Khamoshi ki cheekh article by Neha Ali

خاموشی کی چیخ

 

 چپ ہوں کہ سب بدل جائے گا،

تھک چکی ہوں کہ سب بدل جائے گا۔

کیا کروں؟ اب تو تکلیف ہونے لگی ہے،

شاید اب میں واقعی تکلیف محسوس کر رہی ہوں۔

رات بھر روتی رہتی ہوں،

سسکیاں اپنے اندر ہی چھپا لیتی ہوں۔

کیوں کسی کو میری سوجھی ہوئی آنکھیں نظر نہیں آتیں؟

کیوں میرے اپنے بھی بے خبر ہیں؟

بدنام کر رہے ہیں اپنے ہی مجھے،

میرے خون کے رشتے چپ ہیں۔

میں آخر کب تک سہتی رہوں گی اپنوں کی تکلیفیں؟

یا ربی! آپ کا تو "کن" کہنا تھا...

میں تو اندر سے مر رہی ہوں۔

لوگ غلط باتیں کر رہے ہیں،

مگر آپ نے ان کو حق دیا ہے۔

میں ہار گئی ہوں — خود سے،

اور اب خود سے ہی دور ہو رہی ہوں۔

بقلم :نیہا علی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Comments