Maa ke naram hath article by Neha Ali

صنف: منظر نگاری

عنوان:

ماں کے نرم ہاتھ

بقلم: نیہا علی

 

ماں کے سرہانے میں بیٹھی شیرین اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی تھی۔ جدائی کے درد نے امہ بیگم کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی تھی۔ وہ اپنے وقت کی باحیا، نیک اور باکردار خاتون تھیں۔ جوانی میں شوہر کا سایہ اٹھ گیا اور کچھ ہی عرصے بعد ایک بیٹا بھی دریائے ستلج کے کنارے دوستوں کے ساتھ گیا پھر واپس نہ لوٹا۔ بیٹے کی جدائی نے ماں کی کمر توڑ دی تھی، وہ دن رات غم میں نڈھال رہتی تھیں۔

شیرین اپنی مرضی کی زندگی جی رہی تھی، ماں کی باتیں اسے بوجھ لگتی تھی ۔ بھانجے سے طے شدہ رشتہ پسند نہیں تھا، ایک دن محلے کے شیبی کے ساتھ بھاگ گئی ماں کو چھوڑ کر چلی گئی-

تین سال بعد جب لوٹی تو ماں بسترِ مرگ پر تھیں۔ شیرین کی آنکھوں سے اب پچھتاوے کا سمندر بہہ رہا تھا۔ وہ ماں کے نرم ہاتھوں کو پکڑ کر لرزتی آواز میں کہہ رہی تھی "اماں مجھے معاف کر دوں میں بھٹک گئی تھی"۔ مگر ماں اس فانی دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں، اور وہ ہاتھ جو کبھی اس کا چہرہ محبت سے تھاما کرتی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Comments