Ghusa ek mafsiyati bemari article by Tanzil khan Psychologist

*غصہ—ایک نفسیاتی حقیقت، جذباتی دفاع اور اس کا علاج*

 

غصہ انسان کے اندر ابھرنے والا ایک انتہائی شدید اور طاقتور جذباتی ردِعمل ہے۔ جدید نفسیات اور اسلامی تعلیمات دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ غصہ بذاتِ خود کوئی بنیادی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ انسان کے اندر دَبے ہوئے کسی دوسرے گہرے درد، خوف یا تناؤ کا ظاہری اظہار ہوتا ہے.

 

*1. غصہ کیوں آتا ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟*

 

نفسیات (Psychology) کے مطابق غصہ ایک ثانوی جذبہ (Secondary Emotion) ہے۔ انسان کا دماغ اسے اکثر بطورِ دفاعی نظام (Defense Mechanism) استعمال کرتا ہے۔

 

 * *پوشیدہ جذبات (Primary Emotions):* غصے کے پسِ پردہ اکثر خوف، دل آزاری، بے عزتی کا احساس، ناکامی یا محرومی چھپی ہوتی ہے۔ جب انسان اندرونی طور پر خود کو بے بس محسوس کرتا ہے تو دماغ غصے کی شکل میں طاقت کا ایک مصنوعی احساس پیدا کرتا ہے۔

 

 * *ذاتی حدود کی پامالی (Boundary Violation):* جب کوئی شخص آپ کی ذات، احترام یا اصولوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔

 

 * *ذہنی و جسمانی تناؤ (Cognitive Stress):* نیند کی کمی، مسلسل ذہنی تھکن اور غیر منطقی توقعات بھی انسان کے اندر برداشت کی صلاحیت کو ختم کر دیتی ہیں۔

 

*2. غصہ کس حد تک حرام ہے اور اسلام کا حکم کیا ہے؟*

 

اسلام میں وہ غصہ جو انسان کو عقل و شعور کے دائرے سے باہر نکال دے اور جس کے نتیجے میں ظلم، ناانصافی، گالی گلوچ یا رشتوں کی بربادی ہو، سخت حرام اور گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔

 

*قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے غصہ پی جانے والوں کو اپنا محبوب قرار دیا ہے:*

 

*"وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ"*

 *"اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے؛ اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔" (سورۃ آل عمران: 134)*

 

*حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے حقیقی پہلوان اور طاقتور شخص کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا:*

 

*"پہلوان وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔" (صحیح بخاری)*

 

**3. غصے کے فائدے اور نقصانات کیا ہیں؟*

 

*غصے کے فائدے:**

 

 * *حفاظتی اشارہ:* یہ ایک حیاتیاتی الارم (Biological Alarm) ہے جو انسان کو آگاه کرتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی ناانصافی یا زبردستی ہو رہی ہے۔

لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کہیں غصہ اچھی چیز ہے اور کرنا چاہیے ہرگز نہیں اسکو ختم کرنا چاہیے تاکہ ہماری انا ختم ہوسکے ورنہ ہم انا کے ہاتھوں خود کو برباد کر دیں گے۔

 

 * *تخلیقی توانائی:* اگر اس پر قابو رکھا جائے تو یہ انسان کو حق کے لیے آواز اٹھانے اور حالات کو بہتر بنانے کی تحریک دیتا ہے۔

 

*غصے کے نقصانات:*

 

 ** *جسمانی نقصان:* شدید غصے میں جسم کا دباؤ کا نظام فعال ہو جاتا ہے، جس سے ہارمونز کا توازن بگڑتا ہے اور ہائی بلڈ پریشر یا  heart attack کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 

 * *تعلقات کا زوال:* غصے کی حالت میں عقل کا منطقی حصہ (Prefrontal Cortex) عارضی طور پر معطل ہو جاتا ہے، جس سے انسان ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جن کا پچھتاوا عمر بھر رہتا ہے۔

 

*4. غصے کو کنٹرول کرنا اور دبا دینا بہتر ہے یا اس کی وجہ ڈھونڈنا؟*

 

نفسیات کے مطابق غصے کو زبردستی دبانا (Repression) انتہائی نقصان دہ ہے۔ دبایا ہوا غصہ اندر ہی اندر اینزائٹی، ڈپریشن اور اچانک شدید جذباتی دھماکے کا سبب بنتا ہے۔

 

 

 * *عارضی خود ضبطی (Immediate Control)*: شدید لمحے میں خاموشی اختیار کرنا تاکہ کوئی گناہ یا نا قابلِ تلافی نقصان نہ ہو۔

 

 *(Root Cause Analysis):* پُرسکون ہونے کے بعد اس کی اصل وجہ ڈھونڈ کر اس کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا۔

 

*5. غصے کی وجہ کیسے ڈھونڈنی چاہیے اور یہ کیسے ملتی ہے؟*

 

  *اندرونی تجزیہ (Self-Inquiry):* غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد خود سے سوال کریں: "مجھے اس وقت اصل میں کس بات نے تکلیف پہنچائی؟ کیا میں ڈرا ہوا تھا یا میری خودداری کو ٹھیس پہنچی؟

 

 * *تحریک دینے والے عوامل (Trigger Identification):* ان تمام باتوں یا حالات کی فہرست بنائیں جو آپ کے اندر غصے کی لہر پیدا کرتے ہیں۔

 

 * *احساسات کا قلمبند کرنا (Emotional Journaling):* اپنے احساسات کو کاغذ پر تحریر کریں۔ جب آپ لکھتے ہیں تو آپ کا دماغ غصے کو منطقی انداز میں پروسیس کرنا شروع کر دیتا ہے۔

 

6*. *غصے کا جامع علاج اور نفسیاتی تھراپیز (Psychological Therapies)*

 

 *کوگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (CBT):* یہ تھراپی غیر منطقی سوچ کے پیٹرن کو بدلتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ دنیا آپ کے کنٹرول میں نہیں، لیکن آپ کا اپنا ردِعمل مکمل طور پر آپ کے ہاتھ میں ہے۔

 

 *ڈائلیٹیکل بیہیویئر تھراپی (DBT):*  یہ تکنیک شدید جذبات کی لہروں میں توازن پیدا کرنے اور برداشت کی قوت بڑھانے کی تربیت دیتی ہے۔

 

 *5-4-3-2-1 گراؤنڈنگ تکنیک:* شدید غصے کے وقت حواس کو فعال کریں—4 چیزیں دیکھیں، 3 سنیں، 2 چھوئیں، اور 1 گہرا سانس لیں۔ اس سے دماغ کا توجہ کا مرکز فوراً بدل جاتا ہے۔

 

 *4-7-8 سانس کی مشق*:4 سیکنڈ ناک سے سانس لیں، 7 سیکنڈ روکیں، اور 8 سیکنڈ میں آہستہ باہر نکالیں۔ یہ مشق جسمانی تناؤ کو فوراً کم کرتی ہے۔

 

  *نیورو لنگوسٹک پروگرامنگ (NLP)*: اپنے دماغ کے سوچنے کے انداز اور فوری ردِعمل کی عادت کو مثبت طریقے سے ری پروگرام (Reprogram) کرنا۔

 

*پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کرنا مت بھولیے گا آپکے لائک سے ہمیں بہترین کام کرنے میں موٹیویشن ملے گی اپنا قیمتی وقت دینے کا  شکریہ*

 

*Tanzeel Khan Clinical Psychologist*

*************

Comments