*کیا وہ انسان ہیں ہی نہیں یا ہم انہیں
سمجھتے نہیں؟*
_کیا یہ انسان نہیں؟_
ایک ایسا سوال ہے جو اکثر میرے ذہن میں گردش کرتا ہے،
جب میں اپنے گھر کے مردوں کو دیکھتی ہوں۔
میں سوچتی ہوں آخر یہ بھی تو انسان ہیں۔ ان کا بھی تو
حق ہے زندگی جینے کا، خواب بُننے کا، اپنی پسند کی تعلیم حاصل کرنے کا، اپنا خود
کا کیریئر بنانے کا۔ اپنے لیے کچھ کرنے کا۔
لیکن ہم نے، ہمارے معاشرے نے انہیں انسان رہنے ہی نہیں
دیا۔ ہم نے ان کے لیے زندگی کی تعریف اور مقصد ہی بدل کے رکھ دیا ہے۔ ہمارے معاشرے
نے انہیں بتایا ہے کہ کامیابی صرف پیسے کا نام ہے۔ تم نے اگر زندگی میں کامیاب
ہونا ہے، معاشرے میں عزت سے جینا ہے تو پیسہ کماؤ۔ بس پیسہ کماو۔
ہمارے معاشرے نہ انہیں بتایا ہے کہ تمہارا گھر آنا ضروری
نہیں! تمہارا کما کہ گھر آنا ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے مردوں نے اچھا بیٹا، اچھا بھائی، گھر کا کفیل
بننے کے لیے اپنے آپ کو قربان کیا ہے۔ اور ہم کہتے ہیں مرد وفا نہیں کرتے۔۔ یہ وفا
نہیں تو اور کیا ہے
_کیا مرد صرف پیسہ کمانے کا نام ہے؟_
آپ کو نہیں لگتا کہ ہم نے ان سے ان کے خواب، ان کا شوق،
ان کی پہچان چھین لی ہے؟ ہم نے انہیں ایک چلتا پھرتا روبوٹ بنا دیا ہے۔ جس کا صرف
ایک ہی مقصد ہے اپنے گھر والوں کے لیے زندہ رہنا۔
ہم نے ان کے ہاتھ میں کتابوں اور ان کے ذہنوں میں
خوابوں کے بیج بونے کی بجائے ان کو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔ وہ عمر جو ان
کی آگے بڑھنے کی تھی اس عمر میں وہ اپنے خواب دفن کر رہے ہیں۔
اور اگر کسی سے اس کے خواب ہی چھین لیے جائیں تو پیچھے
کیا بچ جاتا ہے؟۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔
*یہ سب کیوں ہوا؟*
کیونکہ ہم نے مردانگی کی تعریف ہی غلط کر دی۔ ہمارے لیے
"اچھا مرد" وہ ہے جو کبھی نہ روئے، کبھی نہ تھکے، کبھی شکایت نہ کرے۔
غربت اور مہنگائی نے بھی اس زخم پر نمک چھڑکا۔ جب گھر کا چولہا جلانا سب سے بڑی
جنگ بن جائے تو خواب لگژری لگنے لگتے ہیں۔ ہم اس معاشرے میں اس مرد کو کچھ نہیں
سمجھتے جس کی جیب میں پیسے نہ ہوں۔ ہم اس کو اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے کہ وہ
گھر کے معاملات میں اپنی رائے دے سکے گھر کے فیصلے کرنا تو دور کی بات ۔ جس مرد کی
جیب خالی ہو وہ ہمارے لیے ایک بوجھ بن جاتا ہے ۔ ہمارے لیے اسے گھر میں برداشت کرنا
مشکل ہو جاتا ہے ۔
ہمارا معاشرہ یہ سمجھتا ہے جو مرد کما نہیں سکتا وہ
زندگی میں کسی چیز کا حق دار نہیں ۔۔
اگر میں یہ کہوں کہ ہمارے معاشرے کے مرد صرف زندگی گزار
رہے ہیں، جی نہیں رہے تو غلط نہیں ہوگا۔۔
کیونکہ ہم نے ان سے زندگی جینے کا حق ہی چھین لیا ہے۔
_وہ روبوٹ نہیں، انسان ہیں_
یہ سب 5 سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے
جب ہم 5 سال کے بیٹے سے کہتے ہیں "لڑکے روتے نہیں"۔
اسی دن ہم اس کے دل کا دروازہ بند کر دیتے ہیں۔
ہم اپنے مردوں کو پتھر بنانے ہولے خود ہے ان کو یہ بتانے والے کہ تمہارے
جذبات تمہارے احساسات تمہاری کمزوری ہے ۔ تم لڑکیوں کی طرح نہ بنو ۔ تم مرد ہو ۔
تم بہادر ہو ۔ ہمارے معاشرے نے مردوں ہے بہادری کا خول چڑھانے کے لیے انہیں ذہنی
اذیت کا شکار کر دیا ہے
۔
انہیں ذہنی طور ہے ان روایات کا پابند کر دیا ہے جو ان کی انسانیت کی قاتل ہیں ۔
ہمارے معاشرے کا نظریہ اور روایات اتنی پختگی اختیار کر چکی ہیں کہ ہم ان سے نکل ہی
نہیں سکتے ۔ اگر گھر والے اپنے بیٹے،بھائی،اور شوہر کو نوکری نہ ہونے اور کم تنخوا
کا تعنہ نہیں دیتے تو یہ معاشرہ انہیں آنکھ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا ۔ ہمارے
والدین ہمارے بہن بھائی ہمارے رشتے دار آپس میں اپنی نوکری اور پیسے کا موازنہ کرتے
ہیں
ہمارا معاشرہ ان کو پتھر دل بنا کے بوسیدہ روایات
میں دبا کے ان سے ان کے خواب اور زندگی کا مقصد چھین کے بعد شکایت کرتے ہیں کہ
"یہ بات ہی نہیں کرتا" یہ اپنے لیے کچھ نہیں کرتے یہ بدل گئے ہیں یہ
پہلے جیسے نہیں رہے ۔ ہم نے ان کے شوق کو وقت کا ضیاع کہہ کے ختم کر دیا۔ ہم ہیں
جنہوں نے انہیں سکھایا کہ مرد روتے نہیں ہیں۔
ہمارے معاشرے نے انہیں روبوٹ ہی تو بنا دیا۔ ایک انسان
کی شکل کا روبوٹ جس کا ایک ہی مقصد ہے پیسوں سے جیب بھرنا۔ گھر کی ضروریات پوری
کرنا گھر کا خرچ پورا کرنا دن رات کام کرنا ۔ اپنے لیے نہیں گھر والوں کے لیے
کمانا اپنے اوپر گھر والوں کو ترجیح دینا ۔ اپنی ذات کو مٹا دینا ۔اور یہی تو
ہمارے لیے آئیڈل مرد ہیں۔ یہی تو ہیں جن کو ہم ہمارا معاشرہ پسند کرتا ہے ۔
ہمارے معاشرے ان کو غم منانے اور تھک جانے کی اجازت ہی
نہیں دی۔ کیوں کہ مرد تو تھک ہی نہیں سکتے۔ وہ اپنی اداسی کا اظہار بھی نہیں کر
سکتے کیوں کہ وہ مضبوط ہیں۔
ہم نے اپنے مردوں کو خود سے بہت دور کر لیا ہے۔ اتنا کہ
ہمارا مرد تنہا ہو گیا ہے۔
اور مرد خود؟
سچ یہ بھی ہے کہ بہت سے مردوں نے خود اس پنجرے کی چابی
پھینک دی۔ انہوں نے "مضبوط" کا ماسک اتنا پہن لیا کہ اب اتارنا بھول
گئے۔ انہوں نے مدد مانگنا کمزوری سمجھ لی۔ جب تک وہ خود نہیں بولیں گے، کوئی نہیں
سنے گا۔ ہمارے مرد خود کو خود بھی اس چکی میں پیس رہے ہیں ۔ وہ خود کو خود ہی نظر
انداز کر رہے ہیں ۔ ایک تو انہیں سکھایا گیا ہے کہ خود کو کمزور نہیں کہنا دوسرا
وہ خود بھی نہیں چاہتے کہ کوئی ان کو اس خول سے نکالے ۔ وہ شاید اس چیز کے عادی ہو
گئے ہیں ۔
ایک انسان سے انسان ہونے کا حق چھین کے اسے انسانیت کا
درس دینا۔ اس سے زندگی کی رنگینیوں کی خواہش کرنا جرم نہیں تو اور کیا ہے؟؟
ان کی ذہنی صحت کا کیا؟
ہمارے معاشرے نے ہمارے مردوں کو اجازت ہی نہیں دی کہ وہ
اپنا خیال رکھ سکے اپنے بارے میں سوچ سکے ۔ اپنی سوچوں اپنی پریشانیوں الجھنوں کا
اظہار کر سکے۔ ہمارے معاشرے نہ زمہ داری کو زمہ داری رہنے ہی نہیں دیا اس کو ان کا
اولین فرض بنا دیا ہے۔ ہمارے معاشرے نے مرد کو زمہ دار مرد گھر سنبھالنے والا، کفیل
مرد بنانے کی بجائے انہیں ذہنی اذیت کا شکار کردیا ہے۔ ہمارے معاشرے نے اور اس کی
روایات نے انہیں جسمانی زخم نہیں دیے ان کی روح کو زخمی کیا ہے ۔۔
میری
نظر میں ہمارے معاشرے کے مرد انسان ہیں، روبوٹ نہیں۔ جنہوں نے اپنے گھر کو چلانے
کے لیے اپنے آپ کو ختم کر لیا ہے۔ کچھ حد تک ہم سب شامل ہیں اس میں، ہماری توقات،
ہماری خواہشات انہیں اس چیز کی اجازت ہی نہیں دیتی کہ وہ اپنے لیے سوچے۔۔
*اور یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں
تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستانی مرد اوسطاً روزانہ 9 سے
11 گھنٹے کام کرتے ہیں۔` لیکن ان کی اپنی ذہنی صحت کے بارے میں کوئی نہیں پوچھتا۔
یہ ایک عام بات ہے ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کے ہمارے
والد شوہر بھائی اور بیٹے تھک بھی سکتے ہیں ۔ وہ پریشان بھی ہو سکتے ہیں ذہنی
الجھنوں کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ۔ ہم ان کے چہرے پر آگر تھکن دیکھ بھی لیے تو ہم
کبھی یہ نہیں سوچتے کہ وہ زندگی سے تھک گئے ہیں ان کا ذہن بھی الجھنوں کا شکار ہے یا
جو بوجھ ان کے کندھوں ہے ہم نے ڈال دیا ہے وہ بوجھ یہ نہیں اٹھا سکتے ۔۔ کیوں کہ
ہمیں عادت ہو گی ہے انہیں اس طرح دکھنے کی ، سب کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوے اپنے
آپ کو نظر انداز کرتے ہوے ۔
جاپان میں اسے "Karoshi" کہتے ہیں - کام کی وجہ سے موت۔ امریکہ میں ہر 40 سیکنڈ میں
1 مرد خودکشی کرتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ہمارا نہیں،
لیکن ہم اس پر بات بھی نہیں کرتے۔
کیونکہ ہمیں پتا ہی نہیں ہیں کہ یہ ظلم ہے، یہ مسلہ ہے،
ان کو بھی آرام کی زندگی جینے کی، اپنے لیے شوپنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی بھی
خواہشات ہے، ان کے بھی ارمان اور خواب ہو سکتے ہیں، وہ اکیلے یہ سب نہیں سنبھال
سکتے انہیں بھی ضرورت ہے کہ کوئی ان کا ہاتھ پکڑ کے مشکلات میں ان کا ساتھ دے ۔ان
کو بھی ضرورت ہے کوئی ان کی دل جوئی کرے ان کے دل کی بات سنے ان کی الجھنوں کو دور
کرے۔ کیونکہ ہماری نظر میں وہ بالکل ٹھیک ہیں۔
_نعمت۔ خزانہ۔_
ہمارے مرد ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہیں۔ ایک
ایسی نعمت جس کی ہمیں قدر نہیں۔
ہمارے مردوں نے خود کو مار کے ہمیں زندہ رکھا ہے۔ ہمارے
خواب پورے کیے ہیں۔
لیکن ان کا کیا؟ ان کی ضروریات کا کیا؟ ان کی خواہشات
کا کیا؟ ان کے خوابوں کا کیا؟
ہمارے بھائی، شوہر، باپ اور بیٹے دن شروع ہوتے ہی گھر
سے نکل جاتے ہیں۔ کماتے ہیں، ٹھوکریں کھاتے ہیں، تھک جاتے ہیں پر ہمت نہیں ہارتے۔
خود ان کے پاؤں میں ٹوٹی جوتی ہو گی لیکن اپنی ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کو وہ نیا
جوتا لے کے دیں گے۔
_ان سے انسان ہونے کا حق تو نہ چھینیں_
کم از کم ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ ان کو انسان
رہنے دیں۔
میں اکثر کہتی ہوں ایک لڑکا یا مرد ہونا بہت مشکل کام
ہے ، آسان نہیں ہوتا کہ آپ زمہ داریوں کی بوجھ تلے دب رہے ہوں اور آپ کے چہرے پے
تھکن کا آثار تک نہ وہ ، آپ خود مر رہے ہو آپ نے خود کو مار دیا ہو اور آپ خود سے
منسلک رشتوں کو ان کے خوابوں کو ان کی خواہشات کو زندہ رکھے۔ ہم لڑکیوں کو اگر ان
کی پسند کا سبجیکٹ پڑھنے کو نہ ملے تو ہم پڑھائی جھوڑ دیتی ہیں اور یہ ہمارے گھر
کے مرد ہی ہیں جو کے وقت آنے ہے اپنی پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں بلکے اپنی پسند کی جاب
بھی چھوڑ دیتے ہیں اگر اس آمدن سے گھر کا خرچ نہ چل رہا ہو۔ یہ وہ ہیں جو اپنے
خواب اپنے ہاتھوں سے دفن کرتے ہیں ۔ یہ وہ ہیں جو اپنی تکلیفوں، الجھنوں اور پریشانیوں
کی وجہ سے اندر ہی اندر گھٹ کر مر جاتے ہیں پر آف تک نہیں کرتے ۔۔
ان کے کندھوں ہے بہت بوجھ ہوتا ہے، اور قسمت تو دیکھے یہ
وہ ہیں جن سے گھر کا چولہا جلتا ہے ۔جن کی وجہ سے ہمیں دو وقت کی روٹی ملتی اور
انہی کی وجہ سے ہم گرم اور لذیذ کھانا کھاتے ہیں، اور ان کے حصے میں ٹھنڈی روٹی آتی
ہے ۔ یہ وہ ہیں جو اپنے لیے کچھ نہیں خریدتے لیکن ہر عید ہے ہمیں نیے کپڑے اور
جوتے دلاتے ہیں ۔ یہ وہ ہیں جو اپنی پسند اپنی زندگی پہ ہمیں ترجیع دیتے ہیں ۔ ہم
ایک باپ بھائی شوہر اور بیٹے کے بوجھ کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ہم نہیں سمجھ سکتے
ان کی جیب خالی ہو تو اس کا وزن اتنا ہوتا ہے کہ ان کے کندھے ڈھلک جاتے ہیں۔ ہم نہیں
سمجھ سکتے کہ جب گھر میں بیٹھی عورتوں کی امیدیں ان پر ہوں تو یہ وقت سے پہلے بڑے
اور سمجھدار ہو جاتے ہیں ۔ ان کی یہ سمجھداری ان کو جوانی میں ہی بوڑھا کر دیتی ہے
۔
اور جوانی میں بڑھاپے سے بڑھ کے موت اور کیا ہو سکتی
ہے؟؟
تو حل کیا ہے؟
میں یہ نہیں کہ رہیں کہ ہم نے مردوں کو زمہ داری دے کہ
ختم کردیا ہے ۔ ذمہ داری اٹھانا ان کا فرض ہے ہماری بچیوں عورتوں کی کفالت ان کی
زمہ داری ہے مگر اس یہ ہر گز مطلب نہیں ہے کہ ہم ان کو مجبور کردے انہیں ان ذمہ
داریوں میں تنہا چھوڑ دیں اور کہے جاؤ جا کے کما کے لاؤ، کھلاؤں مجھے، میرے نکھرے
اٹھاؤں، میری اسائشات پوری کرو۔ ہمیں ان کی زمہ داری کو زمہ داری رہنے دینا چاہیے
انہیں سانس لینے اور تھک جانے کا موقع دینا چاہیے
۔ہمیں
چاہیے کہ ہم ان کے اس فرض کو ان کے بوجھ نہ بنائے کہ ان کی کمر ہی ٹوٹ جاے یہ بوجھ
اٹھاتے اٹھاتے ۔۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انہیں بتاے کہ وہ ہمیں ان کے پیسوں سے زیادہ عزیز
ہیں ۔ ہمارے لیے وہ اور ان کی موجودگی زیادہ قیمتی ہیں ۔ اپنے گھر کے مردوں کو
بتاے کہ پیسہ ایک ضرورت ضرور ہے لیکن زندگی نہیں یہ ان کا مقام ان کی عزت اور ان کی
فہم وفراست کا فیصلہ نہیں کر سکتا ۔۔
انہیں
بتائیں کہ پیسہ کمانے کی دوڑ میں خود کو نہ تھکایں۔۔ انہیں بتائیں کہ زمہ داریوں کے بوجھ تلے آپ اکیلے نہیں ہیں یہ
صرف ان کا اکیلے کا فرض نہیں ہے ۔ اپنے مردوں کو اپنے ساتھ کا احساس دلائیں ، انہیں
سنے جانیں کہ ان کے اندر کون سی جنگ چل رہی ہے، جس سے وہ تنہا لڑ رہے ہیں ۔ پتا
کرے کہ ان کی اسی کون سی الجھنیں اور پریشانیاں ہیں جس نے ان کے گرد یہ سرد مہری کی
دیوار کھڑی کردی ہے ۔
انہیں
وقت دے جو صرف ان کا ہو ۔۔ اپنے گھر کے جوان لڑکوں کو پیسے خرچ کرنے اور کھیلنے
کودنے سے نہ روکے کیونکہ جب وہ کمانے لگ جائیں گے تو ان کے پاس ان چیزوں کا وقت نہیں
ہو گا۔۔۔
اپنے بچوں کو خواب پورے کرنے اور اس کے لیے جدو جہد کا
موقع ضرور دے یہ ان کو عمر بھر کے پچھتاوا اور گلٹ سے بچاے گا ۔۔ اپنے بچوں کو ان
کے شوق پورے کرنے دے ان کو اپنی زندگی جینے دے تب تک جب تک آپ کے بس میں ہے آپ کے
ہاتھ میں جب وہ بڑھے ہو جاے گے اور ان کی زندگی اس دنیا اور مقدر کے ہاتھ میں چلی
جاے۔۔
ہمیں کوئی حق نہیں ان سے ان کے خواب چھیننے کا۔ ہم انہیں
ان کی پسند کی تعلیم حاصل کرنے اور پسند کی جاب کرنے کی اجازت تو دے ہی سکتے ہیں۔
اپنے مردوں کو سنا کریں۔ ان کے پاس بیٹھا کریں۔ ان سے
باتیں کیا کریں۔ انہیں بتایا کریں کہ ان کا کام صرف کمانا نہیں ہے۔ ان کی اہمیت
صرف پیسہ ہی نہیں ہے۔ ہمارے لیے ان کا وجود ہی بہت عزیز ہے۔
اپنے مردوں کا ساتھ دیں۔۔۔
_آپ نے اپنے گھر کے مرد سے آخری بار "آپ
ٹھیک ہیں؟" کب پوچھا تھا؟
اس کے پاس بیٹھ کے صرف اس کے بارے میں گفتگو کب کی تھی
، جس میں گھر کے راشن ضروریات اور مشکلات کا ذکر نہ ہو صرف ایسی گفتگو جس میں صرف
وہ ہوں ۔۔ ان کی ذات وہ ان کی پسند خواہشات اور خواب ہو ان کی الجھنیں اور پریشانیاں
ہو اور ان کا حل ہو ۔۔۔
************
Comments
Post a Comment