Mob Lynching (Ijtimayi Tashaddud) article by Iqra Mushtaq

موب لینچنگ (اجتماعی تشدد)

اقرا مشتاق

ان کی آخری آواز تھی "ہم بے گناہ ہیں" کہانی شروع ہوتی ہے لاہور کے قریب رہنے والے ایک محنت کش مسیح جوڑے شمع اور شہزاد سے جن پر توہینِ مذہب کا سنگین الزام لگایا گیا واقع کچھ یوں تھا کہ شمع نے اپنے مرحوم سسر کے کچھ کاغذات کو جلایا جن میں الزام کے مطابق قرآنی آیات تھیں۔ الزام بھٹے کے مالک نے لگایا اور امام مسجد پر دباؤ ڈالا کہ وہ مسجد میں اعلان کرے مسجد میں اعلان ہوا کہ ایک مسیحی جوڑے نے توہینِ مذہب کی ہے لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا گیا اور لوگوں نے ہجوم کی شکل میں شہزاد اور شمع پر حملہ کردیا۔دروازوں کو توڑ کر ہجوم اندر داخل ہوا۔ لاٹھیوں سے تشدد کیا گیا اورپھر  مسیحی جوڑے کو جلا دیا گیا۔بعد ازاں تفتیش میں دونوں بے گناہ ثابت ہوئے۔ مگر کیا ہوا ایک خاندان تباہ ہوا۔اس جوڑے کے تین بچے تھے اور شمع چوتھے بچے سے پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔ ان بچوں کو یتیم کردیا گیا صرف الزام کی بنیاد پر۔ اپنی اجتماعی جہالت کا نشانہ ان کے بچپن کو بنایا گیا۔

یہ کوئی موب لینچنگ کا پہلا واقعہ نہیں تھا

اس سے پہلے 2009 میں اس طرح توہینِ رسالت کے الزام میں پوری مسیحی کالونی کو جلا دیا گیا۔9 مسیحی مارے گئے

مگر پھر وہی ہوا کیس چلا الزام ثابت نہیں ہوا مگر ہجوم کی عدالت نے 9 لوگ قتل کر کے اپنا فیصلہ سنایا مگر سلسلہ یہاں رکا نہیں۔

2021 میں ایک سری لنکن شہری کو سیالکوٹ میں موب کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر جلا دیا گیا

اس شہری سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ اردو زبان سے لاعلم تھے اور اس لاعلمی میں انہوں نے دورانِ صفائی کچھ مذہبی تحریروں کے پوسٹرز کو پھاڑ دیاجس پر انھوں نے معافی بھی مانگی مگر نا کسی نے سننی تھی نا سنی اور یوں وہ موب کے تشدد کا نشانہ بن گئے۔

الغرض ایسے کئی واقعات ہوئے اور کم و بیش 60 افراد موب لینچنگ کا نشانہ بنے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہجوم قانون کو اپنے ہاتھ میں کیسے لیتا ہے؟

اور ہمارے مذہبی جذبات کیوں کر اتنے بھڑک اٹھتے ہیں؟

اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ ہمارے ہاں لا قانونیت ہے۔

ہمیں مذہب سکھایا نہیں بیچا گیا ہے۔

اور ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ موب لینچنگ کرنے والے لوگوں میں سب سے آگے وہ لوگ ہوتے ہیں جو انفرادی طور پر ایک کیڑا مارنے کی بھی ہمت نہیں رکھتے ہوتے مگر ہجوم میں ان کو موقع فراہم ہو جاتا ہے۔اس طرح کے واقعات عموماً نفرت، اور جہالت،کمزور قانونی نظام اور احتساب کی کمی سے فروغ پاتے ہیں۔ہمیں لوگوں کو آگاہی دینا ہوگی کے انصاف عدالت کا کام ہے

*بے شک توہینِ مذہب اور توہینِ رسالت کے مرتکب سخت سے سخت سزا کے حقدار ہوتے ہیں*

مگر اس سے پہلے صرف الزام کی بنیاد پر قتل کرنا بھی بہت بڑا جرم ہے۔حتیٰ کہ اگر مجرم کا جرم ثابت ہو بھی جائے تب بھی اس کو ملک کے قانون کے تحت سزا دی جائے نا کہ موب لینچنگ کا نشانہ بنایا جائے

سزا سے پہلے ٹرائل میں ملزم کی ذہنی حالت کا پتہ لگایا جائے ۔ اس کے مذہبی عقائد کے بارے میں معلومات لی جائیں۔اگر اس نے یہ سب لاعلمی میں کیا ہو تو شرعی حیثیت سے وہ معافی کا بھی حقدار ہےاور اگر اس شخص نے قصد دلی سے یہ فعل کیا ہے تو اس کو سخت سے سخت سزا دی جائے

کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کا کوئی اپنا موب نشانہ بن جائے

نہیں آپ یا میں ایسا نہیں چاہیں گے

تو پھر ہمیں اس پر بات کرنی ہوگی اگر ہم نے آج اس پر لوگوں کو آگہی نہیں دی تو کل ہم میں سے کوئی بھی اس موب لینچنگ کا نشانہ بن سکتا ہے  موب لینچنگ ایک سنگین اجتماعی جرم ہے

اس پر آگہی ناگزیر ہے

"کل جوزف کالونی کے لوگ تھے، پرسوں شہزاد اور شمع تھے، آج کوئی اور ہے۔ کل کون ہوگا؟ آپ؟ میں؟ ہمارا بچہ؟ ہم کب تک یہ سلسلہ جاری رکھیں گے؟ کب ہم انسان بنیں گے؟

شہزاد اور شمع کے بچے یتیم ہیں۔ جوزف کالونی کے لوگ آج بھی خوف میں جیتے ہیں۔ یہ سب ہماری خاموشی کا نتیجہ ہے۔ اب بھی وقت ہے - بولیں، ورنہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گے۔

ہر وہ شخص جو خاموش رہتا ہے، ہر وہ فرد جو 'میرا کیا' کہتا ہے، ہر وہ شہری جو اپنی ذمہ داری سے منہ موڑتا ہے - وہ اگلے قتل کا شریک ہے۔ فیصلہ آپ کا ہے: ہجوم کا حصہ بننا ہے یا انسانیت کا؟

یہ لکھنا، پڑھنا یا افسوس کرنا کافی نہیں ہے ۔ ہمیں بولنا ہوگا، روکنا ہوگا، بدلنا ہوگا۔ ورنہ یہ خون آلود تاریخ ہمارے بچوں کو ورثے میں ملے گی۔

اس کالم کا مقصد کسی کے بھی مذہبی جذبات کو مجروح کرنا نہیں ہے۔فقط لوگوں میں آگاہی دینا ہے۔

شکریہ!

*******************

Comments