*رات کو ہی پرانے واقعات
اور غلطیاں زیادہ کیوں یاد آتی ہیں؟*
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پورا دن بالکل معمول کے مطابق
گزرتا ہے، لیکن جیسے ہی رات کو انسان بستر پر لیٹتا ہے، دماغ اچانک پرانی باتوں کی
طرف چلا جاتا ہے۔ برسوں پرانی کوئی گفتگو، کسی کا کہا ہوا جملہ، اپنی کوئی غلطی یا
کوئی ایسا فیصلہ جس پر آج بھی افسوس ہو، سب کچھ ایک ایک کرکے یاد آنے لگتا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا ہمارا دماغ رات کو ماضی میں
زیادہ رہتا ہے، یا اس کے پیچھے کوئی نفسیاتی وجہ ہے؟
*خاموش رات اور مصروف دماغ*
دن کے وقت ہماری توجہ مختلف کاموں میں بٹی رہتی ہے۔
کام، پڑھائی، گھر، موبائل، لوگوں سے گفتگو اور دوسری مصروفیات ذہن کو مسلسل مصروف
رکھتی ہیں۔ رات کو بیرونی سرگرمیاں کم ہوجاتی ہیں تو اندرونی خیالات زیادہ نمایاں
محسوس ہونے لگتے ہیں۔
یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص جو رات کو ماضی کے بارے میں
سوچتا ہے، اسے کوئی psychological disorder ہو۔ کبھی یہ صرف ذہن کا فطری عمل ہوتا ہے۔
اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم کسی واقعے کے بارے میں
سوچ رہے ہیں یا اسی سوچ کے اندر پھنس گئے ہیں۔
*ماضی کو بار بار سوچنے کا نفسیاتی عمل*
Clinical
Psychology میں Rumination ایک اہم تصور ہے۔ اس میں انسان کسی پریشان کن واقعے، غلطی یا منفی
خیال کو بار بار ذہن میں دہراتا رہتا ہے، لیکن سوچنے کے باوجود مسئلے کا کوئی نیا
حل سامنے نہیں آتا۔
مثلاً:
*"میں نے اُس وقت ایسا کیوں کہا؟"*
پھر وہی گفتگو ذہن میں دوبارہ چلتی ہے۔
*"کاش میں خاموش رہتا۔"*
پھر انسان سوچتا ہے:
*"اب وہ میرے بارے میں کیا سوچتا
ہوگا؟"*
یوں ایک واقعہ ختم ہونے کے باوجود ذہن اسے بار بار زندہ
کرتا رہتا ہے۔
*دماغ ایسا کیوں کرتا ہے؟*
اس کی ایک وجہ Memory اور Emotion
کا تعلق ہے۔ جن واقعات کے ساتھ شدید جذبات وابستہ ہوں، وہ ہماری یادداشت میں زیادہ
مضبوطی سے محفوظ ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح Negativity Bias کے تحت انسانی دماغ بعض اوقات مثبت تجربات کے مقابلے میں منفی
تجربات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اسی لیے دس اچھی باتیں ہونے کے باوجود ایک تنقیدی
جملہ رات کو زیادہ یاد آسکتا ہے۔
ایک اور اہم تصور Zeigarnik
Effect ہے۔ اس کے مطابق نامکمل یا ادھورے معاملات
ذہن میں مکمل شدہ معاملات کے مقابلے میں زیادہ نمایاں رہ سکتے ہیں۔ اگر کسی رشتے،
گفتگو یا فیصلے کا اختتام ہمارے ذہن میں واضح نہ ہو تو ہم اسے بار بار سوچ سکتے ہیں۔
*کیا یہ Anxiety
یا Depression ہے؟*
صرف رات کو پرانی باتیں یاد آنا کسی بیماری کی تشخیص کے
لیے کافی نہیں۔
لیکن اگر یہ سوچ مسلسل جاری رہے، نیند خراب ہونے لگے،
ہر وقت بے چینی یا اداسی رہے، کسی کام میں دلچسپی کم ہوجائے، خود کو بے کار سمجھنے
لگیں یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو یہ Anxiety
یا Depression جیسی کیفیت کے ساتھ موجود ہوسکتا ہے۔
*اسی طرح کسی شدید تکلیف دہ واقعے کی یاد بار
بار آنا، اس سے متعلق چیزوں سے بچنا اور شدید خوف یا جسمانی ردعمل محسوس ہونا Trauma-related
symptoms کی طرف بھی اشارہ کرسکتا ہے۔*
اس لیے خود تشخیص کرنے کے بجائے ضرورت پڑنے پر Clinical
Psychologist سے مکمل assessment کروانا بہتر ہے۔
*ایک ہی واقعے کو سوچنا ہمیں سکون کیوں نہیں
دیتا؟*
*یہاں Cognitive
Behavioral Therapy (CBT) کا تصور بہت مددگار ہے۔*
CBT کے مطابق صرف واقعہ ہمارے جذبات کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ اس
واقعے کے بارے میں ہماری interpretation بھی اہم ہوتی ہے۔
مثلاً کسی شخص نے ہماری بات کا جواب نہیں دیا۔
ایک شخص سوچ سکتا ہے:
*"شاید وہ مصروف ہوگا۔"*
جبکہ دوسرا فوراً سوچ سکتا ہے:
*"وہ مجھے پسند نہیں کرتا، مجھ سے ضرور
ناراض ہے۔"*
واقعہ ایک ہی ہے، لیکن سوچ مختلف ہونے کی وجہ سے جذبات
بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح ماضی کی کسی غلطی کو یاد کرکے اگر ہم کہیں:
*"مجھ سے غلطی ہوئی تھی، میں اس سے سیکھ
سکتا ہوں۔"*
تو ذہن آگے بڑھنے لگتا ہے۔
لیکن اگر ہم کہیں:
*"میں ہمیشہ غلط فیصلے کرتا ہوں، میں ہی
خراب ہوں۔"*
تو ایک واقعہ ہماری پوری شخصیت کا فیصلہ بن جاتا ہے۔
*ماضی سے سبق یا ماضی کی سزا؟*
یہ دونوں چیزیں الگ ہیں۔
*"میں نے غلطی کی، مجھے معلوم ہوگیا کہ
آئندہ کیا نہیں کرنا۔"*
*خود کو سزا دینا:*
*"میں نے غلطی کی، اس لیے میں اچھا
انسان نہیں ہوں۔"*
Psychologically صحت مند رویہ یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی کو تسلیم کرے، اس کے نتائج
کو سمجھے اور جہاں ممکن ہو اصلاح کرے۔ لیکن ہر رات اسی واقعے کو دہراتے رہنا مسئلہ
حل نہیں کرتا۔
*اسلام ہمیں ماضی کے بارے میں کیا سکھاتا
ہے؟*
اسلام انسان کو غلطی کے بعد مایوسی میں نہیں چھوڑتا
بلکہ توبہ اور اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
*"بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا
ہے۔ بے شک وہی بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"*
*(سورۃ الزمر: 53)*
یہ آیت انسان کو یہ امید دیتی ہے کہ ماضی کی غلطی آخری فیصلہ
نہیں ہے۔
قرآن میں ایک اور جگہ فرمایا:
*"اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر
تکلیف نہیں دیتا۔"*
*(سورۃ البقرہ: 286)*
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
*"ہر ابنِ آدم خطا کار ہے، اور بہترین
خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔"*
*(جامع ترمذی)*
یعنی غلطی انسان ہونے کا حصہ ہوسکتی ہے، لیکن غلطی کے
بعد واپس آنا اور اپنی اصلاح کرنا اصل اہمیت رکھتا ہے۔
**رات کو ذہن کو کیسے سکون دیا جائے؟**
سونے سے پہلے چند چھوٹی عادات مددگار ہوسکتی ہیں:
*- جو بات بار بار ذہن میں آرہی ہو، اسے کاغذ
پر لکھ دیں۔*
*- خود سے پوچھیں: "کیا اس مسئلے کا کوئی
حل آج میرے اختیار میں ہے؟*
- *اگر حل موجود ہے تو اگلا عملی قدم طے کریں۔*
- *اگر معاملہ گزر چکا ہے تو خود کو یاد دلائیں
کہ اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا، صرف اس سے سیکھا جاسکتا ہے۔*
- *سونے سے پہلے غیر ضروری موبائل استعمال کم
کریں۔*
- *دعا، ذکر اور تلاوت کو رات کے معمول کا
حصہ بنائیں۔*
قرآن دل کے اطمینان کے بارے میں فرماتا ہے
*خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان
حاصل ہوتا ہے۔*
*(سورۃ الرعد: 28)*
کبھی رات کو ماضی کا یاد آ جانا ہمارے ذہن کی کمزوری نہیں
بلکہ اس بات کی علامت ہوسکتا ہے کہ کچھ تجربات ہمارے لیے جذباتی طور پر اہم تھے۔
*لیکن ہر یاد کو دوبارہ جینا ضروری نہیں۔*
کچھ واقعات ہمیں سکھانے کے لیے ہوتے ہیں، کچھ ہمیں
بدلنے کے لیے اور کچھ ہمیں یہ سمجھانے کے لیے کہ وقت گزر جانے کے بعد انسان کو خود
کو معاف کرنا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔
ماضی کو بھول جانا ضروری نہیں، ماضی میں رہنا چھوڑ دینا
ضروری ہے۔اور شاید سکون کا آغاز اسی دن ہوتا ہے جب انسان خود سے یہ کہنے کے قابل
ہوجائے جو ہوا اسے میں بدل نہیں سکتا۔ لیکن اس کے بعد میں کیا بنوں گا یہ فیصلہ
ابھی میرے ہاتھ میں ہے۔
* پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کرنا مت
بھولیے گا آپکے لائک سے ہمیں بہترین کام کرنے میں موٹیویشن ملے گی اپنا قیمتی وقت
دینے کا شکریہ*
*Tanzeel Khan Clinical
Psychologist*
************
Comments
Post a Comment