Youm e azadi article by Maryam Rajpoot

آج یومِ آزادی ہے، 14 اگست 1947 کو ہمارا ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا۔ اسے بنانے والوں نے یقیناً اپنے ملک کی بہنوں بیٹیوں کی حفاظت کی قسم اٹھائی ہو گی۔

 

اتنے سالوں میں جیسے ملک بدلا۔ چور آئے، انسانیت ہاری اور اقتدار بدلے۔ اور وہ عہد مٹی کی پرتوں میں کہیں گُم ہو گئے۔

 

ہم آزادی کے نام پر نغمے سنتے ہیں، جھنڈے لہراتے ہیں، کہانیاں سنتے ہیں، ڈاکیومنٹریز دیکھتے ہیں۔

ہم وہ عہد دوبارہ کیوں نہیں دہراتے؟ جس میں وطن کی بہنوں بیٹیوں کی حفاظت کا عہد تھا۔

 

ملک میں چور آئے، ہم نے سہا۔

ملک بیچا گیا، ہم نے سہا۔

اقتدار ناحق دیے گئے، ہم نے سہا۔

مہنگائی کی گئی، ہم نے سہا۔

بہن بیٹی کی عزت چھینی گئی، تو بھی ہم نے سہا۔

 

سہتے ہی رہے ہیں۔ نہ دیکھنے والوں نے کوئی جنگ لڑی، نہ اقتدار والوں نے مجرم پکڑے۔

کہ جب تک سب سہتے رہیں گے، تب تک پانی سر سے اوپر جا چکا ہو گا۔

 

اب شاید وہی وقت ہے۔

آزادی کا نام لیتے شرم آتی ہے، کیونکہ یہ لفظ زندہ ہے، اس کا وجود مر گیا ہے۔ اس سے جڑا عہد مر گیا ہے۔

عہد زندہ کریں۔ اقتدار والوں کو بتائیں کہ پروٹیسٹ، دنگے، فساد اور مختلف تقریریں ملک نہیں بچائیں گی۔ وہ پرانا عہد ہی ملک بچا سکتا ہے جو ہم سب بھول گئے ہیں۔

 

~ مریم راجپوت

Comments