Zindagi kya hai aticle by
Muhammad Hasnat Dilawar
زندگی کیا ہے؟
یہ
ایک ایسا سوال ہے جس نے اولادِ آدم کو ازل سے الجھا رکھا ہے۔ اس سوال کا جواب ہر وہ
شخص جاننا چاہتا ہے جو تدبر، غور و فکر اور سوچ بچار کرتا ہے۔ ہر شخص کے نزدیک زندگی
کا مفہوم مختلف ہے۔ ہر کوئی اپنی سوچ، عقل اور ماضی کے تجربات کے مطابق زندگی کو ڈیفائن
کرتا ہے۔ یہ ایک کھیل ہے جسے ہر انسان اپنی طاقت اور صلاحیتوں کے مطابق کھیلنے کی کوشش
کرتا ہے۔
زندگی
نہ ختم ہونے والی خواہشات اور چاہتوں کا ایک سلسلہ ہے جہاں ہزاروں خواہشات جنم لیتی
ہیں۔ کرۂ ارض پر بسنے والے ہر انسان کے نزدیک زندگی کا مفہوم مختلف ہے۔
زندگی
سب کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ تو اس بے رحم دنیا میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے
ہیں اور کچھ جھونپڑیوں اور کچے کوٹھوں میں ساری زندگی غربت اور بے روزگاری کا رونا
روتے ہوئے زندگی جینے کے بجائے صرف اور صرف گزار دیتے ہیں۔
مثال
کے طور پر جب میں کسی غریب سے پوچھوں کہ زندگی کیا ہے؟ تو یقیناً اس کا جواب ’’پیسہ‘‘
ہوگا۔ اسی طرح بھوکے کے لیے کھانا، پیاسے کے لیے پانی، بچوں کے لیے کھیل کود اور دولت
مند کے لیے جی ہاں۔۔۔ ذہنی، قلبی اور روحانی سکون، جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے مگر
تلاش ہر کوئی کرتا ہے۔
آپ
اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس سے جو شخص محروم ہے، اس کے لیے وہی زندگی
ہے۔ زندگی کا دوسرا نام تغیر ہے، یعنی زندگی کا حسن تبدیلیوں سے وابستہ ہے۔
یہاں
ہر کوئی خوشی کی جستجو میں لگا ہوا ہے۔ ہر کوئی آسائش والی اور راحت پسند زندگی جینا
چاہتا ہے، اور راحتیں اور آسائشیں تو صرف اور صرف تغیر سے ممکن ہیں۔ زندگی کا ایک اہم
ترین پہلو بچپن ہے۔
بچپن
محبت کے خزانوں کا سنہری دور ہوتا ہے۔ اس دور میں بچے کی جسمانی، روحانی، ذہنی، قلبی
اور دماغی پرورش ہوتی ہے، نفسیات تخلیق ہوتی ہے۔ اس دور میں بچے کا ذہن ایک کوری سلیٹ
کی طرح ہوتا ہے؛ جو کچھ اس پر نقش کر دیا جائے، اس کے اثرات مرتے دم تک دکھائی دیتے
ہیں۔ اس سنہری دور میں بچے کی ذہنی پروگرامنگ ڈیویلپ ہوتی ہے۔
زندگی
بس یہی نہیں کہ بچپن میں کھیلا کودا، لڑکپن میں خوب انجوائے کیا، نوجوانی میں فیشن،
جوانی میں شادی کی، پھر بچے پیدا کیے اور بعد میں اپنی تمام تر
جسمانی،
روحانی،
ذہنی،
قلبی
اور
دیگر تمام طاقتیں ان پر خرچ کیں، اور آخر میں ایک دن مٹی کے ساتھ مٹی ہو جانے کا نام
ہی صرف زندگی نہیں۔
زندگی
کو ہر زاویے سے سمجھنے کے لیے میں نے کئی ہفتوں کی محنت کے بعد کچھ باتیں تحریر کی
ہیں جو میں آپ کے ساتھ اس کالم میں شیئر کرنے جا رہا ہوں۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ
یہ باتیں جاننے کے بعد آپ کی سوچ مکمل طور پر بدل جائے گی، مگر اتنا ضرور کہہ سکتا
ہوں کہ انہیں سمجھنے کے بعد آپ کے علم میں زندگی کے معاملات کے حوالے سے بہت اضافہ
ہو سکتا ہے۔ تو آئیے میرے ساتھ مل کر زندگی کے بارے کچھ حقائق جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
زندگی
کی مثال کتاب کی سی ہے جس کے ہر صفحے پر الگ داستان رقم ہے۔ زندگی کی مثال سائیکل پر
سوار اس شخص کی سی ہے جس کو اپنا توازن برقرار رکھنے کے لیے مسلسل حرکت میں رہنا پڑتا
ہے۔ اچھا بینک بیلنس، مال و دولت، عزت، شہرت، اچھا گھر حاصل کر لینا ہی اصل زندگی نہیں
ہے۔ خود کو صحیح جگہ پر لا کھڑا کرنا اور مقصدِ حیات کو پا لینا اصل زندگی ہے۔ صداقت
کے ساتھ جینا، شجاعت کے ساتھ آگے بڑھنا اور صبر و توکل کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن
رہنا زندگی ہے۔
زندگی
نام ہے سیکھنے اور سکھانے کا، منزل تک پہنچنے کا، جدوجہد کرنے کا، بیدار ذہن کے ساتھ
جینے کا۔ زندگی نہ ختم ہونے والی خواہشات کا ایک سلسلہ ہے جہاں ہزاروں خواہشات ہر روز
جنم لیتی ہیں۔
زندگی
ایک سفر ہے جس کی منزل موت ہے۔
زندگی
نام ہے گزرتے ہوئے لمحات کا جو گزر جاتے ہیں، رکتے نہیں، ٹھہرتے نہیں، بس گزر جاتے
ہیں۔
زندگی
ایک موقع ہے سیکھنے اور سکھانے کا، آگے بڑھنے کا، خود کو تراشنے کا، خود کو جاننے کا،
خود کو خود کے قریب کرنے کا، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا، خود کو ترتیب دینے کا، آگے
کی طرف پیش قدمی کرنے کا۔
زندگی
ایک چیلنج ہے، اس کو قبول کرنا پڑتا ہے۔
زندگی
اس وقت کا نام ہے جو لمحۂ موجود ہے، جو گزر رہا ہے۔
زندگی
ان لمحات کا نام ہے جن میں ہم سانس لے رہے ہیں۔
زندگی
نام ہے خود کو فلٹر کرنے کا،
خود
کو جاننے کا،
فضولیات
سے چھٹکارا حاصل کرنے کا۔
زندگی
اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک تحفہ ہے، ایک نعمت ہے، جس کی مثال ایک کتاب کی
سی ہے جس کے پہلے صفحے پر ہماری پیدائش اور آخری صفحے پر ہماری موت درج ہے۔ درمیان
میں جو کچھ ہے وہ ہم خود لکھتے ہیں، کبھی قلم سے، کبھی آنسوؤں سے، اور کبھی اپنی ہنسی
سے۔
زندگی
ایک مجموعہ ہے
انگنت
تجربات کا،
خوشیوں
اور غموں کا،
صحت
اور بیماری کا،
اچھے
اور برے حالات کا،
ناکامیوں
اور کامیابیوں کا،
حسرتوں
کا۔
اور
یہی تجربات ہماری زندگی کو معنی خیز بناتے ہیں۔
زندگی
ایک موقع ہے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور تراشنے کا، آگے بڑھنے کا، محنت، لگن، شوق
اور جذبے کے ساتھ منزل کو تلاش کرنے کا، کامیابی کی طرف بڑھنے کا۔
زندگی
اپنی خیالی دنیا کو حقیقت میں بدلنے کا نام ہے، خود کو ڈیزائن کرنے کا نام ہے اور اپنے
نظریات کو درست کرنے کا نام ہے۔
کہا
جاتا ہے کہ زندگی میں صرف دو ہی دن سب سے اہم ہوتے ہیں: ایک وہ جب انسان دنیا میں آتا
ہے اور دوسرا وہ جب وہ اپنے مقصدِ حیات کو پا لیتا ہے۔ مقصدِ حیات کی تلاش میں تڑپنے
کا نام ہی زندگی ہے۔
زندگی
کا اصل مقصد خدا کی بندگی ہے، نہ کہ مادہ چیزوں کی اندھی دوڑ۔ زندگی کو صحیح سمجھنے
اور دین کو اپنے اندر لانے کے لیے محنت خود کرنی پڑتی ہے، حالات کی سختیاں جھیلنی پڑتی
ہیں، قربانی دینی پڑتی ہے، اندھیروں میں دیا جلانے کے لیے نیندیں قربان کرنا پڑتی ہیں
اور اپنی ذہنی و جسمانی طاقتیں صرف کرنا پڑتی ہیں۔ خود کو حرکت میں رکھنا اور توازن
برقرار رکھنا زندگی کی بنیادی شرط ہے، چاہے وہ رشتے ہوں، دوستی ہو یا ذہنی سکون۔
زندگی
ایک مقابلے کی جگہ ہے، جہاں آپ کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے:
اپنے
نفس سے،
شیطان
سے،
اپنی
عادتوں سے،
پرانی
روٹین سے،
لوگوں
کے رویّوں سے،
حالات
کی سختیوں سے
اور
اُن لوگوں سے جو آپ کے مدِّ مقابل کھڑے ہیں۔
زندگی
نام ہے ماضی سے سیکھنے کا، آگے بڑھنے کا، تلخ یادوں کو بھلا دینے کا، خود کو لوگوں
کی قید سے آزاد کرنے کا، خود کو خود کے قریب لانے کا۔
زندگی
مطالبہ کرتی ہے کہ اپنے روزمرہ معاملات کو سمجھا جائے، پلاننگ کی جائے اور ہر چیلنج
کا ہمت کے ساتھ سامنا کیا جائے۔
خود
کو فلٹر کرنا، غیر ضروری مسائل سے نجات حاصل کرنا اور اپنے داخلی دکھوں کو اللہ کے
سامنے رکھ دینا یہ سب زندگی کو ہلکا اور آسان بناتے ہیں۔ کیونکہ اندر کے مسائل انسان
کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں اور مسکراہٹوں کے رنگ چھین لیتے ہیں۔
زندگی
کا اصل لطف تب شروع ہوتا ہے جب انسان زندگی گزارنے کے فارمولے سمجھ لیتا ہے اور ان
پر عمل کرتا ہے۔ جب خواہشات سے چھٹکارا پا لینے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ خواہشات باقی
رہنے والی نہیں، یہ فانی ہیں، ان کی حقیقت مچھر کی پر کے برابر بھی نہیں۔
یہ
دنیاوی زندگی ایک چیلنج ہے جسے قبول کرنا پڑتا ہے۔ اس کی مثال ایک شمع کی سی ہے جو
مسلسل پگھل رہی ہے، ایک چراغ کی سی ہے جو ایک دن بجھ جائے گا، ایک حباب کی سی ہے جو
ایک لمحے میں ٹوٹ سکتا ہے۔ زندگی ایک ایسا فریب ہے جس کی آخری حقیقت موت کے سوا کچھ
بھی نہیں۔
انسان
کی زندگی سسکی سے شروع ہو کر ہچکی پر ختم ہونے والا ایک سفر ہے۔ اس سفر کا سب سے قیمتی
حصہ "جوانی" ہے۔۔۔ وہ دور جب انسان جسمانی، روحانی، ذہنی، قلبی اور اعصابی
طور پر مضبوط ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب انسان ہر طرح کی تکلیف برداشت کر سکتا ہے۔
جوانی عبادت کا سنہرا وقت ہے، اور اسے خواہشات کی تکمیل کے بجائے خدا کی بندگی میں
گزارنا ہی سمجھداری ہے۔
جوانی
میں اپنی کمزوریوں کی مرمت کرنا، کامیابیوں کو روشن کرنا اور اپنی زندگی کو بہتر بنانا
ہی اصل زندگی ہے۔
زندگی
ایک ایسا پیکج ہے جس میں سب کچھ موجود ہے۔۔۔
بس
ہماری خواہش کے مطابق نہیں۔
ختم
شد
(محمد
حسنات دلاور)

Comments
Post a Comment