Aao ehad kren article by Abida Hussain



(آٶ عہد کریں ..........)
عابدہ حسین
٢٠١٩ہو یا گزرنے والا ہر سال ملک پاکستان میں ہرگزرتے ہو ۓ دن کے سا تھ مسلسل تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اور پرانے مساٸل  جو کہ پاکستان کے وقوع پذیر ہونے سے لے کر ابتک مو جود ہیں کے ساتھ نٸے مساٸل جنم لیتے رہے کچھ مثبت تبدیلیاں بھی ہو ٸی مگر یہ شاید کہیں چھپ کر رہ جاتی ہیں جب گھناونے مساٸل ان کی جگہ لے لیں.  آج شاید ہم میں سے ہر ایک ان مسا ٸل کا علم رکھتا ہے اور سامنا بھی کر تا ہے ہمارا پیارا پاکستان خدا داد مملکت جو قاٸم داٸم ہے اور سر سبز شاداب ہےاس لیے کیو نکہ خداداد ہے اور اس کا قاٸم رہنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
٢٠١٩میں پاکستان کو بہت سے خطرات کا سامنا کر نا پڑا جنگ کا خطرہ مہنگاٸی کی شدت یا پھر حکومت کے ڈگمگانے کے خطرات  معاشی بہران  اور لا تعداد اندرونی خطرات  جن کے حل ہونے کے بارے میں شاید ہم دعاکے سواکچھ نہیں کر سکتے ہیں مگر ہم نۓ سال کے ساتھ اپنے آپ سے ایک عہد ضرور کر سکتے اپنے اندر مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں ہم فرقہ ورانہ تعصب کو ختم کر سکتے اپنی سو چ کو بدل کر کہ میں اہل سنت ہوں تو اہل حدیث  یا اہل تو شیع سے کیوں نفرت کرو آخر میں مسلمان ہوں اور پاکستانی ہوں میں سندھی بلو چی اور پنجابی نھیں ہوں اگر میں استاد ہوں تو میں اپنے فرض سے کیوں رو گردانی کرو کیوں کسی غریب طالب علم کو یہ سوچ کر نہ پڑھاو کہ وہ مجھے فیس نہیں دے سکے گا یا پھر میں کسی یونیورسٹی کا پروفیسر ہوں تو میں محض چار ہزار یا پانچ ہزار لے کر کسی طالب علم کو نمبر دوں  اور کچھ پیسوں کے عوض اپنا ایمان بیچ دوں اگر میں طالب علم ہوں تو کیوں میں ایسے استاد کو رشوت دوں جو چند پیسوں سیے مجھے فرسٹ ڈویژن دے گا ۔ بحثیت ماں یا باپ کے کیوں نا میں اپنے بچوں کی ایسی تر بیت کروں کہ وہ سچے انسان بن سکے اور  بحثیت اس ملک کے شہری ہونے کے میں اپنے ملک کی سڑ ک پر کچرا پھیلاٶ یا پھر اگر میرا مسلمان یا کسی بھی مزہب سے تعلق رکھنے والا محتاج ہے یا محروم ہے تو میں اس کی مدد کیوں نا کروں اگر میں ایک ڈاکڑ ہوں تو میرا مقصد خدمت خلق ہو نا کو میں اپنے کلینک کے سامنے صرف چیک اپ کی فیس کی تختی آویزاں کروں یا عدم برداشت کا سا منا کروں اگر میں ایک پو لیس افییسر ہوں یا کانسٹیبل ہو ں تو  میرا مقصد حافظت کرنا ہے صرف امیروں کی یا وڈیروں کی نہیں بلکہ ہر ایک کی بغیر کسی فرق کے  ۔۔۔
ہم سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ ہمارا ملک ترقی کرے ہم آذاد ہوں تمام مسا ٸل سے ہمارے ملک میں سچ اور حق کی آواز اٹھانے والوں کی جا ن کو خطرہ نا ہو ہمیں انصاف ملے اس کے لیے ہمیں تمام تفرقات سے بالاتر ہو کر مثبت سو چ کو اجاگر کرنا ہو گا اپنی ذات سے بڑھ کر دوسروں کے لیے  اور دوسروں کے ساتھ مل کر اپنے آپ کو منظم و متحد کرنا ہے آج انڈیا جو مسلمانوں کی حالت ہو رہی ہے اس سے سبق سیکھنا ہے ایک یہ کہ انڈیا کے مسلمان تفرقات سے بالاتر ہیں اور دوسرا یہ کہ ہم آذاد ہیں دو قومیت کا شکار نہیں ہیں ہمارے آذاد رہنے کے حقوق کو سلب نہیں کیا جا سکتا اس چیز کو نعمت گردان کر ہمیں اپنےآپ کو منفی سوچ سے آذاد کرنا پڑھے گا اور اپنے لیے ایسے لو گوں کو چننا ہو گا جو سچ اور حق کی آواز کو بلند کرتے ہیں۔۔  ان طا قتوں کا مقا بلہ کرنا ہو گا جو ہیں منتشر کر کے ہمارے وجود کو کھوکھلا کرنا چاہتی ہیں ۔
آج ہم ریاستِ مدینہ کی بات کر تے ہیں ریاست مدینہ ملکِ پاکستان کو بنانے کے لیے ہم خود کتنا کردار ادا کر رہے ہیں؟؟
ہمارے معاشرے میں اگر کسی کے ساتھ ظلم و ذیادتی ہوتی ہیں تو پہلے تو اسے کوٹ کچہری سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور پھر اگر کچھ لوگ ظلم کے خلاف سر اٹھاتے ہیں تو بااثر لوگ کچھ پیسو ں کے عوض چپ رہنے کی تلقین کر تے ہیں ایسے لا تعداد  واقعات ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں جو وقتی طور پر اجاگر ہوے اور دوسر ی طرف ہماری حکومت جو کہ  کر پشن کے کیسز سے بچانے کے لیے نیے اقدامات کر تی ہے اور احتساب کی عدالت صرف چند لوگوں کے لیے قاٸم کی جا تی ہے  ۔ جبکہ یہ ہر ایک کے لیے ہو نی چا ہیے ۔۔۔  
 اور یہ تو کہا جاتا ہے کہ سردی  بہت  ہے کو ٸی غریب سڑک پر نا سوۓ اسے شیلٹر روم میں بھیجا جاۓ  سوال یہ ہے کے آپ کتنے لوگوں کو شیلڑ دیں گے اپ نے تو صرف ایک شہر کی بات کی ہو ں گی مگر پورے ملک میں ہزاروں لوگ بے گھر ہیں ان
 کا حساب آپ کو دینا پڑے گا ۔۔
نیے سال میں ایک نیے عزم کے ساتھ ہمیں اپنے آپ سے عہد کرنا ہو گا کہ ہم اپنی ذات میں مثبت پہلووں کو اجاگر کر یں اور  اس خوب صورت چمن  پاکستان کو خوشبووں اور رنگوں سے  نٸ تر نگوں اور امیدوں سے بھر دیں  اور یہ وطن جو کہ ایک تحفہ ہے اس تحفے کی حافظت کر یں اپنے حصہ کا دیا جلاٸیں  عہد کر یں کہ اپنے معاشرے سے تفرقات کو فرسودہ روایات کو اور نفرتوں کی ختم کر یں گے اور ایک نیے عزم کے ساتھ آگے بڑھیں گے خدا کر ے میرا وطن ہر نۓ سال میں تر قی کی منازل طے کر اور اس دعا کے ساتھ کی کشمیرپاکستان کا حصہ بنے آذاد ہو اور آباد ہو یہ ظلم و ستم کی وادی خو شیوں سے سر فراز ہو 
(آمین)
*********************


Comments