Ankhen jo bujh gein article by Neha Ali
*آنکھیں جو بجھ گئیں*
آنکھوں
میں اب مسلسل پانی رہتا ہے۔
پہلے
میں روتی تھی، مگر اب تو رونا بھی چھوڑ دیا ہے۔
پہلے
رونے سے آنکھیں سوج جاتی تھیں،
اب
یہ مستقل بہتے پانی کی وجہ سے سوجی رہتی ہیں۔
اے
بے خبر…
کبھی
ایک بار دیکھنا،
میری
وہ آنکھیں
جنہوں
نے تیرے انتظار میں اپنی روشنی کھو دی۔
سن
لو…
آنکھیں
بند ہونے سے پہلے ایک بار دیکھ لینا،
میں
نے تیری یاد میں کتنا روئی،
کتنا
تڑپی ۔
راتوں
کا رونا…
اور
بخشش کی راتیں…
میں
نے ان میں اپنے گناہوں کی معافی نہیں مانگی،
صرف
تجھے مانگا تھا۔
آخر
میں تو مجھے اکیلا ہی رہ جانا تھا،
اور
میں…
سچ
میں رہ بھی گئی۔
ازقلم
:نیہا علی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Comments
Post a Comment