وہ ایک قضاء نماز
ازقلم: اے کے
کبھی کبھی انسان جس چیز پر سب سے زیادہ فخر کرنے لگتا
ہے، اللہ تعالیٰ اسی چیز کے ذریعے اسے اس کی حقیقت دکھا دیتا ہے۔
چاہے وہ دولت ہو، علم ہو، ہنر ہو، عزت ہو، عبادت ہو، یا
پھر نیکی کا کوئی ایسا عمل جس پر دل کے کسی گوشے میں انجانے میں خود پسندی جنم لینے
لگے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس غرور کے ساتھ نہیں چھوڑتا، کیونکہ وہ اپنے محبوب
بندوں کو تکبر کی تاریکی میں گم نہیں ہونے دیتا۔
ایک صبح، نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد وہ اپنی بہن سے
مخاطب ہوئی۔
"الحمد للہ! جب سے میں نے نماز کی پابندی
شروع کی ہے، آج تک مجھ سے ایک بھی نماز قضا نہیں ہوئی۔"
اس کے لہجے میں شکر بھی تھا، عاجزی بھی... مگر شاید دل
کے کسی نہاں خانے میں ایک ہلکا سا احساسِ فخر بھی سر اٹھا رہا تھا۔
اور پھر...
اسی دن عصر کی نماز اس سے قضا ہوگئی۔
وہی نماز جس کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں
خصوصی حکم دیا ہے۔
اس روز وہ صبح چار بجے اٹھی تھی۔ پھر دوبارہ سو نہ سکی۔
کالج سے واپس آئی تو شدید تھکن سے نڈھال تھی۔ ظہر کی نماز ادا کی اور یہ سوچ کر
کچھ دیر آرام کرنے لیٹ گئی کہ عصر سے پہلے جاگ جائے گی۔
لیکن جب آنکھ کھلی...
تو سورج غروب ہو چکا تھا۔
ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے ڈوبتے ہوئے سورج کے
ساتھ اس کے دل کی روشنی بھی ڈوب گئی ہو۔ ایسا لگا جیسے اس کی دنیا، اس کی آخرت، اس
کی ساری کمائی ایک لمحے میں ہاتھ سے نکل گئی ہو۔
دل بے بسی سے بھر گیا، آنکھیں اشکوں سے لبریز ہوگئیں۔
وہ روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس گئی اور لرزتی ہوئی
آواز میں بولی:
"امی... آپ نے مجھے نماز کے لیے جگایا کیوں
نہیں؟"
والدہ نے نرمی سے جواب دیا:
"میں نے تمہیں کئی بار آواز دی تھی۔
مجھے لگا تم نے سن لیا ہوگا۔ پھر میں کچن کے کام میں لگ گئی۔ میں نے یہی سمجھا کہ
تم اٹھ کر نماز پڑھ چکی ہو۔ لیکن جب واپس آئی تو تم اب بھی سو رہی تھیں... اور
سورج غروب ہو چکا تھا۔"
میں کچھ لمحوں تک خاموش بیٹھی رہی...
میرے ذہن میں بار بار ایک ہی بات گردش کر رہی تھی۔
میں تو وہ تھی جو اکثر اونگھ کی حالت میں بھی امی کی
آواز سن لیا کرتی تھی۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ صرف ایک ہی آواز پر میری آنکھ کھل
جاتی، اور میں فوراً اٹھ کر وضو کرتی اور نماز کے لیے چلی جاتی۔
پھر آج ایسا کیا ہوا؟
آج کیوں نہ وہ آواز میرے کانوں تک پہنچی؟
کیوں میرا دل بیدار نہ ہوا؟
کیوں میری آنکھ نہ کھلی؟
یہ صرف ایک نماز کا قضا ہونا نہیں تھا...
یہ میرے رب کی ایک خاموش تعلیم تھی۔
اسی ایک واقعے نے میرے دل پر یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے نقش
کر دی کہ عبادت بھی ہماری طاقت، ہماری محنت یا ہماری منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں،
بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ہمارا الارم جگاتا ہے، یا کسی
اپنے کی آواز بیدار کرتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے
حضور کھڑا کرنا چاہے تو سویا ہوا دل بھی ایک ہلکی سی آہٹ پر جاگ اٹھتا ہے، اور اگر
وہ اپنی حکمت سے توفیق روک لے تو بلند ترین آوازیں بھی کانوں تک پہنچ کر دل کو بیدار
نہیں کر سکتیں۔
تب مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی:
﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ
اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ﴾
"بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے
سکتے، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے۔" (القصص: 56)
اور ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ
وَمَن يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا﴾
"جسے اللہ ہدایت دے، وہی حقیقت میں ہدایت
یافتہ ہے، اور جسے وہ اس کے اپنے انکار کے سبب گمراہی میں چھوڑ دے، اس کے لیے تم
کوئی راہ دکھانے والا نہیں پاؤ گے۔" (الکہف: 17)
اس دن میں نے محسوس کیا کہ نماز پڑھ لینا بھی میری قابلیت
نہیں تھی۔
یہ میرا نظم و ضبط نہیں تھا۔
یہ میری مضبوط عادت بھی نہیں تھی۔
یہ تو ہر روز میرے رب کی طرف سے ملنے والی ایک خاموش
اجازت تھی کہ "آؤ، آج بھی میرے حضور حاضر ہو جاؤ۔"
اور شاید صبح میرے دل میں پیدا ہونے والا وہ نہایت باریک
سا احساسِ فخر... میرے رب کو پسند نہ آیا۔
اللہ نے صرف ایک نماز کی توفیق روک کر مجھے میری حقیقت
دکھا دی۔
تاکہ میں جان لوں کہ بندہ اپنے اعمال کا مالک نہیں
ہوتا۔
وہ اپنی عبادت کا بھی مالک نہیں ہوتا۔
وہ تو ہر سانس، ہر سجدے، ہر آنسو، ہر توبہ اور ہر نیکی
میں اپنے رب کا محتاج ہوتا ہے۔
اس دن مجھے پہلی مرتبہ دل کی گہرائی سے یہ احساس ہوا کہ
ہمیں اپنی عبادت پر نہیں، بلکہ اللہ کی دی ہوئی توفیق پر شکر ادا کرنا چاہیے۔
کیونکہ جب تک وہ نہ چاہے، نہ کوئی الارم جگا سکتا ہے،
نہ کسی ماں کی آواز، نہ مضبوط ارادہ، نہ پختہ عادت...
بے شک وہی اپنے بندوں کو اپنے در پر بلاتا ہے، اور وہی
سجدوں کی سعادت عطا فرماتا ہے۔۔
ᗩK ᗯᖇITE'Տ✍️
Comments
Post a Comment