*جذباتی ذہانت: عقل سے آگے کی پہچان*
ہم
عموماً ذہانت کو نمبروں، ڈگریوں اور دلائل سے جوڑتے ہیں، مگر زندگی کے بڑے فیصلے اکثر
جذبات کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جذباتی ذہانت اپنی اصل اہمیت دکھاتی
ہے۔ جذباتی ذہانت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھے، انہیں
سنبھالے اور حالات کے مطابق درست ردعمل دے۔
اکثر
لوگ ذہین تو ہوتے ہیں مگر تعلقات میں ناکام رہتے ہیں۔ وجہ یہ نہیں کہ وہ سمجھدار نہیں،
بلکہ یہ کہ وہ اپنے غصے، حسد، خوف یا انا کو پہچان نہیں پاتے۔ جذباتی طور پر باشعور
فرد پہلے اپنے اندر جھانکتا ہے، پھر بولتا ہے۔ وہ ردعمل دینے سے پہلے رک کر سوچتا ہے
کہ اس کے الفاظ سامنے والے پر کیا اثر ڈالیں گے۔
جذباتی
ذہانت کی پہلی سیڑھی خود آگاہی ہے۔ خود آگاہی کا مطلب ہے اپنے موڈ، اپنی کمزوریوں اور
اپنی طاقتوں کو پہچاننا۔ اگر کوئی شخص یہ جان لے کہ اسے تنقید سے فوراً غصہ آتا ہے،
تو وہ اس کیفیت کو قابو میں رکھنے کی مشق کر سکتا ہے۔ دوسری اہم چیز خود پر قابو ہے۔
جذبات کو دبانا نہیں، بلکہ انہیں مناسب انداز میں ظاہر کرنا سیکھنا ہی اصل مہارت ہے۔
تیسرا
پہلو ہمدردی ہے۔ ہمدردی کا مطلب صرف کسی کے دکھ پر افسوس کرنا نہیں، بلکہ اس کے نقطہ
نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ جب ہم سننے کا ہنر سیکھ لیتے ہیں تو آدھے مسائل خود
بخود حل ہو جاتے ہیں۔ ایک اچھا رہنما، استاد یا معالج وہی بنتا ہے جو دوسروں کے جذبات
کو محسوس کر سکے۔
آج
کے دور میں جذباتی ذہانت پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے بھی ضروری ہے۔ دفتر میں ٹیم ورک،
قیادت اور تنازعات کے حل میں یہی صلاحیت فرق ڈالتی ہے۔ ایسے لوگ جو دباؤ میں بھی متوازن
رہتے ہیں، وہی مشکل حالات میں بہتر فیصلے کر پاتے ہیں۔
دلچسپ
بات یہ ہے کہ جذباتی ذہانت پیدائشی صلاحیت نہیں بلکہ سیکھنے کا عمل ہے۔ روزمرہ کی زندگی
میں چھوٹی مشقیں جیسے اپنی کیفیت لکھنا، ردعمل دینے سے پہلے چند لمحے رکنا، یا اختلاف
کے وقت آواز کا لہجہ نرم رکھنا، اس صلاحیت کو مضبوط بناتی ہیں۔
آخر
میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جذباتی ذہانت ہمیں کمزور نہیں بناتی بلکہ مضبوط بناتی ہے۔
یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات کو نظر انداز نہ کریں بلکہ انہیں سمجھ کر اپنی طاقت بنائیں۔
عقل راستہ دکھاتی ہے، مگر جذباتی شعور اس راستے پر چلنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔
*پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کرنا مت بھولیے گا آپکے لائک سے ہمیں
بہترین کام کرنے میں موٹیویشن ملے گی اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ*
Tanzil
khan Psychologist
*********
Comments
Post a Comment