Mard Article by Hafsa Umer

مرد

حفصہ عمر

آخر مرد ہونا کہتے کیسے ہیں؟

 

ہمارے معاشرے کچھ مردوں کا طبقہ جو خود کو مرد کہتے کیا وہ واقعی مرد ہیں ....

 

یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہت دنوں سے میرے ذہن میں گردش کر رہا ہے دنوں سے نہیں شاید سالوں سے الفاظ آج ملے ہیں اس کو ۔۔

 

دیکھا جاے تو جو ہمارے معاشرے نے اس کی روایات اس کے  نظریات اور اس کی تعلیمات نے جو کچھ  ہمیں بتایا، جو اس معاشرے کے مردوں نے خود ہمیں بتایا اپنے رویے سے اور جو قرآنی تعلیمات اور اسلامی تاریخ، اسوا رسول اور صحابہ کرام نے جو بتایا اس میں تو بہت تضاد  پایا جاتا ہے ۔۔

اللہ نے مرد کو بہت خوبصورت بنایا ہے۔ اپنا نائب مقرر کیا ہے ۔

 

لیکن یہ ہیں کہ ان کو پتا ہی نہیں کہ وہ ہیں کیا۔۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بنایا کیا ہے انہیں کیا مقام دے دیا ہیے ۔۔

 

انہیں یہ سب کیوں نہیں پتا؟

 

 انہیں یہ سب کیوں نہیں پتا؟؟ کیوں ہم نے ان کی تربیت ہے زور نہیں دیا؟؟ ہم نے اپنی ساری توجہ  لڑکیوں کی تربیت پر مبذول کردی ؟؟  ہم اخلاقیات کی تعلیم لڑکوں کو  نہیں دیتے ؟  ہم  اپنے  بیٹوں کو نہیں  بتاتے  کہ گھر کیسے بسانا ہے،  ہم اپنے  بیٹوں کو  نہیں سکھاتے  کہ بیوی کی عزت کرنی ہے، اس کا مقام کیا ہے، کیوں ہم اپنے بیٹوں کو یہ نہیں بتاتے کہ وہ  بھی انسان ہے؟؟؟ کیوں آخر ہم یہ کیوں نہیں کرتے؟؟؟

 

مردانگی

 

مردانگی یہ ایک ایسا لفظ ہیں جس سے مجھے نفرت ہے۔

کیونکہ یہ وہ لقب ہے ، خطاب ہے یا مقام ہے جو اس معاشرے نے مردوں کو دیا ہے ۔ اور جس کی قیمت اس معاشرے کی عورتوں نے چکائی ہے۔ کیوں کے اس معاشرے کے مردوں نے خود کو مرد ثابت کرنے کے لیے عورت ذات کا ہی استمال کیا ہے۔ اپنے سے منسلک عورتوں کی تذلیل کر کے اُنہیں مار پیٹ کے اُنہیں گالیاں دے ان کا حق کھا کے۔ ان کے جائز حقوق سے انہیں مرحوم کرکے۔۔

میں اکثر سوچتی ہوں کہ کیوں خود کو خود تباہ کیسے کر سکتا ہے اور پھر اپنے ہاتھوں سے کی گئی اپنی تباہی پے فخر کیسے؟؟

 

کیا انہیں نہیں پتا کہ جب وہ یہ سب کرتے ہیں تو خود کی توہین کرتے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا مذاق اڑاتے ہیں ۔۔

کیا انہیں نہیں پتا ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا گیا ان کا مقصد کچھ اور ہے۔۔

 

یہ خود کو مرد کہتے ہیں اور اپنے اس عمل ہے فخر بھی کرتے ہیں ۔۔ جبکہ یہ تو ایسا عمل ہے جو ان کو مرد نہیں جانور ثابت کرتا ہے ۔ جو فخر کا نہیں شرمندگی اور رسوائی کا مقام ہے۔

اگر میں یہ کہوں کی ہمارے معاشرے کے مردوں نے اپنا مقام اپنی حقیقی پہچان اپنا آپ خود تباہ کیا ہے تو غلط نہیں ۔۔

لیکن یہ کر بھی کیا سکتے ہیں جب انسان کو اپنی ہی پہچان نہ ہو تو وہ یہی کرے گا نہ ۔۔۔

 

مردانگی نہیں وحشیت

 

ہمارے معاشرے کے مرد جو کر رہے ہیں وہ مردانگی نہیں وحشیت ہے۔ عورت کو مارنا گالی دینا، اسے رسوا کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس پے الزامات لگانا، اس کو اپنی جاگیر سمجھنا اور جو دل میں آے ویسا سلوک کرنا، یہ وحشی پن نہیں تو اور کیا ہے۔

ہمارے معاشرے کی کچھ مرد اس طرح کہ ہیں کہ اُنہیں کوئی لحاظ نہیں کہ سامنے موجود عورت کے ساتھ ان کا رشتہ کیا ہے، انہیں فرق پڑتا ہے تو صرف اپنی ذات سے ، اپنی آنا کی تسکین سے۔ میں نے مردوں کو اپنی ماؤں بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں سب کو مارتے، گالی دیتے دیکھا ہے۔ جو مرد وحشی ہو جاے پھر اس کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا اس کے سامنے موجود عورت کے ساتھ اس کا رشتہ کیا ہے اس عورت کا مقام کیا ہے۔۔

 

ہر بیٹی کے لیے اس کا باپ ہیرو نہیں ہوتا، ہر بیٹی کے لیے اس کا باپ اس کی پہلی محبت نہیں ہوتا ۔ کچھ بیٹیوں کے لیے ان کے باپ ان کی ذہنی اذیت کا باعث بھی ہوتے ہیں۔ ان کے باپ ان کے پہلے انگزایٹی اٹیک کی وجہ بھی بھی ہوتے ہیں ، ہر لڑکی کے لیے اس کا بھائی ہیرو نہیں ہوتا، اس کی عزت کا محافظ نہیں ہوتا ، کچھ لڑکیوں کے بھائی ان کو خود رسواء کرتے ہیں ان کے کردار ہے الزام لگاتے ہیں ان کو ذلیل کرتے ہیں ۔

 

ہر عورت کا شوہر اس کی شفا نہیں ہوتا کچھ شوہر ان کے لیے اندیکھا زہر بھی ہوتے ہیں، ایسا زہر جو آہستہ آہستہ ان کے جسم میں سرایت کر جاتا ہے اور اسے اندر ہی اندر ختم کر رہا ہوتا ہے اور اس کے دریاک کی دوا ہے تو سہی لیکن اس کا دریاک اس زہر سے زیادہ خطرناک ہے ۔ وہ زہر اسے روز آہستہ آہستہ مارتا ہے اور اس طرح کی عورت ختم ہو رہی ہوتی ہے مگر اس کے علاؤہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ مگر اس کا دریاک اس قدر خطرناک ہے کہ یہ معاشرہ ایک ہی جست میں اس عورت کے سینے میں رسوائی اور تنہائی کا خنجر گونپتی ہے کہ وہ عورت اپنی نظروں سے گر جاتی ہے بے قصور ہونے کی باوجود وہ خود کو قصوروار سمجھتی ہے۔

اور اس سے اذیت ناک بات کیا ہو گی کہ آپ کے زندگی تنگ کر دی جائے اور آپ موت کی خواہش کر اور موت بھی آپ پر مہربان نہ ہو

اس سے بڑ کے خسارہ کیا ہو سکتا ہے موت جو ایک نعمت ہے جو اس دنیا کے عذاب سے رہائی کا ذریعہ ہے وہ بھی آپ سے بے وفائی کر جاے اس کو بھی آپ ہے رحم نہ آئے ۔۔

 

ہر ماں کے لیے اس کا بیٹا بڑھاپے کا سہارا نہیں ہوتا کچھ بیٹے اپنی ماؤں کے لیے عذاب سے کم نہیں ہوتے۔

اور بڑھاپے میں اپنے بیٹوں کے ظلم سے روتی ہوئی ماں سے بڑھ کے مظلوم اور بےبس کوئی نہیں ہو سکتا، جس نے اپنی زندگی ان کو جوان کرنے میں لگا دی ہو، اور وہ جوانی کے غرور اور مردانگی کے نشے میں ان کی روح کو چھلنی کر دے ان کی رعاضتوں کو جٹھلا دے۔۔۔

 

اس سے خوفناک منظر اور کیا ہو سکتا ہے ایک ماں کے لیے کہ وہ جو  چھوٹے، نرم ہاتھ چوما کرتی تھی وہی ہاتھ بڑے ہو کے اس کے چہرے کو نوچ لے اس کے اسی ہونٹوں اور گالوں پے تھپڑ مارے جن ہونٹوں سے وہ ان ہاتھوں کو چوما کرتی تھی اور اپنی گالوں پے لگایا کرتی تھی ۔۔

ماں کے جھریوں زدہ چہرے پے جوان بیٹے کے تھپڑ کے نشان کسی عذاب سے کم نہیں۔۔۔

یہ عمل کسی وحشی جانور کے اپنے شکار کا گوشت نوچنے سے زیادہ وحشت ناک ہے۔

کیوں کے وہ گوشت کو نوچتا ہے اور وہ اس کی خوراک ہے لیکن عورت مرد کی خوراک نہیں اس کا وجود اس لیے نہیں، کہ وہ اس کو نوچ نوچ کے کھائے اور اپنی آنا کی تسکین کرے، اپنی مردانگی کا پیٹ بھرے۔

مرد جب عورت پر چیختا ہے، اسے گالی دیتا ہے اس کے کردار پر الزام لگاتا ہے اس سے وحشت ناک آواز اس دنیا میں نہیں ۔ مرد جب اور کو مارتا ہے اس کی روح کو زخمی کرتا ہے اس کے جسم کو نوچتا ہے اس پے تیزاب پھینکتا ہے مرد سے زیادہ بدصورت غلیظ اور وحشی اس دنیا میں کسی نہیں ہوتا ۔۔۔

 

اس کی وجہ کیا ہے۔۔

 

ہم اکثر دیکھتے اور سنتے ہیں کہ مرد یہ ہیں مرد وہ ہیں ان کے لیں عورت کی ذات کچھ بھی نہیں لیکن ہم نے کبھی غور کیوں نہیں کیا کہ اس کی وجہ  کیا ہے ؟ ۔۔

 

کیا اس سب کا قصوروار صرف مرد ہے۔

نہیں!

ہمارا معاشرہ

 

 ہمارا معاشرہ، اس کی غلط رسومات اور بگڑی ہوئی تعلیمات نے مردوں کو یہ غلط "شہ" دی ہے۔ انہیں یہ سکھایا گیا کہ "طاقت ہی حق ہے۔ عورتوں کو کنٹرول میں رکھنا ہی مردانگی ہے۔" 

 

ہمارے ہاں عزت کا پیمانہ ہی یہ بن گیا ہے کہ کون اپنی عورت، بہن یا بیٹی پر کتنا "رعب" جما سکتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ محفلوں میں فخر سے کہا جاتا ہے: "میں نے اپنی عورت کو دبا کر رکھا ہوا ہے۔"

 

نفسیات اسے *Social Learning Theory* کہتی ہے، جسے *Albert Bandura* نے پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق بچہ وہی سیکھتا ہے جو وہ اپنے اردگرد دیکھتا ہے۔ لڑکا اپنے باپ، چچا، بڑوں کو دیکھ کر "مرد" بننا سیکھتا ہے۔ 

 

اور جب گھر کے بڑے ایک لڑکے کے چیخنے، دھمکانے یا بدتمیزی پر "واہ بیٹا،  شاباش یہ ہوی مردوں ہوالی بات" کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، تو ہم پچپن سے ہی ایک ظالم کی تربیت شروع کر دیتے ہیں۔

 

ہماری مائیں

 

مائیں ہی پہلی استاد ہیں۔ اور جب تربیت میں تعصب آ جائے تو پوری نسل خراب ہو جاتی ہے۔

 

 ہماری مائیں اپنے ہی ہاتھوں سے تعصب کا بیج بوتی ہیں۔ وہی ہیں جو شروع دن سے اپنے بیٹوں کو اپنی بیٹیوں پر فوقیت دیتی ہیں۔ ہماری مائیں اپنے بیٹوں کی غلطی پر انہیں ڈانٹنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ 

بچپن میں جب کھیل کے دوران بھائی اپنی بہن کو مارتا ہے تو مائیں اپنی بیٹیوں کو یہ کہہ کر چپ کروا دیتی ہیں: "کچھ نہیں ہوتا، بھائی ہے تمہارا۔" 

> لیکن اگر وہی بہن بھائی سے اونچی آواز میں بات بھی کر لے، تو یہی مائیں اس بچی کو ڈانٹتی ہیں۔ 

 

یہ ہماری مائیں ہی ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو سکھایا ہے کہ "تمہارے لیے سب جائز ہے، کیونکہ تم مرد ہو۔" ہم چھوٹی عمر سے ہی بیٹوں کی تربیت کرنے کی بجائے بیٹیوں کو ان کے ساتھ غلط رویے پر "صبر" کی تلقین کرتی ہیں۔ 

 

ہماری مائیں ہو ہیں کہ جب ان کا شوہر ان کی بیٹی کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی بیٹیوں کو یہ کہہ کر خاموش کروا دیتی ہیں کہ باپ ہے تمہارا کچھ نہیں ہوتا۔ اور ان کے اس عمل کو جسٹیفائی کرتی ہیں ۔

ہمارا معاشرہ اور اس کی مائیں وہ ہیں جب عورت پر اس کا شوہر ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے یہ کہہ کہ خاموش کروا دیتی ہے کہ گھر بساؤ ۔۔ ہم عورتیں خود بھی مردوں کو اس نہیج پر پہچانے کی زمہ دار ہیں ۔۔

چلو انہوں نے سیکھ لیا مارنا پیٹنا چیخنا چلانا لیکن ان کو اس کی شہ کس نے دی کہ وہ دھڑلے سے یہ سب کرتے پھر رہے ہیں اور ان کو کوئی روکنے والا بھی نہیں اور دلیری تو دیکھوں ان کی ان کی نظر میں یہ ضروری ہے

 

نتیجہ؟

ہماری ماؤں کے بیٹے اونچی آواز میں بول بھی سکتے ہیں، گالی بھی دے سکتے ہیں، بہنوں پر ہاتھ بھی اٹھا سکتے ہیں، چیخ چلا بھی سکتے ہیں، اور اپنی پسند کا کھانا نہ ملنے پر واویلا بھی مچا سکتے ہیں۔ 

کیوں

 

 کیونکہ وہ ہماری ماؤں کے بیٹے ہیں۔ وہ لڑکے ہیں۔ انہیں "مرد" بننا ہے

ہماری مائیں وہ ہے جو اس معاشرے کی فاسودہ روایات میں جکڑی ہوئی ہے۔ اتنی زیادہ کمزور اور خوفزدہ ہو گئی ہے کہ اُنہیں یہ سب غلط لگتا ہی نہیں اگر لگتا بھی ہے تو آواز نہیں اٹھاتیں۔۔

 

مرد خود۔

اس میں کوئی جھوٹ نہیں کہ ہمارا معاشرہ اور مائیں مردوں کی غلط تربیت کرتیں ہیں، لیکن سارا قصور ان کا ہی نہیں۔ ہمارے مردے کو باپ ہیں چچا ہے اور گھر کے سربراہان ہیں وہ ہی تو جڑ ہیں۔ جو بچوں کو کر کے دیکھاتے ہیں اس طرح مارتے اس طرح گالی دیتے اس طرح عورت کی تذلیل کرتے ہیں۔ اگر ہمارا معاشرہ حکم دیتا ہے اور مائیں موقع دیتی ہیں تو یہ مرد یہ بزرگ تربیت دیتے ہیں ٹرین کرتے ہیں سکھاتے ہیں ۔ خود کر کے بتاتے ہیں اور بچوں کے عمل ہے ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں ۔

اور مرد خود۔۔۔

یہ بھی کوئی اتنے معصوم نہیں ہیں کہ کوئی ان کی انگلی پکڑ کر کنویں میں دھکا دے اور یہ چپ کر کے گر جائیں ۔

نہیں!

 اللہ نے انہیں عقل دی ہے، شعور دیا ہے، گھر کا سربراہ بنایا ہے، حکومت دی ہے۔

انہیں یہ پتا ہے کہ ٹک ٹاک ہے بیٹھ کے ویڈیوز بنانی ہے، فیشن کرنا گھومنا ہے عورتوں کو کنٹرول کرنا ہے، ہر چیز کا پتا ہے لیکن اس چیز کا نہیں پتا کہ جو یہ کر رہے ہیں وہ غلط ہے گناہ ہے۔ انہیں یہ پتا ہے وہ اپنی بیوی کے مجازی خدا ہیں، شوہر ہیں بیوی ہے ان کی اطاعت فرض ہیں اور ان کا حق بھی ہیں ان کو یہ پتا ہے بیوی کو شوہر کی نہ فرمانی پہ جنت نہیں ملے گی۔

لیکن انہیں یہ کیوں نہیں پتا کہ عورت کی العزت ان پر بھی فرض ہے ، عورت کا احترام ان پہ بھی واجب ہے، عورت کو گالی دینے، مارنے پیٹنے اور ان کی تذلیل کرنے پہ جنت ان کو بھی نہیں ملے گے۔

انہیں اپنے شوہروں کی فرمانبردار بیویاں تو نظر آجاتی ہیں انہیں اچھے، عزت دار شوہر کیوں نظر نہیں آتے، ان کی باتوں میں ہمیشہ اپنے حقوق کی بات ہوتی ہے اپنے فرائض کو کیوں یہ بھول جاتے ہیں ۔

 

یہ وہ کچھ مردوں پر مشتمل جاہل طبقہ ہے ہمارے معاشرے کا جو مذہب میں سے اپنی مرضی کی بات نکال لیتے ہیں اور جو ان کے خلاف ہو ان کے عمل کے خلاف ہو ان کی رہنمائی کے لیے ہو اس پے دلیلے پیش کرتے ہیں کہ یہ ان کے لیے ہیں ہی ہیں اور اپنے عمل کو جسٹیفائی کرتے ہیں۔

یہ وہ مرد ہیں جو اپنی تعلیم کو صرف پیسے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ اس تعلیم سے کوئی رہنمائی حاصل ہیں کرتے ۔ یہ وہ مرد ہیں جو دوستی بھی ان مردوں کے ساتھ رکھتے ہیں جو ان کے اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، یہ وہ جو ان کے عمل کی تعریف کرتے ہیں اور خود بھی وہ عمل کرتے ہیں اور انہیں بھی ترغیب دیتے ہیں ۔

یہ وہ مرد ہیں جب کوئی شخص انہیں ان کے عمل ہے روکنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے کمزور مرد ہونے، بے حیا ہونے، کم عقلی اور زن مریدی کے طعنے دیتے ہیں ۔

 

یہ بات نہیں ہے کہ ان میں شعور نہیں ہے، ان کو علم نہیں ہے، ان کو سمجھ نہیں ہے، انہیں سب پتا ہے، بس ان کو نشہ لگ گیا ہے۔

مردانگی کے ڈونگ کا نشہ، طاقت کے غلط استعمال کا نشہ، آنا کی تسکین کا نشہ ۔۔۔

جو مرد خود کمزور ہو، زندگی میں کچھ حاصل نہ کرسکتا ہو، اپنے لیے کوئی فیصلہ نہ لے سکتا ہو وہ مرد خود کو طاقتور ثابت کرنے، خود کو کل عقل دیکھانے اپنے آپ کو ثابت کرنے اور اپنی عزت کرنے کے چکروں میں یہ اوچھ حرکتیں کرتے ہیں ۔

پر افسوس وہ خسارے کا سودا کرتے ہیں ۔۔

اللہ کی تخلیق

 

اللہ تعالیٰ نے مردوں کو بہت حسین بنایا ہے اور جو کردار ان کو دیا ہے ادا کرنے کی لیے وہ انہیں حسین تر بناتا ہے ۔

 

 

اگر ہم قرآن اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مرد کی اصل خوبصورتی اس کے کردار سے ہی مکمل ہوتی ہے۔

 

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی باوقار اور کامل مرد ہو سکتا ہے؟ ہمارے آئیڈیل تو وہی ہیں۔ ان کی تعلیمات، ان کا کردار، ان کی زندگی۔ 

> اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز کیا۔ انہوں نے اسلام کی تبلیغ کی، کفار سے جنگ بھی کی اور ان کے ظلم بھی صبر سے سہے۔ وہ میدانِ جنگ میں شیر تھے، اور گھر میں رحمت کا پیکر۔ 

 لیکن جو عزت، وقار اور مقام انہوں نے عورت کو دیا، وہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں دے سکتی۔ 

 

حضور ﷺ وہ ہیں جنہوں نے کبھی اپنی بیٹیوں اور بیویوں سے اونچی آواز میں بات نہیں کی۔ اگر اونچی آواز میں بات کرنا "مرد ہونے" کی نشانی ہے تو نبی کریم ﷺ نے تو کبھی ایسا نہیں کیا۔ 

 

حضور ﷺ جب بھی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ملتے تو محبت سے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے اور ان کا ہاتھ چومتے تھے۔ اگر بیٹی کا احترام کرنا کمزوری ہے، تو حضور ﷺ سے زیادہ طاقتور اور بہادر مرد تو کوئی نہیں تھا۔ 

 

 اور اگر بیوی سے محبت کرنا اور اس کا اظہار کرنا "غیرت کے خلاف" ہے، تو حضور ﷺ نے نہ صرف اپنی بیویوں سے محبت کی بلکہ فخر سے اس کا اعلان بھی کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ "آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟" تو آپ ﷺ نے صحابہ کی مجلس میں فرمایا: "مجھے سب سے زیادہ محبت اپنی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہے۔" 

 

اس سے بڑھ کر مردانگی کی تعریف اور کیا ہوگی؟* 

طاقت کے ساتھ نرمی، غیرت کے ساتھ محبت، اور رعب کے ساتھ عزت۔ یہی اصل مرد ہے۔*

 

 

اللہ تعالیٰ نے مرد کہ مضبوط عصاب اور آواز کی درشتگی اس لیے نہیں دی کہ وہ اس سے عورت کو مارے اور عورت کو ڈرایے بلکے اس لیے بنائے ہیں کہ کفار وحشت زدہ ہو جاے کفار مومن مرد کو دیکھے تو انہیں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور خوف نظر اے۔۔

 

اللہ نے مردوں کو حق کی راہ میں جہاد کرنے اسلام کی تبلیغ کرنے اور حق کے لیے لڑنے کے لیے اتنا باوقار بنایا ہے۔۔

اللہ نے انہیں زمین میں اپنا نائب بنایا ہے۔

 

کوی انہیں بتاے کہ اللہ نے انہیں بہت متعبر کیا ہے انہیں غازی اور شہید کا رتبہ دیا ہے ۔۔ اپنے دین کی تبلیغ کا کام دیا ۔ مطلب ان کے ذمے صحابہ کرام اور انبیاء کرام علیہم السلام کے کام کی زمہ داری ہے ۔۔ اتنی بڑھی زمہ داری ہے یہ اتنا بڑھا رتبہ ہے ۔ خود کو پہچانوں ۔۔ کہ اللہ نے تمہیں کیا بنایا ہے اور تم کیا کرتے پھر رہے ہو

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار مومن کی صفات بیان کی ہیں

القرآن الکریم ۔۔۔۔

سورہ الفرقان ۔۔

اور مومن تو وہ ہیں جو زمین پر عا جزی سے چلے۔۔

اللہ تعالیٰ نے مومن مرد کو عاجزی کا حکم دیا ہے عاجزی کیا ہے ۔ دل کا جھک جانا ۔۔بڑھائی ہونے کے باوجود خود کو عام انسان سمجھنا غرور نہ کرنا ۔۔۔

 

لیکن یہاں کیا ہے ہمارے گھر کے مردوں کے پاس صرف مرد ہونے کے لقب کے علاوا کچھ نہیں لیکن ان کا غرور ہی نہیں مان ۔۔

وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کل عقل ہیں۔ ان کی کوئی بھی بات عورت کی توہین کے بغیر پوری نہیں ہوتی ۔۔

 

 

حل کیا ہے اس کا

ہمیں اب اپنے بیٹوں کی تربیت پر غور کر لینا چاہیے۔ مجھے نہیں لگتا ہمارے معاشرے اور ہم نے جتنا نقصان اپنا اور اپنی بیٹیوں کا کر لیا ہے اب اور کوئی کثر رہ گئی ہے ۔

 

ہماری ماوں کو چاہیے کہ وہ مردوں کو بتاے گناہ گناہ ہی ہوتا ہے اور اس کی سزا سب کے لیے برابر ہے چاہے وہ مرد ہو یہ عورت۔ اگر عورت پر مرد کی عزت فرض ہے تو مرد ہے بھی فرض ہے کہ وہ عورت کا احترام کرے۔ اگر عورت مرد کے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتی تو مرد کو بھی اس کی اجازت نہیں ہے۔

اللہ کی عدالت میں گناہ گار گناہ گار ہی ہے ۔ اللہ پاک یہ نہیں دیکھتے کہ کرنے والا مرد ہے یا عورت ۔

ہماری ماؤں کو چاہیے کہ وہ مرد کو وہ بناء جو ان کا حق ہے نہ کہ وہ جو معاشرہ چاہتا ہے۔

اپنے بیٹوں کی تربیت

 

حل کتابوں میں نہیں، ہمارے گھروں میں ہے

ہمارے بزرگ ہمارے باپ چچا اور بھائی جو کرے گے ہمارے بچے بھی وہی کرے گے ۔ کیوں کے بچا باتوں سے نہیں عمل سے سیکھتا ہے۔

ہمارے والدین، ماں کے بعد یہ باپ کی زمہ داری ہے ۔ کہ وہ اپنے بیٹے کی تربیت اسلامی اصولوں پے کرے، کیوں باپ جو کرے گا بچا بھی وہی کرے گا۔

اگر بچا اپنے باپ کو دیکھے گا کہ وہ اپنی بیوی کو گالی دیتا ہے اس کی تذلیل کرتا ہے، اپنی ماں کا ادب نہیں کرتا تو بچا بھی وہی کرے گا۔

یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے مردوں کے لیے یہ سب آسان بنادیا ہے ان کو ہم نے کبھی روکا نہیں کبھی غلط عمل ہے ڈانٹا نہیں تو ان کے لیے یہ سب نارمل ہے، یہ کوئی بڑی بات ہی نہیں اوپر سے ہمارا معاشرہ اس کی روایات انہوں نے ہمارے مردوں کو اس طرح کا بنا دیا ہے کہ انہیں یہ سب اپنا فرض اور زمہ داری لگتا ہے۔

ہمارے معاشرے نے مردوں کے ذہین میں یہ بات بیٹھا دی ہے کہ عورت ذات کم عقل ہے اور اس کو سدھارنے کا واحد طریقہ تشدد ہے۔

اور تشدد بھی جسمانی نہیں بلکہ اس روح کو زخمی کرنا۔

 

 سب سے پہلے ہمارے ماں باپ کو اپنا  محاسبہ کرنا ہوگا۔ جب 5 سال کا بیٹا بہن کا کھلونا چھینے اور ہم کہیں "چھوڑو، لڑکا ہے" تو ہم وہیں ایک ظالم کی بنیاد رکھ دیتی ہیں۔

 

ہمیں بیٹوں کو "بیٹا" نہیں "انسان" بنانا ہے

اسے بتانا ہے کہ طاقت گالی دینے کے لیے نہیں، بھوکے کو کھانا کھلانے کے لیے ہے۔

 اسے بتانا ہے کہ اگر تم ماں کے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتے، تو کسی کی ماں، کسی کی بیٹی کے سامنے بھی نہیں کر سکتے۔ 

باپوں کو اسکرین سے اٹھ کر رول ماڈل بننا ہوگا۔* 

 بیٹا تبھی بدلے گا جب اس کا  باپ بدلے گا۔ جب اس کی ماں غلط کو غلط اور گناہ کو گناہ کہے گی۔

اور سب سے بڑی بات - ہمیں "خاموشی" کا بت توڑنا ہوگا۔

یاد رکھیں

 ہم بیٹیوں کو "برداشت" کا درس دے دے کر تھک گئے۔ 

 اب بیٹوں کو "غیرت" کا درس دینا ہوگا۔   

اپنے بیٹوں کو غیرت کا نہیں انسانیت کا درس دے۔انہیں مرد نہیں انہیں انسان بنائے، انہیں صحیح اور غلط کی تمیز سکھائے انہیں گناہ اور ثواب کا فرق بتاے انہیں فرض اور ظلم میں فرق بتاے انہیں بتاے کہ انسان کو کو کہتے ہیں مرد ہونا کیا ہے۔

انہیں اپنی آنا، اپنی دشمنی اور اپنی غیرت اور مردانگی کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

 

اگر ہمیں مرد چاہیے تو انہیں مصلے پر کھڑا کرو، ٹک ٹاک پر نہیں۔

اپنے بچوں کی تربیت کرے خالی ان کو پالیں نہیں ان کو کھلا پلا کہ بڑھا نہ کرے۔

انہیں قرآن کا حافظ بناؤ، غرور کا قیدی نہیں۔ 

تب جا کر یہ اللہ کی "شاہکار" مخلوق اپنا مقام پہچان پائے گی۔

****************

 

Comments