Nikah aur samaj article by Ramsha Shahzadi

نکاح اور سماج

حلال بمقابلہ حرام

رشتہ ازدواج اور مشکلات

أخر کیوں شادی جیسا عمل مشکل

بڑھتی ہوئ مہنگائ گھر بسانے میں تاخیر کا سبب

از قلم: رمشہ شہزادی

 

انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ محبت ، عقیدت، نفرت، احساس، عزت، ہمدردی، خودغرضی،لالچ اور ظلم اسکی جبلت میں شامل ہے۔ شائد ان تمام جزبوں کی شدت کو بھاتے ہوۓ خداۓ بزرگ و برتر نے ہر جاندار کو جوڑے کی صورت میں تخلیق کیا۔ روٹی ، رہائش اور لباس کی طرح ایک اور اہم ضرورت جو انسان کی فطرت میں شامل ہے جس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہر ذی روح اپنے اندر لے کر جنم لیتا ہے۔ اب اس ضرورت کو  پورا کرنے کے ہر خطے میں مختلف ذریعے موجود ہیں۔ مگر بحثیت مسلمان اسکے لیے شادی جیسے پاکیزہ بندھن میں بندھنا لازمی ہے۔ اپنے دل و دماغ کو اللہ کی قائم کردہ حدود تک محدود رکھنا ضروری ہے۔ خدا کے قوانین کی پابندی کرنا اہم ہے۔ مگر افسوس کہ ہم سماج نے مل کر خدا کے قوانین کو لاگو کرنا مشکل بنا دیا۔ بدلتی دنیا کے ساتھ ہم ایسے بدلے کہ زندگی جیسی نعمت کو پچیدہ بنا دیا۔

پاکستان جیسے ملک میں معاشی پسماندگی ہمیشہ عروج پر رہی۔ رشتہ ازدواج قائم کرنے کے لیے پہلے بے تکی اور بوندی قسم کی رسومات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک لڑکا جو پندرہ سے سترہ برس کی عمر میں بالغ ہو جاتا ہے۔ اسے شادی کیلیے اپنی عمر کے اگلے دس سال مزید انتظار کرنا پڑتا ہے اس فکر میں کہ ابھی وہ معاشی طور پر مضبوط نہیں۔ اعلی تعلیم مکمل کرتے بائیس برس بیت جاتے ہیں۔ پھر ملازمت ملتے اور گھر بناتے مزید پانچ سے سات برس گزر جاتے ہیں۔ اس سب انتظار میں کوئ مضبوط ایمان والا شخص ہی ہو گا جو اپنے نفس پر قابو رکھے گا اور خود کو کسی بھی غیر اخلاقی حرکت سے باز رکھے گا۔ یہ سارا انتظار اسے کیوں سونپا گیا؟ اس لیے کے وہ اچھا کماۓ ، اچھا گھر بناۓ بیوی کو بری میں دینے کے لیے قیمتی اشیاء بنواۓ، چار تولہ سونا خریدے، شہانہ ولیمہ کرے، گاڑی خریدے اور حق مہر اچھا دے۔

چلو چند لمحات کے لیے سماج کی سوچ کو ٹھیک بھی مان لیتے ہیں کہ واقع اگر لڑکا ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں تو اسے بیاہنا نہیں چاہیے۔ بیاہ جو ایک خالص مذہبی فریضہ ہے کیا اس میں سماج کی قائم کردہ رسم و رواج کو شامل کرنا چاہیے؟ لڑکا محنتی ہو، غیرت مند ہو، خوددارو باکردار ہو اور مہینہ بھر اتنا کماتا ہو کہ بیوی کی جائز ضروریات با آسانی پوری کر سکے تو کیا یہ سب کافی نہیں؟ جادو کی چھڑی تو کسی کے بھی پاس نہیں ہوتی کہ ہوا میں گھمائ اور یہ ساری فرمائشیں پوری کر دی جائیں جو سماج نے طلب کر رکھی ہیں۔ اور نا ہی ہر کسی کے پاس یہ صلاحیت ہے کے ایک ویڈیو بناۓ اور رات و رات مشہور ہو جاۓ۔ پھر آنے والے چند ایام میں اسکے پاس لاکھوں کے پراجیکٹس کی لائن لگی ہو۔  یہ انسانوں کی دنیا ہے ،محنت پسند لوگ بستے ہیں یہاں کوئ خلائ مخلوق یا روبوٹ نہیں خدارا آسانیاں پیدا کرنے والے بنیں۔

ہمارے پاس لا تعداد ایسی شادیوں کی مثالیں ہیں جو خالص مذہبی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ ہوئیں ہیں۔ چند ایک تو سوشل میڈیا پر بھی وائرل رہیں۔ مولا نا احتشام الی زھیر صاحب نے مسجد میں ایک شخص کے نکاح کے عمل کو یقینی بنوایا، ایک کلو مٹھائ اور چند کھجوریں حاضرین میں بانٹی گیئں۔ نا کوئ لمبی چوڑی برات اور نا ہی طرح طرح کے پکوان مہنگے ملبوسات ، گاڑیاں ، بینڈ باجے ڈھول اور مووی بنانے والا صرف دو لوگوں کو ملانے میں راہیں آسان کی گئیں۔ میں قطعی طور پر بھی یہ نہیں کیہ رہی کہ یہ سب نا کریں جسکے پاس استطاعت ہے وہ بخوشی کرے مگر ان سب فضول رسومات کو زندگی کا حصہ مت بنائیں۔

محدود رہیں، محفوظ رہیں

دوسری مثال انڈیا میں موجود نوجوان جوڑے کی ہے جنہوں نے محض کچھ ہی روپوں میں شادی رچا لی۔ وہ دونوں میڈیا کے لوگ تھے۔ حالانکہ میڈیا کی فیلڈ میں زیادہ موازنہ اور مقابلہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں اگر ہم ولیمے کی بات کریں تو ایمانداری سے مجھے بتائیے کیا ہم وہ تمام شرائط پوری کرتے ہیں جنکے مطابق ولیمہ ہونا چاہیے؟ کیا ہمارے ولیمے کے فنکشن میں غریب اور مسکین لوگ ہوتے ہیں؟ بالکل بھی نہیں ؛ صرف وہ لوگ جن سے ہمارے اچھے تعلقات ہوتے ہیں وہی لوگ کھانے پر مدعو ہوتے ہیں تو پھر سوچیے ہمارے اعمال خدا کے لیے ہیں یا  پھر سماج کے لیے؟

ایک اور مثال دینا چاہوں گی۔ ایک لڑکی جو کہ بالغ تھی جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور وہ اپنے ہی علاقے میں کسی شریف لڑکے کے ساتھ منسوب تھی۔ مطلب اسکی منگنی ہو چکی تھی۔ ایک روز اسکی ماں نے بنا کسی کو خبر کیے مسجد میں اسکا نکاح پڑھوا دیا اور اسے اسکے شوہر کے ہمراہ رخصت کر دیا۔ مختلف زبانوں سے مجھے مختلف قصے اور کہانیاں سننے کو ملیں کہ آخر کیوں اسکی ماں نے اچانک یہ فیصلہ لیا۔ میں ہر بار خاموش رہتی۔ ایک دن میری ایک دوست مجھ سے ملنے آئ اور اس نے بھی یہ ہی باتیں کیں۔ میں ششدر رہ گئ کہ کوئ اتنا باشعور ہو کر بھی کیسے سنی سنائ بات پر یقین کر سکتا ہے۔ میرے وہ تمام جذبات جو پچھلے کئ دن سے میں دباۓ بیٹھی تھی اسکے سامنے میں نے اگل دیے۔

میری زندگی میں اشتعال انگیز لمحات کم ہی آتے ہیں۔ مگر اس دن میرے چہرے پر اشتعال انگیزی جھلک رہی تھی۔ میں نے کہا کہ آخر کیوں لوگ دوسروں کی زندگیوں میں اتنی دلچسپی رکھتے ہیں؟ کہاں سے آتا ہے اتنا فالتو وقت انکے پاس؟ کیا انکا دماغ انہیں ملامت نہیں کرتا کسی دوسرے کی نجی زندگی سے متعلق بیٹھ کر باتیں گھڑنے سے۔ آخر کیوں ہم نے حلال کے مقابلے میں حرام کی دستیابی کو آسان ترین بنا دیا ہے اور حلال کے راستے کا کانٹہ بنے بیٹھے ہیں؟ ہماری زہر اگلنے والی زبانیں حلال کی راہ ہموار کرتے ہوۓ کیوں کٹ جاتی ہیں؟ ہمارے سازشی دماغ مثبت پہلو کیوں نہیں سوچتے؟ آخر کیوں آگ جل رہی ہے لوگوں کے قلب میں اس لڑکی کے نکاح کو لے کر کے؟ کوئ بھی کچھ بھی بکواس کیوں کیے جا رہا ہے؟ کیا یہ سب اس لیے کہ لڑکی کے گھر دوسو لوگ برآت لے کر نہیں آۓ؟ لڑکے کے گھر دو ٹرک بھر کر سامان نہیں گیا؟ برآت کی گاڑیوں کی تعداد عورتوں نے اپنے گھروں کی چھتوں پے کھڑے ہو کر شمار نہیں کی؟ حلقہ احباب کو مرغے کی بھونی ہوئ ٹانگیں کھانے کو نہیں ملیں؟ آخر اتنا غصہ ،نفرت اور مبالغہ آرائ کس لیے؟

اس سے اچھی بات کیا ہی ہو سکتی ہے کہ دو لوگ مل کر اپنا گھر بسائیں گے؟ زندگی کے دکھ سکھ ، اتار چڑھاؤ ایک ساتھ دیکھیں گے؟ مختلف مواقع پر ایک دوسرے کو تحائف دیں گے، اپنے بچوں کی اچھی پرورش کریں گے انکے لیے مصروف رہیں گے؟ چلو چند لمحات کے لیے آپ سبکی وہ بات ہی مان لیتے ہیں جسکا کوئ وجود نہیں کہ شائد وہ لوگ اپنے نفسوں پر اختیار کھو چکے تھے اور وصل کے بہت قریب تھے اس ساری بدنامی سے بچنے کے لیے انکا نکاح جلد بازی میں پڑھوا دیا گیا۔ اگر ایسا ہے بھی تھا تو اس سے اچھی بات کیا ہی ہو گی کہ مزید کسی غلطی کے مرتکب ہونے سے قبل ہی وہ ایک جائز حیثیت سےرہنے لگے۔ مطلب کہ اگر وہ اسی طرح برائ کا انتخاپ کرتے رہتے تو پھر کوئ بھی بات نہ کرتا۔ اب جب آخر کار وہ ساتھ رہنے کا فیصلہ کر ہی چکے تو سب کو اتنی پریشانی کیوں؟

لہذا پورا سوچتے ہوۓ اپنی منفی سوچوں کے بے لگام گھوڑے کو قابو کیجیے، آسانیاں پیدا کیجیے، مادہ اشیاء کی بجاۓ انسانیت کی قدر کیجیے، شادیوں میں بے تکی رسومات سے گریز کیجیے اور گھر بسائیے محبتوں اور شفقتوں کے ساۓ تلے اپنی نسلؤں کو پروان چڑھائیے۔ ایک وقت تھا جب گاؤں دیہاتوں میں ہر طرف ہریالی کے ساتھ ساتھ مکان کچے اور نیچی دیواروں والے ہوتے تھے مگر لوگ کشادہ دل ،سادہ لوح اور غیرت مند ہوتے تھے۔ مگر جب سے بجلی اور گیس کی سہولیات میسر آ گئیں لوگ ناشکرے ہو گۓ۔ رہتی کسر انٹرنیٹ گیجٹس اور سوشل میڈیا نے نکال دی۔ اب لوگ باہم محبتیں بانٹنے کی بجاۓ حریص ہو گۓ اور دیکھا دیکھی ایک دوسرے سے بڑھ کر پکے اور مزید انچے مکان تعمیر کرنے لگے۔ محض انسانیت کو اب سیمنٹ کے بنے ہوۓ گھروں کو دیکھ کر پرکھا جانے لگا۔

افسوس صد افسوس

٭٭٭٭

Comments