Aakhir kab tak Article by RabiaArshad Manj

آخر کب تک

تحریر: ربیعہ ارشد منج

"اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو"

آٹھ فروری 2024(الیکشن کا دن، فیصلے کا دن، ظلم کے خلاف،کرپشن کے خلاف،دشمنوں کے خلاف،اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے) کیا ہم یوں ہی غفلت کی نیند سوتے رہیں گے۔ آخر کب تک ؟

آخر کب تک ہمارے فیصلے باہر والے کریں گے،اخر کب تک ہمارے حکمران بیکاری بنے رہیں گے ،اخر کب تک غریب مرتے رہیں گے،ہم آزاد ہوتے ہوئے بھی غلامی کی زندگی گزارتے رہیں گے ،ہم انصاف لینے سڑکوں پہ نکلیں گے اور اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں مار دئیے جائیں گے،اخر کب تک ہمارے ملک کا حال 1947 کی آزادی سے پہلے تک والا رہے گا،کب تک مائیں اپنے لال یوں ہی روانہ کرتی رہیں گی ،کب تک ہم اپنے ہی حق سے محروم رہیں گے اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ رہیں گے آخر کب تک؟

کیا کبھی سوچا ہے ملک کا یہ حال کیسے ہوا؟ کبھی سوچا ہے کہ ہم وہ لوگ جو کشمیر کو آزاد کروانے کے نعرے لگاتے تھے آج خود کی ہی حالت کشمیریوں جیسی ہے۔ ہماری اپنی ہی فوج،اپنی ہی پولیس ،رینجرز ہم پر ہی شیلنگ کر رہی ہے۔ ہمیں مار رہی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوا ؟ کیا وجہ پیش ائی؟

بات 4 حلقوں سے شروع ہوئی دھاندلی کی سیاست کرنے والے یہ کرپٹ سیاست دان جب ان کو آئینہ دیکھایا گیا تو برا مان گئے۔ اپنے بدلے کی آڑ میں آ کر عزتیں پامال کی گئیں ۔ رات کے دو دو بجے گھروں پہ چھاپے مارے گئے ۔ یہ چار حلقوں کا قصہ اتنا طویل اور سنگین ہو جائے گا کبھی نہ سوچا تھا۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہماری عدلیہ اتنی کمزور ہےکہ ان سے یہ چند حکمران سنبھالے نہیں جا رہے۔ کیا عدلیہ بھی قید میں ہے۔ اگر یوں ہی چلتا رہا تو آج تو امریکہ والے ہم پر بس حکم چلاتے ہیں کہ ایسا کرو اسے اقتدار میں لاؤ اسے نکالو اس کی بات ہمیں پسند نہیں آئی اس کا قصہ ہی تمام کرو۔ دھمکیاں لگاتے ہیں۔ مگر اگر کل کو بھی یہ عدلیہ قید میں رہی تو اتنی قربانیاں دے کر جو ملک حاصل کیا تھا دوبارہ اسی کنارے پر آ کر کھڑا ہو جائے گا جہاں 1947 سے پہلے کھڑے تھے۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کے لئے ہماری بیٹیوں نے اپنے سہاگ گنوائیں ہیں،ماؤں نے اپنے لال گنوائیں ہیں، بہنوں نے بھائیوں کے کفن چومے ہیں۔ ہم پر تو انہی کے بہت قرض ہیں۔ اگر حکومت امریکہ نے ہی کرنی تھی تو آزادی لی ہی کیوں؟ اگر تب کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو آج کے حالات ان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ تب بھی یہی لوگ حکمرانی کر رہے تھے اور آج بھی اور ہم غریبوں کے پاس عام عوام کے پاس بچا ووٹ۔ جس کی اہمیت تو ہے مگر عزت نہیں۔ پاکستان کا جمہوری نظام ہے۔ لفظ جمہوریت معنی" حکومت کی ایسی حالت جس میں عوام کا منتخب شدہ نمائندہ حکومت چلانے کا اہل ہوتا ہے"

مگر حقیقت اس کے مترادف کیوں؟ اگر نظام جمہوری ہے تو عوام کی سنوں بھی تو۔ کیا ہم کوئی بھیڑ بکریاں ہیں۔ جو سمجھ نہیں رکھتے،شعور نہیں رکھتے ۔ ان حکمرانوں کو سارے وعدے الیکشن کے دنوں میں ہی کیوں یاد آتے ہیں۔ الیکشن سے پہلے کیوں نہیں۔ ہمارا ووٹ اہمیت کا حامل ہے یہ بات ہم جانتے ہیں اگر اہمیت نہ ہوتی تو پچھلے دو سالوں سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ نہ ہوتا۔ الیکشن کا دن انشاء اللہ انصاف کا دن ہو گا۔ مگر الیکشن سے پہلے ناانصافی کیوں؟ کیوں ملک کی سب سے بڑی جماعت کو الیکشن کمپین کی اجازت نہیں۔ کیوں اس جماعت کے لیڈر کو سلاخوں کے پیچھے رکھا ہوا ہے۔ اور فیصلے الیکشن سے چند دن پہلے ہی کیوں؟ کیا تب یہ جج حضرات سو رہے تھے جب خان صاحب کے اقتدار سے پہلے جو پارٹیاں ہم پر 35/35 سالوں سے حکمرانی کر رہیں تھیں توشہ خانہ تب بھی تھا تب احتساب کیوں نہ ہوا۔  کیا خان کو ان کی گھڑیوں اور گاڑیوں کی ضرورت تھی۔ یہ سوچ کر ان لوگوں کی سوچ پہ ہنسی آتی ہے اور ایسے کیسز پر فیصلہ سنانے والوں پر دکھ ہوتا ہے۔ ایسا شخص جس کی سیاست کو ختم کیا جارہا ہے اسے مائنس کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مگر دن بدن اس کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہ بات ان لوگوں کے لئے جو اسے ختم کرنا چاہتے ہیں خوف کی علامت ہے ۔ خان کی سیاست ختم کر بھی دیں تو اس کا نام کبھی ختم نہیں کر پائیں گے۔ نمل یونیورسٹی ،شوکت خانم، اور ورلڈ کپ اور نہ جانے کیا کیا یہ سب چاہتے ہوئے بھی ختم نہیں کر پاؤ گے ۔ فیصلہ عوام کر چکی ہے مگر سسٹم پر یقین نہیں۔ ہم پر حکمران مسلط کیے جا رہیں ہیں۔ کیا ہم اسی طرح خاموش رہ کر اپنے ساتھ ظلم ہونے دیں گے؟ کیا ہم خاموشی سے تماشہ دیکھیں گے؟ کیا جو ہماری وجہ سے ہمارے مستقبل کا سوچ کر جیل میں بیٹھا ہے۔ جس نے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی کیا اسے یوں ہی سلاخوں کے پیچھے رہنے دیں گے؟ کیا ہم ڈر جائیں گے؟ کیا ہم رک جائیں گے؟ کیا ہم ایک پلیٹ بریانی اور چند ہزار روپے میں اپنا ایمان گنوا دیں گے؟ کیا ہم سوتے رہ جائیں گے۔ نہیں اب نہیں یہ ہے فیصلے کا دن۔ اللہ سے دعا کریں کہ یا اللہ ہمیں وہ حکمران دے جو ہمارے ملک کے لئے بہتر ہو اور وہ کون ہے۔ یہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کیا جس نے ایاک نعبدو وایاک نستعین کا مطلب سمجھایا وہ ۔۔۔ یا  وہ جس نے کرپشن کی جھوٹ بولا۔ قتل کروائے،اور ہمارے ملک کو ساری دنیا میں ذلیل کیا۔ یہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے۔ نشان بدلہ ہے ایمان نہیں۔ 8فروری کو گھروں سے نکلیں۔ اپنا حق استعمال کریں۔ خود کی اہمیت کو پہچانیں۔ ووٹ امانت ہے اس میں خیانت نہ کریں۔ آپ کا ایک ووٹ ملک کا مستقبل بدل سکتا ہے۔ جو ہمارے لیے جیل میں ہے اس کو ووٹ دے کر باہر نکالیں۔ آپ کا ووٹ آپ کے لیے ہی آسانی پیدا کرے گا۔ نکلو اپنی خاطر نکلو پاکستان کی خاطر۔

٭٭٭٭٭٭٭

Comments