Child Perpetrator Article by Mariam Yousaf

Child Perpetrator

Mariam Yousaf

مریم یوسف

 

پیچھلے مہینے ایک بارہ سالہ لڑکے نے اڑھائی سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی ۔۔

اس خبر نے پورے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کیا ہوا تھا۔

ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بُک، ہر جگہ یہی بات ہو رہی تھی۔

ہونی بھی چاہیے تھی ۔ ضروری تھا،

 

 لیکن اس طوفان میں منافقت کیوں تھی؟

 

 سب کہہ رہے تھے کہ مجرم کو سزا ملنی چاہیے، کوئی یہ کیوں نہیں کہ رہا تھا کہ مجرم وہ بچہ نہیں ہے ۔ مجرم تو ہم والدین ہیں۔۔

 

کوئی یہ بات کیوں نہیں کر رہا تھا؟

 

کیوں ہم اس سارے قصے میں یہ بھول گئے کہ وہ بچہ ہے۔ اس کا دماغ اس کا ذہین اس قابل نہیں ہے ۔۔

کوئی کیوں یہ بات نہیں کر رہا تھا کہ اس بچے کو درندہ کس نے بنایا۔۔۔

کھلونوں سے کھیلنے کی عمر میں وہ بچہ کسی کی زندگی سے کسے کھیل گیا؟...

 

کیا قصوروار وہ بچہ ہے؟

 

ایک بارہ سال کا بچہ... درندہ کیسے بن گیا؟

وہ بچہ جسے یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ کون ہے، اس کی اصل پہچان کیا ہے، یہ دنیا کیا ہے، اس کا کام کیا ہے، اس کا فرض کیا ہے۔

وہ بچہ جو ابھی چھوٹا ہے، جس کی عمر کھیلنے اور غلطیاں کرنے کی ہے، وہ گناہ گار کیسے بن گیا؟

 

شرارتیں کرنے کی عمر میں ہمارے بچے گناہ کر رہے ہیں۔

یہ ایک ایسا سوال ہے جسے سوچوں تو میرا دماغ پھٹ جاتا ہے۔

 

کانٹے بنتے پھول

 

بچے تو پھول ہوتے ہیں۔ پھر وہ کانٹے کیسے بن گئے؟

 

بچپن تو عمر کا وہ دور ہوتا ہے جو صرف ہمارا ہوتا ہے۔

ہمارا اپنا۔ جس میں ہم کھیلتے ہیں، کودتے ہیں، شرارتیں کرتے ہیں، ضد کرتے ہیں۔

ہنستے ہیں، ہنساتے ہیں، روتے ہیں اور رُلاتے بھی ہیں۔ مار کھاتے ہیں اور مارتے بھی ہیں۔

 

لیکن وہی بچے جن کا کام کھیلنا اور شرارت کرنا تھا، وہ دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنا کیسے شروع ہو گئے؟

وہ دوسروں کی زندگیاں اجاڑنا کیسے شروع ہو گئے؟

 

سچ یہ ہے کہ کوئی بچہ مجرم پیدا نہیں ہوتا۔ اسے مجرم بنایا جاتا ہے۔

 

اس لیے سوال یہ نہیں کہ "اس نے کیا کیا؟ "۔

سوال یہ ہے کہ "ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟؟

کیوں کیا ؟؟

بچے پھول ہوتے ہیں۔

اگر وہ کانٹے بن رہے ہیں تو پانی، مٹی اور ماحول کو دیکھنا ہوگا۔

 

آخر اصل مجرم کون ہے؟

 

اصل مجرم ہمارے والدین اور ہمارا معاشرہ ہیں۔

میری نظر میں یہ دونوں برابر کے حصہ دار ہیں، دونوں کا جرم ایک جتنا ہی ہے۔

 

برابر کیوں؟

 

کیونکہ ہمارے معاشرے کی فرسودہ رسومات اور نظریات نے ہمارے والدین کو کمزور بنا دیا ہے۔

ہمارے معاشرے نے جنسی خواہشات کو گناہ قرار دے کر اور مذہبی رنگ دے کر اسے اتنا سنگین موضوع بنا دیا ہے کہ لوگ اس کا نام لینا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کی نظر میں یہ لفظ بذاتِ خود ایک گناہ ہے اور عمل تو خیر گناہِ کبیرہ ہے ہی۔

 

ہمارے معاشرے نے ہمارے والدین کو گناہ و ثواب کی اس جنگ میں ذہنی طور پر اتنا مفلوج بنا دیا ہے کہ وہ بھول گئے ہیں کہ یہ بچوں کی تربیت کا لازمی حصہ ہے۔

یہ وہ چیز ہے جس پر والدین اگر غور نہیں کریں گے تو دونوں کا نقصان ہے۔

 

مجھے لگتا ہے ہم والدین کے طور پر ناکام ہو گئے ہیں۔ 

ہم نے اپنے بچوں کو بڑا ضرور کیا، لیکن ان کی تربیت نہیں کی۔ 

ہم نے اچھے کپڑے، اچھا کھانا، اچھا اسکول اور اچھا لائف اسٹائل دینے کو ہی تربیت سمجھ لیا۔ 

ہم یہ سمجھتے رہے کہ بچے، خاص طور پر بیٹے، خود ہی جوان ہو جائیں گے۔ 

اور بیٹیوں کو تربیت کے نام پر صرف کھانا پکانا اور گھر سنبھالنا سکھا دیا۔

 

سب سے بڑی غلطی ہم نے یہ کی کہ حیاء کے تقاضے میں ہم نے اپنے بچوں کو وہ باتیں ہی نہیں سکھائیں جن کا جاننا ان کے لیے سب سے زیادہ ضروری تھا۔ 

اور آج اسی ایک کمی نے ہمارے بچوں کو بےحیا کر دیا ہے

۔

پاکستان میں 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق 13 سال سے کم عمر کے 70% بچوں کو بلوغت، جسم اور حدود کے بارے میں گھر سے کوئی معلومات نہیں ملتی.

 

سیکس ایجوکیشن بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی اعلیٰ تعلیم، اچھی نوکری اور گھرداری ہے۔

بلکہ میری نظر میں یہ اس سے بھی زیادہ ضروری اور لازم ہے۔ 

کامیاب زندگی گزارنے کے لیے اچھی تعلیم اور اچھی نوکری ضروری ہے، مگر بہترین اور پُرسکون زندگی گزارنے کے لیے سیکس ایجوکیشن لازمی ہے۔

فون

 

 

بلوغت

 

آگے بڑھنے سے پہلے یہ جان لیں کہ بلوغت ہوتی کیا ہے اور کس عمر میں ہوتی ہے۔

کیا بلوغت میں صرف جسمانی تبدیلیاں ہی ہوتی ہیں؟ 

کیا اس دور میں آواز کی تبدیلی اور جسمانی اعضا کی میچورٹی ہی اہم عنصر ہے؟

 

نہیں!

WHO کے مطابق 10-19 سال کی عمر "Adolescence" کہلاتی ہے۔ یہ وہ دور ہے جب دماغ میں ڈوپامائن اور ٹیسٹوسٹیرون/ایسٹروجن جیسے ہارمونز ریلیز ہوتے ہیں۔

 

 

بلوغت کا دور ہماری زندگی کا سب سے اہم دور ہوتا ہے۔ 

یہی وہ وقت ہے جب لڑکے اور لڑکیوں کے اندر جنسی اور جذباتی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ 

اس عمر میں وہ اپنے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کو لے کر پریشان بھی ہوتے ہیں اور متجس بھی۔ 

یہ وہ دور ہے جب وہ اپنے بارے میں، اپنی شناخت کے بارے میں اور اپنے کردار کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہیں۔ 

وہ نئے تعلقات بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور پرانے رشتوں کی نوعیت کو سمجھنے لگتے ہیں۔

 

ان کے ذہن میں سوال آتا ہے: "آخر یہ سب اچانک کیوں ہو رہا ہے؟ کیا یہ میرے ساتھ ہی ہو رہا ہے یا سب کے ساتھ ہوتا ہے؟" 

یہ وہ دور ہوتا ہے جب بچے مخالف جنس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ لڑکے لڑکیوں میں اور لڑکیاں لڑکوں میں دلچسپی کا اظہار کرتی ہیں اور دوستی بڑھانے اور تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

اس تبدیلی کے ساتھ بچوں میں sexual desires جنم لیتی ہیں۔ مختلف ہارمونز ریلیز ہوتے ہیں۔ 

اور بچے ان سب کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

 

اور یہی وہ پوائنٹ ہے جہاں والدین کا کردار سب سے اہم ہو جاتا ہے۔ 

والدین کو اسی پوائنٹ پر بچوں کو سکھانا چاہیے کہ ان خواہشات کو کنٹرول کیسے کرنا ہے، کیوں کرنا ہے، اور اسلام اس سب کے بارے میں کیا ہدایت دیتا ہے۔

 

اگر اس مرحلے پر والدین negligence کا رویہ اپنائیں گے، تو بچہ اسی الجھن میں اٹک کر رہ جائے گا۔

 

والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے دوست بنیں۔ 

ماں اپنی بیٹی سے اور باپ اپنے بیٹے سے جسمانی تبدیلیوں اور ان کی وجہ کے بارے میں کھل کر بات کرے۔ 

انہیں سمجھائے کہ یہ تبدیلیاں فطرت ہیں، یہ تبدیلیاں ضروری ہیں اور ان کی وجہ کیا ہے۔

 

اور یہ بھی واضح کرے کہ گھر میں یہ باتیں سرِعام کیوں نہیں ہوتیں۔ 

بچوں کو یہ یقین دلائے کہ اگر ان کے ذہن میں کوئی الجھن یا سوال ہے تو وہ اکیلے میں، عزت کے ساتھ آپ سے پوچھ سکتے ہیں۔

 

لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟

 

ہم ٹوک دیتے ہیں، ڈانٹ دیتے ہیں، "شرم کرو" کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں۔ 

آدھی ادھوری بات کر کے ہم خود اپنے بچوں کو متجس بنا دیتے ہیں۔ 

اور پھر وہ اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کے لیے وہیں جاتے ہیں جہاں انہیں غلط معلومات ملتی ہیں۔

اسی خلاء کو فحش مواد پر کرتا ہے۔ *VPN اور پورن سائٹس کی ٹریفک* میں پاکستان کا نام اکثر ٹاپ 10 میں آتا ہے۔ یہ تجسس نہیں، یہ لاعلمی کا نتیجہ ہے۔

 

ہم اپنے بچوں سے بہت دور ہو گئے ہیں۔

 

 چھوٹے ہاتھوں میں بڑا کھنجر ۔۔۔

 

ہم نے اپنے بچوں سے بہت دور ہو گئے ہیں۔

اچھے ماں باپ بننے اور بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے کے چکر میں، اور سچ کہوں تو خود کو ماڈرن ماں باپ بنانے اور فیشن کے نام پرائیویسی دینے کے چکر میں ہم نے ان کے ہاتھوں میں فون تھما دیے ہیں اور انہیں الگ کمرے دے دیے ہیں۔

 

*لیکن ہم بھول گئے کہ یہ فون کھلونا نہیں، یہ ایک کھلی دنیا ہے۔* 

ہم نے 7 سال، 9 سال، 11 سال کے بچوں کے ہاتھ میں بغیر کسی پیٹرن لاک، بغیر کسی Parental Control کے اسمارٹ فون دے دیا۔

کیوں؟ کیونکہ ہمیں سکون چاہیے تھا۔

بچہ روئے تو یوٹیوب لگا دو۔ ضد کرے تو گیم دے دو۔ مہمان آئیں تو کارٹون چلا دو۔ ہمیں لگا "

مصروف ہے تو محفوظ ہے"۔

 

مگر ہم یہ سمجھ نہ سکے کہ فون عمر نہیں پوچھتا۔

اسے فرق نہیں پڑتا سامنے 6 سال کا بچہ ہے یا 26 سال کا۔

الگورتھم کا کام صرف ایک ہے: آپ کو اسکرین پر روکے رکھنا۔

آپ نے ایک بار "cartoon" سرچ کیا، اگلی بار وہ آپ کو "cartoon + adult" دکھا دے گا۔

آپ نے ایک بار کوئی غلط کلک کیا، اگلے 10 منٹ میں آپ کی پوری فیڈ بدل جائے گی۔

 

اور سب سے خطرناک بات؟ فون سوال کا جواب دیتا ہے، تربیت نہیں کرتا۔

وہ آدھا سچ نہیں بتاتا، پورا سچ بے نقاب کر دیتا ہے۔

بچہ ایک سوال پوچھتا ہے، فون اسے 100 ویڈیوز دکھا دیتا ہے۔

اور پھر وہیں سے شروع ہوتا ہے "تجسس سے عادت" کا سفر۔

 

ہم ان سے بات ہی نہیں کرتے اور یہ جاننے کی بھی کوشش نہیں کرتے کہ ہمارے بچے سارا دن فون پر کرتے کیا ہیں۔ کیا وہ اس کا غلط استعمال تو نہیں کر رہے؟ 

اور پتہ کریں بھی کیوں؟ کیونکہ ہم تو پُرسکون ہیں کہ ہمارے بچے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے اور ہمیں ان کے لیے گھر میں بندھ کر رہنا نہیں پڑتا۔

 

_Pew Research 2024_ کے مطابق پاکستان میں 15-19 سال کے 68% نوجوانوں کے پاس ذاتی اسمارٹ فون ہے اور 90% اسے بغیر نگرانی استعمال کرتے ہیں۔

 

اور اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

 

ہمارے بچے اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے اور اپنے تجس کو ختم کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں میں موجود فون کا استعمال کرتے ہیں۔

کیونکہ فون عمر نہیں پوچھتا، تربیت نہیں کرتا۔ وہ صرف وہی کرتا ہے جس کا اس سے کہا جائے۔

فون صرف سوال کا جواب دیتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ جواب آدھا دینا ہے یا پورا۔

 

اور پھر یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔

بچے ایک سوال کے جواب میں مزید سوال کرتے ہیں۔

اور پھر یہ عمل محض معلومات کی حد تک نہیں رہتا۔ بچے سوال کے جواب سے "پروسس" کے عمل تک جاتے ہیں اور مختلف فحش ویڈیوز دیکھتے ہیں۔

 

اور پھر یہ ان کا روز کا عمل بن جاتا ہے۔

شروع میں پہلی دفعہ دیکھنے پر ان کا دل دھڑکتا ہے۔ وہ بے چین ہوتے ہیں، انہیں ڈر لگتا ہے۔

لیکن وہ ڈر بھی آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور اس طرح وہ روز یہ کام شروع کر دیتے ہیں اور enjoy کرتے ہیں۔

 

اور پھر یہ enjoyment عادت میں بدل جاتی ہے۔

اور کسی چیز کی عادت ہو جانا سب سے بڑی تباہی ہوتی ہے۔

اور جب عادت نشے کی شکل اختیار کر لے تو وہ موت ہے۔

جسم کا نشہ تو دنیا کا سب سے بڑا نشہ ہے۔ اور اگر یہ کچی عمر میں لگ جائے تو یہ صرف اس انسان کی تباہی یا موت نہیں ہوتی۔ یہ ماں باپ کی موت اور معاشرے کی تباہی ہوتی ہے۔

 

اور جب ان کی خواہش، desire، out of control ہو جائے۔ ان کا نشہ حد سے بڑھ جائے تو وہ صرف ویڈیوز دیکھنے تک محدود نہیں رہتے

پھر ان کے اس نشے کی آگ کا شکار معصوم بچیاں ہوتی ہیں کیونکہ نشے کرنے والے کو تو نشے سے غرض ہوتی ہے سامنے کون ہے اس سے اسے کیا فرق ۔۔

عمر رشتہ ، گناہ ثواب سب ثانوی حیثیت حاصل کرلیتے ہیں ۔۔

 

پھر  کیا ؟؟

پھر وہی جس کا ہمیں گمان بھی نہیں ہوتا ۔۔ اور وہی جس کے ڈر سے ہم اپنے بچوں سے کھل کر بات نہیں کرتے، انہیں بتاتے نہیں، انہیں سمجھاتے نہیں ہیں۔ 

اور جس کے کنارے پر جانے سے بھی ہم ڈرتے تھے، ہمارے بچے اس تباہی کے سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔

حل کیا ہے۔۔۔

میں یہ نہیں کہ رہی کہ بچوں کی مغربی تربیت کردے ۔ انہیں چھوٹی عمر میں ہی سب بتا دے ۔ اور ان کی نجی زندگی کو ان کی تبدیلیوں کو کھلے عام بیٹھ کے حل کرے ۔۔

ہرگز نہیں ،

بس اتنا کرے کے اپنے بچوں سے غافل نہ ہوں ،ان کے دوست بنے ان کی تربیت کرے وہ تربیت جیسے تربیت کہتے ہیں ان کی شخصیت پر کام کرے ان کو اس معاشرے میں رہنے کے قابل بنائے ۔۔

بچے پیدا کر کے ان کو اچھا کھانا اچھے کپڑے اور اچھا مستقبل دینا ہی ماں باپ کی زمہ داری نہیں ہوتی ۔ اولاد کی تربیت کرنا انہیں بہترین انسان بنانا، ان کو اچھے برے کی تمیز سکھانا بھی ماں باپ کی زمہ داری ہے۔

ماں باپ کا کام بیٹے کو بیٹا بنانا نہیں ہے اسے انسان بنانا ہے ، اس کو اس دنیا میں رہنے کے قابل بنانا ہے۔

تو کیا کیا جاے ۔۔

سب سے پہلے تو والدین کی اصلاح کی جاے انہیں بتایا جاے کے ان کے فرائض کیا ہیں ، اولاد کی تربیت کیسے کی جاے ، انہیں بتایا جاے کہ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا جیتنا ضروری ہے۔۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں ان کو سمجھے ان کو جانے کہ وہ کیا سوچتے ہیں ، ان کے ذہین میں کیا چل رہا ہے ، ان کی شخصیت کا رخ کیا ہے، اور پھر اس کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت کرے۔

دوست

اپنے بچوں کے دوست  ضرور بنے لیکن ماں باپ بھی بنے ، انہیں ان کی غلط حرکت پر ڈانٹے اور سمجھایں بھی ۔

اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرے ،ان کو ماڈرن زمانے کی ہر چیز دیں لیکن نگرانی بھی کرے ۔

Parental control بہت ضروری ہے ۔

ہم ٹیکنالوجی سے لڑ نہیں سکتے لیکن اسے کنٹرول تو کر ہی سکتے ہیں نہ ۔۔

تو کنٹرول کرے۔۔ مانیٹر کرے ،اپنے بچوں کو فون دے کے کھلا نہ چھوڑیں دیکھے کہ وہ فون کا استعمال کیسے کر رہے ہیں کہیں وہ منفی سرگرمیوں کا شکار تو نہیں ۔ ان کے گوگل یوٹیوب کا پاسورڈ اپنے بھی پاس رکھے ان کی سرچ ہسٹری دیکھے۔

گھرکا ماحول بہتر بنانے اپنے بچوں کے سامنے بڑوں والی باتیں کرنے سے گریز کرے اگر ان کے ساتھ بیٹھ کے ٹی وی دیکھنا بھی ہے تو صرف وہ مواد دیکھے جو ان کی عمر کے مطابق ہو ۔

گھر میں لاونج میں بیٹھ کے اگر آپ اپنے بچوں کے سامنے Hollywood or Bollywood  فلمیں دیکھے گئے جس میں نہ تو لباس مناسب ہوتا ہے اور نہ نہی ڈائیلاگ اور سین، اس میں بوس وکنار کے سین ہوتے ہیں جو کہ ہمارے لیے تو نارمل ہو سکتے ہیں لیکن ہارے بچوں کے لیے نہیں ۔  بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں اگر وہ باتیں جلدی سمجھتے نہیں ہیں تو بھولتے بھی نہیں ہیں ، ایک چیز اگر ان کے ذہین میں بیٹھ جاے تو وہ اس کی تہ تک جاتے ہیں ۔۔

 

انڈین فلموں کے گانے جو کے عمومی طور پر ہر گھر میں چلتے ہیں ان کا مواد بہت ہی فحش ہوتا ہے لیکن نہ صرف ہم خود سنتے ہیں بلکے اپنے بچوں کو بھی ساتھ شامل کرتے ہیں اور وہ بچے جب ان گانوں پر ڈانس کرتے ہیں تو ہم خوش ہو رہے کرتے ہیں ۔۔

دوسرا قدم: عمر کے حساب سے تربیت

 عمر کے حساب سے تربیت بہت ضروری ہے ۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو اتنا ہی بتائیں اور دیکھایں جتنی ان کی عمر ہے ۔

ہمیں اپنے بچوں کو بچہ رہنے دینا چاہیے۔۔

سیکس ایجوکیشن ضروری ہے بہت ضروری ہے لیکن اسلامی اصولوں اور عمر کے مطابق ۔۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو وہ سکھایں جس کا حکم ہمارے اللہ نے دیا ہمارا مذہب جو کہتا ہے ۔۔

ہماری سب سے بڑی غلطی ماڈرن ہونے کے چکروں میں اسلام سے دوری ہے ۔۔

ہمیں چاہیں کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں پر کریں ۔

ہم کیا کرتے ہیں یہ تو ہم اپنے بچوں کو جسمانی خواہشات اور تبدیلیوں کا بتا ہی نہیں رہے، ان سے بات ہی نہیں کر رہے او اگر کرتے ہیں تو ہم عمر کا لحاظ نہیں کرتے ۔ تو ہمیں چاہیں کہ ہم بچوں کی ان کی عمر کے مطابق اصلاح کرے انہیں وقت سے پہلے بڑا نہ کریں۔

 

6 سال کے بچے کو "گڈ ٹچ بیڈ ٹچ" سکھائیں۔ 10 سال کے بچے کو جسم کی تبدیلی۔ 13 سال کے بچے کو اسلام کی حدود اور رشتوں کا احترام۔

یہ ننگا پن نہیں، یہ حفاظت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی حیاء کے ساتھ تعلیم دی ہے

 معاشرے کا کردار۔

معاشرے کا کردار سب سے اہم ہیں بلکے اتنا ہی اہم ہے جتنا والدین کا ۔۔

ہمارا میڈیا، یوٹیوبر، ٹک ٹاکر یہ ہمارے بچوں کی زہین سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن یہ جس طرح کا مواد دے رہے ہیں وہ تباہی ہے انہیں اس چیز کا احساس ہونا چاہیے ۔ انہیں مناسب لباس اور مناسب مواد دینا چاہیے ، رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رکھنا چاہیے فیملی ولاگینگ کے نام پے بے حیائ نہیں دیکھانی چاہیے کیوں کہ ہمارے بچے ان کو دیکھتے ہیں ۔

اسکولوں میں تربیت یافتہ کونسلر ہوں۔ جو بچوں کی اصلاح کرے ، اور استاد جو کہ رول ماڈل ہوتے ہیں وہ اپنے کردار کی اصلاح کریں ۔

اور ہم سب مل کر اس "تابو" کو توڑیں۔ کیونکہ جو بات گھر میں نہیں ہوگی، وہ گلی اور انٹرنیٹ پر ضرور ہوگی۔

 

مجرم وہ بچہ نہیں ہے اصل مجرم ہم ہیں ...

ہم والدین ۔۔۔ ہم مجرم ہیں اس بچی کے، اس کی ماں کے اور اس لڑکے کے بھی ۔۔۔

کیونکہ ہم ہی ہیں جنہوں نے بچوں کی تربیت کو for granted لیا۔۔

ہم والدین ہی ہیں، جو بچوں کی تربیت نہ کر کے انہیں انسان نہیں بنا رہے۔۔ کامیاب انسان بننے کا مطلب پیسہ کمانا نہیں ہوتا ۔۔۔ کامیاب انسان کا مطلب ہے ہر رشتے میں اپنا فرض نبھانا ہوتا ہے ۔۔

ہم کامیاب والدین اور best parents تب ہی بن سکتے ہیں جب ہم اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں گے۔۔

ہم نے تربیت میں کوتاہی کر کے اس بچے کا بچپن اس کی معصومیت کا قتل کر دیا ہے ۔۔

 

آج اگر اس بچی اس کی ماں اور اس بارہ سالہ لڑکے کا کوئی مجرم ہے تو وہ ہم والدین ہیں، ہمارا معاشرہ ہے، اس کی کوتاہی ہے، اس کی فیشن کے نام پر بے حیائی ہے اور پیسے کے پیچھے دوڑ ہے ۔۔ قانون کی نااہلی ہے۔۔۔

https://www.instagram.com/mariam.yousaf1234?stkn=MThqaWhsc2tycDdtNg==

Comments