عنوان: اقبالؒ کا شاہین اور آج کا نوجوان
از
قلم: انیسہ عامر
علامہ
محمد اقبالؒ نے مسلمان نوجوان کی تعمیرِ شخصیت کے لیے جو مثالی کردار تشکیل دیا، اسے
’’شاہین‘‘ کے استعارے میں مجسم کر دیا۔ شاہین اقبالؒ کا محض شعری پیکر نہیں، بلکہ ایک
ہمہ گیر فکری نقش ہے جو خودی، غیرت، عزیمت، پرواز، خودداری اور روحانی بالیدگی کا بامِ
عروج ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک نوجوان محض عمر کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو اگر
اپنی حقیقت پہچان لے تو اقوام کی تاریخیں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ
اقبالؒ کے شاہین کا معیار کیا تھا، اور آج کا نوجوان اس سے کتنی دوری یا قربت رکھتا
ہے؟
خودی
کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا
بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہی
خودی شاہین کی قوتِ پرواز ہے، وہ مرکز جس کے بغیر کوئی نوجوان اقبالؒ کا شاہین نہیں
بن سکتا۔ اقبالؒ کے نزدیک شاہین سب سے پہلے آزاد روح کا نام ہے۔ وہ بندگیٔ اغیار کو
اپنی پرواز کے لیے زنجیر سمجھتا ہے۔ وہ کسی کے سامنے جھک کر اپنی خودی کو پامال نہیں
ہونے دیتا۔ اقبالؒ نے نوجوان کو بار بار یہ پیغام دیا کہ اگر تم نے دنیا کے لالچ، طاقت
کے سراب اور شہرت کے فریب کو اپنا آقا بنا لیا، تو تمہاری پرواز کبھی آسمان کی بلندیوں
تک نہ پہنچ سکے گی۔
نہیں
تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو
شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
شاہین کے نزدیک رزقِ حلال کی حرمت اور خود کمائی کی عظمت بنیادی شرط ہے؛
وہ مردار پر نہیں جھپٹتا۔ آج کے نوجوان کے طرزِ زندگی میں یہ پہلو کس حد تک باقی ہے؟
معاشی دباؤ، مقابلے کی تیز دھار اور خواہشات کے بوجھ نے اسے اکثر شارٹ کٹس، دکھاوے
کی زندگی اور غیر حقیقی خواہشات کے پیچھے بھاگنے پر مجبور کر رکھا ہے۔
اے
طائرے لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس
رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
شاہین
کا دوسرا جوہر تنہائی اور خاموشی میں خود کو سنوارنا ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک بڑا انسان
شور و غوغا میں نہیں بنتا، بلکہ وہ اپنے اندر کے تضادوں کو پہچان کر انہیں فتح کرتا
ہے۔ آج کے نوجوان کا سب سے بڑا بحران یہی ہے کہ اسے اپنی ذات کے ساتھ چند لمحے بھی
میسر نہیں۔ سوشل میڈیا کی برق رفتار دنیا، لائکس اور ویوز کی دوڑ، اور دوسروں کی نظر
میں بہتر دکھنے کی کشمکش نے اسے اپنے اندر کی آواز سے دور کر دیا ہے۔ وہ خود کو دنیا
دکھانے میں مصروف ہے، مگر خود اپنے آپ کو دیکھنے کا اسے موقع ہی نہیں ملتا۔ اقبالؒ
کے شاہین کے نزدیک تنہائی کمزوری نہیں بلکہ تربیت کا میدان ہے؛ اسی پرندے کی طرح جو
اکیلا بلند چوٹیوں پر رہ کر مضبوط پروں کے ساتھ پرواز کی تیاری کرتا ہے۔
ہوائیں
تند، ہیں بجلی کی کڑک کے کھیل تماشے
شہابِ
ثاقبوں کی دل کشی ہے شاہبازوں کی
اقبالؒ
کے شاہین کا تیسرا پہلو بلند مقصد ہے۔ وہ چھوٹے خواب نہیں دیکھتا، کیونکہ چھوٹے خواب
پرواز کو چھوٹا کر دیتے ہیں۔ شاہین کی نگاہ ہمیشہ افق سے آگے ہوتی ہے۔ آج کا نوجوان
اگر اپنے مقصد کے بحران پر نظر ڈالے تو وہ دیکھے گا کہ اس کی محنت اکثر وقتی خواہشات،
عارضی کامیابی یا محض دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ تک محدود ہے۔ اقبالؒ نے نوجوان کو
اس سے بڑی دعوت دی تھی: اپنے وجود کو ایسے مقصد کے لیے وقف کر دو جو تم سے بھی بڑا
ہو، جو انسانیت کو فائدہ دے، جو اللہ کے دین اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ جڑا ہو، جو
تاریخ کا حصہ بن سکے۔ آج ضرورت ہے کہ نوجوان اپنے مقصد کا ’’وزن‘‘ جانچےاگر مقصد ہلکا
ہو تو انسان بھی ہلکا ہو جاتا ہے۔شاہین کی ایک بڑی خصوصیت خوف سے بے نیازی ہے۔ وہ طوفان
سے ڈرتا نہیں بلکہ اسی کو اپنی پرواز کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اقبالؒ کا نوجوان مشکلات
سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹتا، بلکہ وہ انہی چیلنجز میں اپنی اصل قوت دریافت کرتا ہے۔
آج کا نوجوان خوف کے کئی نئے شکلوں میں جکڑا ہوا ہے۔ناکامی کا خوف، معاشی عدم تحفظ
کا خوف، معاشرتی دباؤ کا خوف، مستقبل کی غیر یقینی کا خوف۔ اقبالؒ کا پیغام یہ تھا
کہ جسے خوف شکست دے دے، وہ پرواز کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ اقبالؒ نے نوجوان کو بار
بار یہ سکھایا کہ ایمان اور یقین ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو خوف سے نکال کر حوصلے کے
دائرے میں لے آتی ہے۔ اقبالؒ کی نظر میں شاہین وہ نوجوان ہے جو اپنی جڑوں سے جڑا ہوا
ہو مگر اپنے وژن میں کائنات کی وسعت رکھتا ہو۔ آج کا نوجوان اکثر اپنی تاریخ، اپنی
اقدار، اپنی زبان اور اپنی تہذیب سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ وہ عالمی دنیا سے تو جڑ گیا
ہے، مگر اپنی بنیادیں کمزور کر بیٹھا ہے۔ اقبالؒ نے نوجوان کو بتایا تھا کہ غلامی صرف
جسم کی نہیں ہوتی، فکر اور ذوق کی غلامی زیادہ خطرناک ہے۔ آج کا نوجوان اگر اپنے اندر
سے مغلوبیت کا احساس ختم کر دے تو وہ اپنی شناخت کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
نہ
پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدی
بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں می
شاہین
کا ایک اور پہلو عمل پسندی ہے۔ وہ لمبے وعظ نہیں سنتا، نہ کھوکھلے دعوے کرتا ہے۔ وہ
جانتا ہے کہ دنیا میں اپنا مقام محض خواب دیکھنے سے نہیں بنتا، بلکہ مستقل، مخلص اور
بے لوث محنت سے بنتا ہے۔ آج کے نوجوان کے لیے سب سے بڑا چیلنج تسلسل ہے۔ وہ جلدی نتائج
چاہتا ہے، محنت کی تلخی سے بچنا چاہتا ہے، اور اکثر دائرہ پوری کیے بغیر اگلی چیز کی
طرف بڑھ جاتا ہے۔ اقبالؒ نے نوجوان کو سکھایا کہ ’’کوششِ پیہم‘‘ ہی اصل کامیابی ہے۔
جو شخص تھک کر بیٹھ جائے، وہ منزل کے لائق نہیں رہتا۔
عمل
سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
یہ
خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
شاہین
کا دل نرمی اور دردمندی رکھتا ہے مگر خودداری پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ وہ محبت بانٹتا
ہے مگر خود کو کسی کے قدموں میں گروی نہیں رکھتا۔ آج کے نوجوان کے جذبات تیز ہیں، اس
کا دل حساس ہے، مگر اسے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مضبوط کردار وہ ہوتا ہے جو محبت اور
وقار دونوں کو یکجا کر لے۔ اقبالؒ کے نزدیک محبت خودی کو کمزور نہیں کرتی بلکہ اسے
نکھارتی ہے۔ آج کے نوجوان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محبت اگر مقصد، عزت اور کردار
سے خالی ہو تو وہ وابستگی نہیں، کمزوری بن جاتی ہے۔ آخر میں سوال یہ نہیں کہ آج کا
نوجوان شاہین ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آج کا نوجوان شاہین بننا چاہتا ہے؟
اقبالؒ نے منزل دکھا دی، راستہ سمجھا دیا، اصول بنا دیے، اور انسان کی آزادی اور خودی
کا فلسفہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اب فیصلہ نوجوان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنا مقام
آسمانوں میں تلاش کرتا ہے یا زمین پر بکھری معمولی خواہشوں میں۔ یہ دور اقبالؒ کا نہیں،
مگر اقبالؒ کا شاہین آج بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک ہی شرط ہے: نوجوان اپنے اندر کی آگ
کو جگائے، اپنی حقیقت کو پہچانے، اور اپنی ذات کو اس بلندی تک لے جائے جہاں سے دنیا
بدلتے ہوئے نظر آئے۔ اقبالؒ کا شاہین آج بھی
پکار رہا ہے:
"اُڑنے
کے لیے پنکھ نہیں، ہمت چاہیے۔"
جو
نوجوان یہ ہمت پیدا کر لے، وہی اقبالؒ کے خواب کی تعبیر بن سکتا ہے۔
نہیں
تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو
شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
****************
Comments
Post a Comment