Sumoom un nafas Article by Aqsa Batool Hayat

﷽

 

میری یعنی اقصیٰ بتول حیات کی اب تک کی ساری زندگی کہانیاں سنتے،سناتے اور بُنتے گزری ہے۔ انسانی زخموں سے کہانیاں کشید کرنا اور پھر انہیں امید کی صورت صفحات پر بکھیرنا مجھے محبوب لگتا ہے۔ حیران کن  بات  ہے نا کہ زخموں سے امید کیسے نمو پاتی ہے۔ میں یہ ہی سمجھانے کی کوشش میں ایک لمبے عرصے سے سرگرداں ہوں۔ اب تک میری دو تحریریں (مروارید ،صبغت اللہ) اور چند آرٹیکلز منظر عام پر آچکے ہیں۔ بنیادی طور پر میرا شمار ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جع گمنام رہ کر کسی نہ کسی صورت ایک مثبت پیغام اپنے مختصر سے قارعین میں پہنچاتے رہتے ہیں۔

پڑھنے والوں سے بھی یہ ہی کہوں گی کہ امید بانٹیں غم  اور مایوسی پہلے ہی بہت ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

سُمُومُ النَّفْس

بقلم:  اقصیٰ بتول حیات

 

 

انتساب؛

 

”ان لوگوں کے نام جو اپنے اندر موجود شر سے  لڑتے ہیں یعنی خیر کی تلاش میں سرگرداں انسانوں کے نام۔“

 

کئی صدیاں قبل جن احساسات نے مخلوق خدا کو بھٹکایا تھا وہ حسد اور تکبر تھے۔ یہ حسد اور تکبر کیا ہیں؟ ہم اس پر تفصیل سے بات کریں گے اور آپ نے بہت تحمل سے آخر تک میرے ساتھ رہنا ہے ٹھیک ہے نا؟

حسد وہ قلبی بیماری ہے جس میں انسان بس ایک ہی خواہش کرتا ہے اور وہ یہ کہ جو اس کے پاس نہیں ہے وہ کسی دوسرے کے پاس بھی نہیں رہے اور تکبر کیا ہے؟ تکبر یہ ہے کہ جو دوسرے کی بڑائی ہے ہم نے وہ نہیں ماننی۔ باقی سب انسانوں میں بس ہم ہی اعلیٰ ہیں۔

مجھے تکبر اور حسد بھائی سے لگتے ہیں۔ اگر ہم بنیادی طور پردیکھیں تو تکبر ہی حسد کو جنم دیتا ہے۔ یہ وہ جزبہ  ہے جس نے انسان کو جنت سے نکلوایا اور زمین پر بھیجوا دیا۔ پھر انسان نے زمین پر جو پہلا قتل کیا تھا وہ بھی حسد کے زیر اثر کیا تھا۔ کفار مکہ اور یہود نے محمدﷺ کو اسی حسد اور تکبر کی بنا پر نبی ماننے سے انکار کیا تھا۔ آپ کو معلوم ہے وہ بہت زہین لوگ تھے۔ ان کو یہ معلوم تھا کہ نبیﷺ ہمارے لیے ہدایت کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ اس وقت آپﷺ ان کے نضدیک سب سے سچے اور امین انسان تھے لیکن وہ حاسد تھے۔ وہ لوگ تکبر میں مبتلا تھے۔ وہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی بڑائی  قبول نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے وہ حق کو قبول نہیں کرتے تھے۔

فرعون نے موسی کا انکار کیوں کیا؟ کیوں کہ وہ تکبر میں مبتلا تھا جس نے اس میں حسد کو جنم دیا تھا۔ حسد ہی وہ جزبہ تھا جس نے یعقوب کو یوسف کا غم دیا۔ قابیل سے ہابیال کا قتل کروایا۔ یہ سب سے مشہور امثال ہیں جو رہتی دنیا تک رہیں گی۔ مگر ہم ان کی جڑ پر بات کریں گے کہ مخلوق ایک دوسرے سے حسد کیوں کرتی ہے؟

ہم نادان تھے۔ ہم یہ بھول گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا، مگر ابلیس نے حسد اور تکبر کی وجہ سے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پھر اسی ضد میں اس نے انسان کے اندر لالچ کا بیچ بویا اور وہ بھٹک گیا۔ احساس برتری، محرومی، اس کی بنیاد بنے۔ اسی برتری نے شیطان کو اکسایا اور محرومی نے یوسف کے بھائیوں کے دلوں میں اسی چنگاری کو سلگایا تھا۔ االلہ نے ہمیں بہت افضل پیدا کیا ہے اور ہمیں بہت سی نعمتیں عطا کی ہیں لیکن ہم میں سے اکثریت ہر اس شے کے غم میں مبتلا ہے جو اسے نہیں ملی۔ وہ خواب جو یوسف کے بھائیوں کو بشارت نہ دے سکا اس نے ان کے احساس محرومی کو ہوا دی اور یہ محرومی حسد کی وجہ بنی۔ ہم کیوں دوسروں کی نعمتوں پر آنکھ لگائے ہوئے ہوتے ہیں؟ کیوں ہمارا دل ان چیزوں کی جانب ہی لپکتا ہے جو کسی دوسرے کی نعمت ہوتی ہیں؟ کیوں ہم لاحاصل کے پیچھے بھاگتے ہیں؟ کیوں کہ انسان نا شکرا ہے۔ وہ اپنی حاصل نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتا تو جو دوسرے شخص کوحاصل ہوتا ہے اس پر کڑتا رہتا ہے۔ ہمارا اصل کیا ہے؟ قرآن مجید اللہ کی کتاب وہ ہمارا اصل ہے۔

”وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ“

”اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف ہر گز نہ پھیلانا جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیا کی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں سے آزمائیں اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور باقی رہنے والا ہے ۔“ (سورة طٰهٰ)

یہ آیت اپنے اندر کتنی گہرائی سموئے ہوئے ہے۔ سارا قرآن ہی گہرائی لیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ اس دنیا میں کئی ارب انسان ہیں اور ہر انسان کی زندگی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ نا تو کسی کی زندگی ہم سے ملتی ہے نہ حالات ہاں کچھ قدریں مشترک ہو سکتی ہیں۔ جی ہاں ان اربوں انسانوں میں سے کوئی ایک بھی مکمل طور پر میرے یا آپ کے جیسا نہیں ہوگا نہ ہو سکتا ہے۔ اللہ نے ہر ایک کو بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ ان سب انسانوں کے پاس بہت کچھ ہوگا جو ہمارے پاس نہیں ہے اور یہ ہی سوچ ہمارے دماغ میں اٹک گئی۔ کچھ نے صبر کیا اور کچھ نے وہ نعمت دوسرے انسان سے چھن جانے کی خواہش کی اور یہ خواہش ایک بار پھر سے حسد کی بنیاد بنی۔

ہم نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ جو ہمارے پاس ہے وہ ان اربوں انسانوں کے پاس نہیں ہے۔ ان کی آزمائشیں ہم سے بہت مختلف تھیں۔

میری اس بات سے انکار مت کیجیے گا کہ ہر شخص کے پاس کچھ ایسا ہے جو کسی دوسرے کے پاس نہیں اور یہ سچ ہے۔

ہم میں سے بہت سے انسان کیا کرتے ہیں؟ وہ قبول کرنے کی بجائے بغض، حسد، عناد،تکبر جانے کیا کچھ اپنے اندر پالنا شروع کر دیتے ہیں۔  کبھی سوچا ہے کس لیے اور کیوں؟ ان چیزوں کے لیے جو ہمیں مل سکتی تھیں مگر کسی اور کو دے دی گئیں۔ ہاں مل گئی دوسروں کو مگر آپ کو کیسے پتا ہے کہ وہ دوسرا نہیں بلکہ آپ ہی زیادہ ڈیزرونگ انسان ہیں۔ جو کھو گیا وہ بس آپ کا ہی تھا ایسا کیوں لگتا ہے؟

ہابیل کی قربانی قبول ہوئی تو بہت سامنے کی بات ہے اللہ  کو اس کا اخلاص پسند آیا تھا۔

سورہ میں العراف کی وہ آیت یاد کریں جن میں اللہ نے فرمایا تھا کہ میں اپنی نشانیوں میں سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں۔ اگر وہ ہر نشانی دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہیں لاتے اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اسے اختیار نہیں کرتے۔

 ایک بارمیں کسی تفسیر میں دیکھا تھا کہ سورہ العراف کا سب سے اداس کن سبق یہ ہے کہ تکبر کرنے والوں کے لئے معجزے نہیں ہوتے۔ یہود اور دیگر کفار مکہ حق کو واقعی میں دیکھ رہے تھے۔ شیطان کو معلوم تھا کہ وہ خسارے کا سودا کر رہا ہے۔ یوسف کے بھائیوں کو معلوم تھا کہ وہ غلط کر رہے ہیں لیکن وہ تکبر کا شکار تھے۔ ان کے تکبر نے ان کو حسد میں مبتلا کیا ہوا تھا اور انہوں نے خواہش کی کہ  جو ان کے پاس نہیں وہ کسی اور کے پاس بھی کیوں رہے۔ اللہ نے ان کی بصیرت چھیں لی۔ وہ ہر نشانی دیکھ رہے تھے مگر ایمان نہیں لائے۔ وہ حق کی پہچان کھو بیٹھے اور ہدایت کے راستے سے ہٹ گئے۔ مجھے یہ آیت بہت شدت سے یاد آتی ہے۔

دیکھیں اگر یوسف کے بھائیوں کے برعکس اللہ نے یوسف علیہ سلام کو خواب میں بشارت دی تھی تو یوسف علیہ سلام میں کچھ تھا جو انہیں ایک یعقوب علیہ سلام  کی اولاد ہونے کے باوجود اللہ کی نظر میں نمایاں کرتا تھا۔ وہ جو کچھ تھا وہ اللہ کو معلوم تھا۔ اگر اتنی عبادت کے باوجود بھی انسان کو فرشتوں سے افضل کہا جا رہا تھا تو کچھ تھا جس وجہ سے اللہ نے فرشتوں کو انسان کی بڑائی تسلیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ مگر وہ اپنے حسد میں اس قدر اندھے ہوچکے تھے کہ انہیں اللہ کے پلانز پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ اللہ کے پلانز کو، اللہ کی مرضی کو قبول نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کے برعکس انسان نے اپنی سزا قبول کی۔

یوسف علیہ سلام نے اللہ کی مرضی کے سامنے سر کو جھکایا تھا تو ان کو کس قدر عزت سے نوازا گیا۔ جو اللہ کی مرضی کے آگے سر جھکاتا ہے یقین جانیے وہ بہت نوازا جاتا ہے۔ جس کو جو بھی ملا یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی، ہے اور ہمیشہ اسی کی مرضی رہے گی۔ ہمیں اس پر سر جھکانا تھا۔ ہم نے اپنے رب کے فیصلوں کی اطاعت کرنی تھی۔ کتنی دفعہ جو دوسروں کے پاس تھا اسے سوچ کر یہ خیال آیا کہ کاش یہ مجھے حاصل ہوتا ہاں ایمانداری سے ذرا سوچیں۔ آتا ہے خیال دل کرتا ہے مگر بس اتنا ہی رہتا تو شائد بہتر ہوتا۔ حسد، بغض، کینا ہم نے ان میں نہیں پڑنا تھا۔ بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی دوسرے کو اس لیے عطا نہیں ہوتی کہ وہ ڈیزرونگ ہے یا نہیں۔ بہت بار اللہ کو ہمارا امتحان لینا ہوتا ہے۔ وہ لے کر بھی آزمائے گا اور دے کر بھی آزمائے گا۔ ہم نے یہ ہرگز نہیں بھولنا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سارے فیصلے میرٹ پر ہی ہوتے ہیں۔ بعض دفہ کچھ ہاتھ میں آکر چلا بھی جاتا ہے تو وہ آزمائش ہوتی ہے۔ کیا معلوم اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہ رہا ہو کہ میرا یہ بندہ اس بار اب کیا ردعمل دیتا ہے۔ اللہ کو سب معلوم ہے مگر وہ ہمیں موقع دے رہا ہوتا ہے۔ جو آپ کے پاس ابھی ہے نا وہ بہترین ہے۔ وہ ہی باقی رہنے والا ہے جو اللہ نے آپ کے حصے میں آپ کو دیا ہے یا دے گا وہ ہمیشہ رہنے والا ہوگا۔ اس میں ڈھیروں خیر ہوگی ، نفع ہوگا، بھلائی ہوگی۔ اللہ کی بات سے زیادہ سچی کسی کی بات نہیں ہے۔ اس میں بھلائی ہوگی ضرور ہوگی۔ بس آپ نے یقین کر کے اس کو تلاش کرنا ہے۔ ہم نے حسد میں نہیں پڑنا، کسی کی نعمت چھن جاتے کوئی زوال پزیر ہو یہ ہمارا رویہ نہیں ہونا چاہیے۔

اس کے برعکس غبطہ یعنی رشک کرنا جائز ہے۔ غبطہ یعنی رشک کیا ہے؟ کسی کے پاس کچھ اچھا دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ اللہ مجھے بھی ایسی نعمت، ایسا بخت عطا فرمائے۔ یہ ہمارے دین میں جائز ہے۔ اگرآپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو آج میرے ساتھ ایمانداری سے خود پر غور کریں کہ کتنی بار کسی کے پاس آپ سے زیادہ علم تھا اور آپ نے اس کی عزت کرنے کی بجائے اپنے حاسد جزبات کو ترجیح دی تھی۔ کئی بار ہمیں معلوم بھی ںہیں ہوتا اور ہم

بلاوجہ دلوں میں خوب کڑتے رہتے ہیں۔ آپ کے اپنے کئی دوست ہوں گے جن کی کئی بار آپ نے مدد کی ہوگی۔ کئی بار اپنے علم سے ان کی بجھتی زندگیوں میں دیے جلائے ہوں گے۔ لیکن بدلے میں ان ہی لوگوں نے آپ کا احسان ماننے کی بجائے دل دکھایا ہوگا۔ ہم سب نے اپنے اردگرد ایسے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اکھٹی کر رکھی ہے جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ یہ کبھی بھی ہماری کامیابیوں سے خوش نہیں ہوں گے۔ ان کے  دلوں میں ہمارے لئے شر ہے، بغض ہے لیکن پھر بھی ہم ان سے چپکے ہوتے ہیں کیوں کہ ہمارے اندر اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ کسی کو چھوڑ پائیں۔ اگر آپ میں حسد نامی برائی ہے تو اس پر کام کریں لیکن اگر آپ کے گرد کسی انسان میں ہے اور آپ کو معلوم ہے تو دور ہوجائیں۔ یقین رکھیں  اگر آپ صفات یوسف علیہ سلام کو اپنائیں گے تو یوسف کے کنویں کے پاس عزیز مصر کا قافلہ بھی ضرور گزرتا ہے۔

ایک حاسد انسان ہمیشہ زہنی خلفشار کا شکار رہتا ہے۔ اس کا دل ایک بیمار انسان کا دل ہوتا ہے۔ اس کے پاس سکون نہیں ہوتا۔ میں آپ لوگوں کو ایک اور عجیب بات بتاتی ہوں اور وہ یہ کہ جو انسان دوسروں کی نعمتیں چھن جانے کی خواہش رکھتا ہے اس کے پاس پھر رہتا اپنا بھی کچھ نہیں ہے۔ ایک دیمک لگی لکڑی کی طرح وہ اندر سے خود کو خود ہی ختم کر رہا ہوتا ہے۔

چلیں میں آپ کو ایک واقعہ سناتی ہوں جو کہ میری زاتی زندگی سے ہے۔ ایک دفعہ کسی شے کو لے کر میں بہت دکھی تھی۔ کچھ ایسا تھا جو مجھے مل رہا تھا لیکن میرے انکار پر وہ شے کسی اور کو مل گئی تھی۔ یوں سمجھیں کسی اور کے پاس چلی گئی تھی۔ کافی

عرصے بعد وہی چیز میری نظروں سے گزری تو مجھے اداسی محسوس ہوئی۔ یوں سمجھ لیں شائد تب حالات ایسے تھے کہ مجھے اس شے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ اس دن اچانک سے میرے سامنے وہ آیات آئی تھیں اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف ہر گز نہ پھیلانا جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیا کی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں سے آزمائیں اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ کتنے لمحے میں شل سی بار بار پڑھتی جا رہی تھی۔ ہاں وہ شے جسے میں نے لینے سے انکار کیا تھا جس کے پاس بھی اب وہ تھی فلحال بڑی اچھی حالت میں تھی۔ میں سوچنے لگی کاش میں اس وقت انکار نہ کرتی تو آج یہ مجھے حاصل ہوتی میرے کتنے مسائل حل ہو چکے ہوتے یہ محض ایک سوچ تھی بس وقتی سوچ اور بس پھر ختم۔ وہ شے جو بھی تو وہ میری آزمائش تھی ۔ بھلے بعد میں مجھے افسوس ہوا ہو مگر آج بھی مجھے اپنے اس فیصلے کا احترام ہے۔ اس کا اجر مجھے اللہ دے گا اور بس ایک سوچ کے بعد میں مطمئن ہوں کہ کیا پتا وہ میری آزمائش ہو؟ اور میں نے اپنے نفس پر اللہ کے حکم کو ترجیح دی ہو اور کیا معلوم یہ بھی آزمائش ہو کسی اور کے پاس دیکھ کر میرا کیا رد عمل ہوگا؟

میں چاہتی تو حسد کا شکار ہوتے اس شے کا پیچھا کرتی۔ ہم انسان یہ ہی تو کرتے ہیں خواہشات کا پیچھا کرنا۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کیا معلوم دنیا میں بہت سی چیزیں جو دوسروں کے پاس ہوں جن پر ہماری نظر لگی ہو وہ سب آزمائے جا رہے ہوں۔ 

ہم نے اس پر آنکھ نہیں رکھنی تھی جو دوسروں کے پاس ہے نہ ہی اس پر جو ہمارے ہاتھ سے پھسل کر کسی اور کے پاس چلا گیا۔ وہ سب اب سے بس اللہ کے سپرد ٹھیک ہے نا۔ ہمیں تو بس اپنے امتحان میں سرخرو ہونا ہے۔ ہم نے بس اپنی راہ پر چلنا ہے۔ وہ راہ جسے اللہ نے ہمارے لیے واضع کیا ہے۔ جو کچھ اس زمین پر کھوگیا ہے کیا وہ ساتھ لائے تھا؟ آگر آپ سے کھوگیا ہے تو کیا یہ اللہ کی مرضی نہ تھی۔

ہابیل کی قربانی قبول ہوئی ہے تو آپ نے کسی کے لئے قابیل نہیں بننا۔ قابیل ہونا زلت ہے برائی ہے، نری جہنم ہے۔ آپ نے وہ اچھا خواب سن کر یوسف کے بھائیوں جیسا سلوک نہیں کرنا۔ آپ نے حسد میں اندھے ہوکر کسی کے لئے اندھا کنواں نہیں کھودنا تھا اور جن لوگوں کے لئے  کنواں کھودا گیا ہے ان کے لئے تو عزیزمصر کا قافلہ آئے گا اور ضرور آئے گا۔ یقین جانے جن لوگوں کی نعمتوں سے آپ حسد کرتے ہیں انہیں یہاں تک پہچنے میں بہت سے صحرا پار کرنے پڑے ہوں گے۔ بھلا آپ کو اور مجھے کیا ہی معلوم ہوگا۔

ہمارے معاشرے میں آج کئی گھر تکبروحسد کے باعث تباہ ہو رہے ہیں۔ انسان اپنی لگائی گئی آگ میں خشک لکڑی کی مانند سلگتا رہتا ہے۔ اس کے پاس سکون نہیں ہے۔ بس ایک تباہکن جزبہ ہے جو اسے اللہ کی رحمت سے دور جادوگروں کے در پر پھینک دیتا ہے۔

آپ کو پتا ہے حسد اتنی بری بلا ہے کہ ہمارے پیارے نبی کریمﷺ اس کو بہت ناپسند کرتے تھے۔

”تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن (لکڑی) کو کھا لیتی ہے۔“

حوالہ:سنن ابو داؤد، حدیث نمبر: 4903

کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کی اتنی محنت سے کمائی گئی نیکیاں ضائع ہوجائیں۔ آپ کے اعمال ڈوب جائیں اور آپ آخر میں خالی ہاتھ کھڑے ہوں؟ نہیں نا۔۔۔۔۔

ہمارے نبیﷺ سے زیادہ کسی اور کی بات سچی نہیں ہو سکتی۔ مجھے تو اس انسان پر ترس آتا ہے جو خود اپنے ہاتھوں  سے اپنے دل کو کسی اندیکھی آگ میں پھینکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہم سب اپنے پسندیدہ گناہوں میں مگن ہیں۔ ہم نے کئی ایسے گناہ تھے جنہیں ترک کیا تو کسی اور شکل میں پھر اختیار کر لیا تھا اور دور اندر حسد بھی کرتے تھے ہیں نا؟

کہتے ہیں اعتراف کا لمحہ عزاب کا لمحہ ہوتا ہے بلکل درست کہتے ہیں۔ آپ کے دل میں اگر کسی کے لئے رقابت تھی تو کسی کے سامنے جاکر اعتراف نہیں کرنا۔ بس آپ نے خود سے اعتراف کرنا ہے۔ خود سے سچے ہونا ہے۔

آپ میں سے اب بہت سے لوگ یہ سوچتے ہوں گے کہ آخر حسد اور تکبر سے کیسے بچا جائے؟

میری ایک بات یاد رکھیے گا اپنے دل کو اللہ کی تقسیم پر راضی کرنا سیکھائیں۔ جب آپ کا دل اللہ کی تقسیم پر راضی ہونا سیکھ جائے گا تو آپ کے دل وہ شے نہیں سلگائے گی جو کسی اور کے پاس ہے۔ وہ شے بھی جو کبھی آپ کی تھی اور اب آپ کی نہیں ہے اس پر آپ کا دل مطمئن ہوتا چلا جائے گا۔ ہمیں یقین ہے نا کہ اللہ کو ہم سے زیادہ معلوم ہے۔ اللہ کے پلانز ہمارے  پلانز سے زیادہ  بہترین ہیں۔

صبر اور تقوی  اختیار کرنا سیکھیں۔ جن لوگوں سے رقابت محسوس ہو ان کی تعریف کریں۔ ان کو تحائف دیں۔ ان کی عزت کریں۔ ہم انسان ہیں ہوجاتا ہے لیکن مایوس نہیں ہونا۔ اللہ سے توبہ کرتے رہنا ہے۔ وہ سب جو حاصل ہے یا

لاحاصل تھا وہ ہمارے امتحانات تھے بس یہ ہی سمجھ لیں۔ مگر ایک اور بات یاد رکھیں ہمارا رب کوئی ایسا خدا نہیں جس کو صرف ہماری آزمائشوں سے یا نیکیوں سے مطلب ہو۔ وہ ہر حال میں آپ کے اور میرے ساتھ ہوتا ہے اور ہمیشہ بس وہی رہے گا۔ اگر کچھ لیا جاتا ہے نا تو وہ بھی کچھ سیکھانے کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ کو دل سے سمجھیں گیں ناں تو چیزیں آسان ہونے لگیں گی۔ میری ایک ریڈر کہتی ہیں انہوں نے پرندوں سے توکل سیکھا ہے۔ پرندوں کو نہیں معلوم ان کا رزق کہاں ہے؟ مگر وہ اللہ پر بھروسہ رکھتے سیدھی راہ پر چلتے ہیں۔ وہ اپنے حصے کا بہترین رزق پاتے ہیں۔

میری ایک بات یاد رکھیے گا جو آپ کے حصے کا ہے۔ آپ کے رب نے جو آپ کا رزق رکھا ہے وہ خیر سے بھرا ہوگا۔ وہ آپ کو حیران اور خوش کر دے گا۔ اس لیے آپ نے یا میں نے وہ نہیں کرنا جو گناہ ہے۔ جسے کرنے سے ہمارے رب نے ہمیں منع کیا ہے۔ ہمیں خود کو روکنا ہے۔ ہم دوسروں کو جج نہیں کریں گے۔ ان کے پاس جو ہے اس پر آنکھیں نہیں گاڑیں گے۔ ہم حسد نہیں کریں گے۔

ہم وہ نہیں کریں جو دوسرے لوگ اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے کر رہے ہیں میرے بات آرہی ہے نا سمجھ ۔ ہم سیدھے راستے پر چلیں گے۔ کبھی کبھار لکیر ٹیڑھی ہوگئی،  دل تھکے گا بھی تو خیر ہے ہم پھر سے توبہ کریں گے۔ ہم اپنے رب کی جانب سے ان چیزوں کے ملنے کی امید اور انتظار رکھیں گے جو ہمارے حصے کی ہوں گی۔

ہم ان کے لیے محنت وکوشش  کریں گے۔ مگر کچھ لاحاصل رہا تو اس پر صبر کریں گے اور اسی میں اپنی توانائی صرف کریں گے۔ ہم انسان ہیں ہوتا ہے بعض دفعہ ہم کرجاتے ہیں لیکن اب سے ہم ہر اس شے کے غم میں مبتلا نہیں رہیں گے جو ہمارے لئے نہیں تھی جو چھن گئی تھی۔ ہم نے دلوں کو شر سے بھر لیا تھا اور ہم اپنی روشنی کھوتے جا رہے تھے۔ ہمیں یہ سب نہیں کرنا تھا اور ہم اب سے نہیں کریں گے۔

ہم آدم علیہ سلام کی اولاد ہیں۔ ہمیں بہت باعزت پیدا کیا گیا ہے۔ اپنی عزت خراب کرتے ہمیں شیطان کی راہ پر نہیں چلنا۔ وہ  تو ازل سے ہمارا دشمن ہے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ ہم اس سے دوستی کریں۔ تو کیا آپ اس سے دوستی کریں گے؟

نہیں ناں۔۔۔۔۔

اب سے ہم کسی نعمت دیکھ کر

 چھن جانے کی دعا نہیں کریں گے۔ میرے ساتھ دہرائیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے یقین ہے کچھ ایسا ہے

جو صرف میرے پاس ہے

وہ کسی اور انسان کے پاس نہیں، اربوں انسان اس سے محروم ہیں اور محروم رہیں گے

کیونکہ وہ میرے رب کی طرف سے میرا ہے۔

ہاں۔۔۔۔۔۔۔

جو ان اربوں انسانوں کے پاس ہے، وہ میرے پاس نہیں ہے

ہو بھی نہیں سکتا

شائد ہر انسان کے پاس وہ ہے

جو کسی دوسرے انسان کے پاس نہیں

وہ کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟

یہ تو منحصر ہے

تلاش کرنے والی آنکھ پر

تو پھر کیوں میں اپنی آنکھیں

ان چیزوں یا لوگوں پر گاڑوں

جو میرے پاس نہیں ہیں

کیوں اپنی توانائی ضائع کروں

ان کی حسرت پر

کیا یہ بہتر نہیں کہ

میں حکم ربی مانتے

اپنے حصے کے، بہتر اور

باقی رہنے والے

رزق کی تلاش کروں

میں خود کو رقابت سے بچاؤں

کہ یہ میرے رب کو پسند نہیں

اور مجھے اپنے رب کی پسند

ہر شے بڑھ  کر عزیز ہے۔

آفیت میں رہیں۔

اقصیٰ بتول حیات

@aqsabatoolhyyat

٭٭٭٭٭٭٭

Comments