اطاعت کرتا ہے، اس کے پسندیدہ کام کرتا ہے اور ہر اس کام سے بچنا چاہتا ہے جسے اس کا محبوب ناپسند کرتا ہو۔

 

جو اللہ سے محبت کرتا ہے اور اس کی اطاعت اختیار کرتا ہے، اللہ بھی اس سے محبت فرماتا ہے۔ آپ تصور کریں، ایک ایسا شخص جو ہر نیکی کا کام اس نیت سے کرے کہ اس کا رب اس سے خوش ہوگا اور ہر گناہ کا کام اپنے رب کی ناراضگی کے ڈر سے چھوڑ دے۔

 

ایک متقی انسان اپنی تنہائیوں کو پاک کرنا جانتا ہے۔ جہاں اس کے پاس گناہ کا موقع ہو لیکن وہ اس احساس سے رک جائے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ جب انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور اس کی محبت ہوگی تو وہ آسانی سے اپنی تنہائیوں کو پاک کر سکتا ہے۔ ہر گناہ سے قبل صرف یہ سوچ کہ "اللہ دیکھ رہا ہے"، ہمیں اپنے نفس اور شیطان کے وسوسوں سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے، اگر ہم خود اس کا ارادہ کریں۔

 

کیونکہ انسان کے دل میں تقویٰ پیدا نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود اللہ کی طرف رجوع کرنے اور اپنے نفس کو روکنے کی کوشش نہ کرے۔

 

ایک متقی انسان کو اپنی دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ہوتی ہے۔ اگر اسے آخرت کی خاطر اپنی کسی خواہش کو چھوڑنا پڑے تو وہ گریز نہیں کرتا۔ وہ ہر کام کرنے سے پہلے اس کے اجر و ثواب کو مدنظر رکھتا ہے اور اپنی زندگی میں آخرت کی تیاری کے لیے وقت نکالتا ہے۔ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دیتا، بلکہ دنیا کے ضروری کام بھی اس نیت سے کرتا ہے کہ یہ بھی اللہ کی رضا کا ذریعہ بن سکیں۔

 

کیونکہ وہ جانتا ہے:

 

فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ

 

"تو دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے۔"

 

تو شاید متقی وہ نہیں جو خود کو کامل سمجھتا ہے، بلکہ وہ ہے جو ہر قدم پر اپنے رب کی رضا تلاش کرتا ہے، گناہ کے موقع پر خود کو روک لیتا ہے، اور ہر نیکی کے ذریعے اپنے رب کے مزید قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

*************

 

Comments