عنوان:
توقعات کی قید: (جب
محبت گھٹن بن جائے)
کہتے ہیں "امیدیں انسان کو جینے کا سہارا دیتی ہیں"۔
مگر جب یہی امیدیں کسی ایک انسان سے وابستہ ہو جائیں تو
وہی سہارا گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔
ہاں، attachment فطری ہے۔ مگر حد سے بڑھ جائے تو...؟
انسان کا دوسرے انسان سے ذہنی طور پر وابستہ ہو جانا
فطرت کا تقاضا ہے۔
دل چاہتا ہے کہ وہ صرف مجھ سے بات کرے، میرے سوا کسی کی
نہ سنے۔ میں جو کہوں وہی کرے، اور مجھے ہی سب سے زیادہ چاہے۔
محبت ہو یا دوستی، تھوڑی سی اپنائیت، تھوڑی سی غیرت اور
possessiveness فطری ہے۔ اس سے رشتے میں مٹھاس آتی ہے۔
لیکن جب یہی چاہت جنون بن جائے، جب سانس لینے کی آزادی
بھی چھین لی جائے، تو رشتہ زخم دینے لگتا ہے۔
یاد رکھیں، جسے جتنا باندھنے کی کوشش کرو گے، وہ اتنا ہی
دور ہوتا جائے گا۔
غیرت ضرور دکھائیں، مگر حدود کے اندر رہ کر۔ محبت کریں،
مگر قید مت بنائیں۔
آج ہمارا معاشرہ ذہنی طور پر اتنا بے چین کیوں ہے؟
کیونکہ ہم نے اپنی خوشیوں کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں
دے دی ہے۔
ہم کیوں چاہتے ہیں کہ ہر شخص ہمارے سانچے میں ڈھل جائے؟
ہم کیوں یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہم کسی کے لیے اتنے ہی
اہم ہوں جتنے وہ ہمارے لیے ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ...
"انسان کو کوئی چیز نہیں توڑتی، انسان
کو اس کی اپنی بے جا توقعات توڑ دیتی ہیں"
وہ توقعات جو ہم نے بنا سوچے سمجھے کسی کے نام کر دیں۔
اس لیے جُڑیں، مگر اتنا کہ سانس بھی آتی رہے۔
چاہیں، مگر اتنا کہ خود کو کھو نہ دیں۔
Aleena
Noor write...✍️❤️🩹🖇️
۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment