Serab article by Neha Ali
سیراب
بقلم: نیہا علی
سب
کہتے تھے وہ سیراب ہے…
اور
میں نے ہمیشہ اپنے رب سے بس ایک ہی عرض کی
وہ
سیراب ہے یا نہیں، یہ تو میں نہیں جانتی،
مگر
مجھے اپنی دعا کی قبولیت پر پورا یقین تھا۔
میں
جانتی تھی…
دعا،
اگر دل سے نکلے تو راہیں بدل دیتی ہے۔
مجھے
اپنی محبت پر بھی بھروسہ تھا
اور
اپنی رب سے کی گئی فریاد پر بھی
میں
نے سوچا تھا
اس
سیراب کو میں ہرا کر دوں گی،
میں
اپنی دعا کی بدولت اسے پا لوں گی،
کیونکہ
مجھے لگتا ہے
کہ
دل کی سچائی،
رب
کی رحمت کے سامنے کبھی ہارتی نہیں۔
اور
شاید…
میں
اسے جیت ہی جاؤں
اگر
نصیب نے میرا ہاتھ تھام لیا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Comments
Post a Comment