Raaz e hayyat by Mehek Hanam Complete Novel

 


Raaz e hayyat by  Mehek Hanam Complete Novel 

Wani base novel , after marriage , rude hero , strong girl , rude heroine , revenge , haveli base , after nikah , 

"تم نے زارا کے بال کاٹے ہیں؟"باران کی آواز میں سرد ملال اور دبی ہوئی شدت تھی۔ ایسا سکوت تھا کہ ہر لفظ کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہا تھا۔سائرہ کا چہرہ یکایک سفید پڑ گیا۔ اس نے ایک نظر اپنی ماں کی جانب ڈالی، جو خود بھی پریشان کھڑی تھیں۔ لاونج کی فضا بوجھل ہوچکی تھی۔ زارا، جو اب بھی سر جھکائے کھڑی تھی۔

"باران بیٹا، یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟"حبہ خانم بیٹی کے دفاع میں سامنے آئیں، مگر باران نے سخت لہجے میں کہا۔

"چچی جان، مہربانی فرما کر پیچھے ہو جائیے۔ میں کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتا۔"یہ پہلا موقع تھا کہ باران کی آواز میں بڑوں کے لیے ایسی سرد مہری تھی مگر پھر بھی حد ادب میں تھی۔

"میں کچھ پوچھ رہا ہوں، سائرہ!"باران کا تحمل اب کچے دھاگے پر تھا۔

"وہ... وہ... میں نے... وہ..."سائرہ کی زبان لڑکھڑائی، چہرے پر شرمندگی تھی، لیکن غرور نے اسے سچ قبول کرنے سے روکے رکھا۔

"وہ وہ کیا؟ سیدھا جواب دو!"باران کی اگلی دھاڑ اتنی شدید تھی کہ انارہ نے زوبیہ خانم کے پیچھے چھپنے میں ہی عافیت جانی۔

"ہاں! میں نے کاٹے ہیں! اور تم اس ونی میں آئی، دو کوڑی کی لڑکی کے لیے مجھ پر برس رہے ہو؟"سائرہ کی آواز بلند ہوئی تو حویلی کے ماحول پر جیسے زہر بکھر گیا۔باران نے ایک لمحہ آنکھیں بند کیں، گہری سانس لی، پھر سر موڑ کر زارا کو دیکھا جو اب بھی لرزتی ہچکیوں میں گم تھی۔ ایک پل کو وہ کچھ کہے بغیر رہا، مگر اگلے لمحے...تھپڑ!

باران کا ہاتھ بجلی کی مانند گھوما اور سائرہ کے گال پر ایسی ضرب لگا کہ وہ لڑکھڑاتے ہوئے صوفے پر جاگری۔لاونج میں ایسا سکوت چھایا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ باران... باران حیدر خان نے ہاتھ اٹھایا ہے۔شاہ میر بے ساختہ اس کی جانب بڑھا۔ اگر دیر کرتا تو شاید دوسرا تھپڑ بھی پڑ چکا ہوتا۔

"باران! ہوش کرو!"شاہ میر کی سخت آواز نے کمرے کی جمی ہوئی فضا کو  رواں کیا ۔حبہ خانم تیزی سے اپنی بیٹی کے پاس پہنچیں، جو گال پہ ہاتھ رکھے  رو رہی تھی مگر باران کا چہرہ اب بھی غصے سے سرخ تھا، آنکھوں میں آگ تھی، جیسے وہ ابھی بھی بہت کچھ کہنا چاہتا ہو، بہت کچھ کرنا چاہتا ہو...ان سب کے بیچ، اگر کوئی تھا جو اس ساری ہنگامہ خیزی کو سکون اور مکمل اطمینان کے ساتھ دیکھ رہا تھا، تو وہ حرم تھی۔دیوار سے ٹیک لگائے، وہ پورے منظر کو اس طرح ملاحظہ کر رہی تھی جیسے برسوں پرانی کسی الجھن کا کڑا حساب برابر ہوتے دیکھ رہی ہو۔ سائرہ کا چہرہ، جو ابھی کچھ لمحے قبل غرور کا مسکن تھا، اب باران کے ایک تھپڑ کے بعد شکستہ خاکے میں بدل چکا تھا۔

حرم کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ ابھری، جسے اس نے فوراً ہی ضبط کرتے ہوئے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبا لیا۔ وہ جانتی تھی سائرہ نے کب سے ہر ایک کو نفسیاتی اذیت کا نشانہ بنا رکھا ہے، مگر کوئی بھی اس کے غرور کو توڑنے کی جرأت نہ کر سکا۔ آج پہلی بار، اس کے غرور کا تاج زمین پر گرا تھا۔ اگر باران خود یہ کام نہ کرتا، تو وہ ضرور کرتی۔ اور شاید اس سے زیادہ بےرحمی سے۔

”باران! یہ کیا حرکت ہے؟ کیا یوں  گھر کی بیٹی پر ہاتھ اٹھایا جاتا ہے؟“اسماہ خانم کی ناراضی ان کے لہجے میں ڈھل گئی تھی۔ وہ باران کی سختی کو ہضم نہ کر سکیں۔ آخر سائرہ، جیسی بھی تھی، ان کی حویلی کی ہی بیٹی تھی۔باران نے ان کے اعتراض پر ایک لمحہ کو سائرہ کو ایسی نگاہوں سے دیکھا کہ جیسے صرف نظریں نہیں، آگ کے شعلے برس رہے ہوں۔ پھر ایک جھٹکے سے سر موڑا، گویا اسے کچھ کہنا ہی فضول لگ رہا ہو۔

"یہاں سے جاؤ۔ سب کے سب!"باران کا حکم سنتے ہی ملازمین نظریں جھکائے فوراً لاونج سے کھسک گئے۔

"تم لوگ بھی جاؤ۔"اس بار مخاطب اس کے بھائی تھے۔ ارمان اور زارون نے ایک دوسرے کو دیکھا، سر جھکایا، اور خاموشی سے نکل گئے۔ لیکن شاہ میر وہیں کھڑا رہا۔

"شاہ، تجھے دعوت نامہ دینا پڑے گا کیا؟"باران کے سرد لہجے میں اب تلخی شامل تھی۔

"دیکھ، باری..."

"شاہ!"شاہ میر کی بات کو درمیان سے کاٹتے ہوئے باران نے اسے دیکھا۔ وہ نظروں کا مفہوم سمجھ گیا اور بغیر کچھ کہے واپس پلٹ گیا۔اب لاونج میں صرف خواتین تھیں۔ سائرہ، جو ابھی تک گال تھامے بیٹھی تھی، باران، اور زارا...

باران نے زارا کے بازو کو نرمی سے تھامتے ہوئے اسے اپنی مورے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اس کا لہجہ اب گواہی مانگ رہا تھا، فیصلہ نہیں سنا رہا تھا۔

Click on link below to read novel 






Comments