دل و دماغ کا فن
از قلم: وجیہہ یوسف
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق اگر دماغ ہی انسانی جذبات
کو قابو کرتا ہے تو پھر دل کا احساسات سے کیا تعلق ہے؟
سائنسی تحقیق کے مطابق جب دماغ جذباتی ہارمونز ریلیز
کرتا ہے، پھر چاہے وہ خوشی کے ہوں، غم کے ہوں یا پھر غصے کے، تو پھر وہ آپ کے دل کی
طرف خاص قسم کے سگنلز بھیجتا ہے۔ جب یہ سگنلز دل تک پہنچتے ہیں تو پھر دل ان سگنلز
کی نوعیت کے حساب سے اپنی دھڑکنے کی رفتار میں تبدیلی پیدا کر لیتا ہے۔ دماغ میں جس نوعیت کے
ہارمونز ریلیز ہوں گے، اور جس طرح کے سگنلز دل کو موصول ہوں گے، دل ان کی بنیاد پر
اپنی دھڑکنے کی رفتار کو کم یا پھر زیادہ کر لے گا۔
دل و دماغ کے
ارتباط کو لے کر سائنسی تحقیق تو یہی کہتی ہے۔ اس کے برعکس قرآن کیا کہتا ہے، حدیث
کیا کہتی ہے، کیا ان میں بھی دل و دماغ
کا آپس میں یہی ارتباط بیان کیا گیا ہے؟
سائنسی تحقیق کے مطابق تو ہر کام دماغ ہی کرتا ہے، وہی
انسانی جسم اور اس کے جذبات کو قابو کرتا ہے، لیکن قرآن میں، حدیث میں سب سے زیادہ
ذکر قلب یعنی دل کا آیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ دل کی بات کی گئی ہے۔
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں نا کہ اے اللہ ہمارا دل نرم کر
دے، ہمارے دل کو سیاہ ہونے سے بچا لے۔ ہم کہتے ہیں نا کہ ان کے دلوں پر مہر لگ گئی
ہے۔ ہم کیوں کہتے ہیں ایسا، ہم کیوں کرتے ہیں بار بار دل کی بات؟ آخر قرآن میں
دماغ کا اتنا کم اور دل کا اتنا زیادہ ذکر کیوں ہے؟
اصل میں ایک مومن کے لیے اس کا ایمان اس کے دل میں بستا
ہے۔ اس کے لیے دل ہی ایمان، جذبات اور احساسات کا گہوارہ ہے، بلکہ ہر کسی کے لیے ہی
یہ جذبات کا مرکز ہے۔
اور دماغ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جب
قرآن مجید میں اپنی قدرت کا ذکر کیا تو پھر اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس میں
نشانیاں ہیں ان کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔
غور و فکر کیسے کرتے ہیں؟ غور و فکر دماغ سے کرتے ہیں۔
ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں، کانوں سے سنتے ہیں اور دماغ سے سمجھتے ہیں، غور کرتے ہیں،
لیکن اصل فیصلے کی منظوری ہمارے دل نے دینی ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر جب اس دنیا فانی میں کوئی ہائی کورٹ کا
جج کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کے کیے گئے فیصلے، اس کی لگائی گئی منظوری کی مہر سے
ہی تو عمل میں آتے ہیں اور عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔ اگر وہ فیصلہ نہ کرے تو کیسے
کوئی چیز عمل میں آئے گی؟
اسی طرح جب تک ہمارا دل دماغ کے کسی فیصلے پر مہر نہیں
لگاتا، تب تک وہ عمل میں نہیں آتا۔
دین میں دل کو ایمان، جذبات اور احساسات کا بنیادی مرکز
کہا گیا ہے۔ یہ اسی لیے کہا گیا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں، دیکھتے ہیں، غور و فکر
بھی کرتے ہیں، لیکن اصل فیصلہ ہمارے دل نے کرنا ہوتا ہے۔
ہم اکثر لوگوں کے لیے کہتے ہیں نا کہ اللہ نے ان کے
دلوں پر مہر لگا دی۔ اسی لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ دیکھ تو سکتے ہیں، سمجھ بھی سکتے
ہیں، سن بھی سکتے ہیں، لیکن ان کا دل اس بات کو ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے
تو انہیں ہدایت نہیں ملتی، اس لیے تو وہ ایمان کے راستے پر نہیں ہوتے۔
نہیں، درحقیقت دماغ جذبات اور احساسات کو پیدا کرتا ہے،
لیکن ان پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا حقیقی فیصلہ دل کرتا ہے۔
آپ نے سنا تو ہوگا کہ کوئی انسان کسی غم یا شدید درد کی
وجہ سے مر گیا، تو وہ درد اسے دل کے مقام پر ہی ہوتا ہے۔ دنیا میں ایسے بہت سے لوگ
موجود ہیں جنہیں دل میں درد محسوس ہوتا ہے۔
اگر ہم بیٹھ کر کبھی دل و دماغ کا موازنہ کریں تو ہمیں
تب ہی بہتر انداز میں معلوم ہوگا کہ ان کا اصل تعلق کیا ہے، اور پھر اس تعلق کو
سمجھنے کے بعد ہم اپنی زندگی کے کئی فیصلے درست انداز میں لینے کے قابل ہو جائیں
گے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اس موضوع پر اور لکھوں تو پلیز
مجھے میرے انسٹاگرام پر ریویو دیں اور بتائیں کہ کیا مجھے اس پر اور لکھنا چاہیے
Insta account:
https://www.instagram.com/_wajihayousaf?igsi=MTBmNXNjZXk4aWFveg%3D%3D&utm_source=qr
Comments
Post a Comment