Umeed pe dunya qaim hai article by Aleena Noor


عنوان:

امید پہ دنیا قائم ہے

از قلم: علینہ نور

 

رات کے 2 بجے تھے۔ کمرے میں صرف ٹیبل لیمپ کی ہلکی زرد روشنی تھی جو دیواروں پر سائے بنا رہی تھی۔ 

میز پر بکھرے کاغذ، کچھ کٹے ہوئے سی وی، آدھا پیا ہوا چائے کا کپ جس پر ٹھنڈی ملائی جم چکی تھی، اور سامنے دیوار پر لگا ہوا کیلنڈر جس پر تاریخیں سرخ قلم سے کراس ہوتی جا رہی تھیں۔ 

حفصہ کرسی پر سر ٹیکائے چھت کو گھور رہی تھی۔ تین بار انٹرویو دیا، تینوں بار ریجیکٹ کا ای میل۔ ہر بار وجہ ایک ہی: "ہم آپ سے رابطہ کریں گے"۔

فون وائبریٹ ہوا۔ امی کا میسج تھا: بیٹا تھک گئی ہوگی، سو جاؤ۔ اللہ بہتر کرے گا 

حفصہ نے آنکھیں بند کر کے مسکرا کر جواب لکھا: نہیں امی... امید پہ دنیا قائم ہے نا 

میسج بھیج کر وہ ہنس پڑی۔ خود پر ہی۔ "یہ لائن کتنی بار دہرائی ہے... پر اب یقین بھی ہے یا بس عادت؟"

اگلی صبح پھر وہی روٹین۔ استری کی ہوئی قمیض، ہاتھ میں موٹی فائل، پاؤں میں وہی پرانے جوتے جن کی ایڑی گھس چکی تھی۔ 

بس اسٹینڈ پر رش تھا۔ دھوپ تیز تھی۔ وہ ایک سائیڈ پر کھڑی سی وی کو مضبوطی سے پکڑے کھڑی تھی جب ایک بوڑھے چاچا نے پاس آ کر پوچھا بیٹا اتنی صبح کہاں کی دوڑ؟

حفصہ نے نظریں چرا کر کہا "نوکری کی تلاش میں چاچا" 

چاچا نے گہری سانس لی۔ جیب سے تہ کیا ہوا پرانا اخبار نکالا۔ ایک کونے پر انگلی رکھی۔ "یہاں دیکھو۔ نئی کھلی ہے۔ چھوٹی سی کمپنی ہے، تنخواہ زیادہ نہیں ہوگی پر دل والے لوگ ہیں۔ میرا بھتیجا وہیں کام کرتا ہے" 

حفصہ نے پتہ نوٹ کیا۔ دل میں آواز آئی "یہ بھی آخری بار ہی ہوگا"۔ فوراً خود کو ڈانٹا۔ "نہیں... امید پہ دنیا قائم ہے"

اس رات حفصہ نے قرآن کھولا۔ سورہ نوح پڑھتے ہوئے آنکھیں بھر آئیں۔ 

اسے یاد آیا جب حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ کا حکم ملا کہ کشتی بناؤ۔ جگہ آباد تھی، آسمان صاف تھا۔ لوگ گزرتے اور ہنستے: "نوح! پانی کہاں ہے؟ یہ کشتی کس لیے؟"  پر نوح علیہ السلام نے کسی کی بات پر کان نہ دھرا۔ کیونکہ انہیں اللہ کے حکم پر یقین تھا۔ انہیں پتا تھا ناامیدی کفر ہے۔ 

اور پھر اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ طوفان آیا، کشتی بچ گئی، اور ایمان والوں کی نسلیں چلتی رہیں۔ 

حفصہ نے سجدے میں سر رکھ دیا۔ "یا اللہ... جب نوح علیہ السلام اتنے طعنوں کے بعد بھی امید نہیں چھوڑ سکے تو میں ایک نوکری پر کیسے ہار مان جاؤں؟"

 

انٹرویو کا کمرہ چھوٹا تھا۔ دیواروں پر پودے، میز پر کتابیں۔ سامنے 40 سال کی ایک عورت بیٹھی تھی۔ نہ کوئی مشکل سوال، نہ ٹیسٹ۔ 

بس آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا "حفصہ، تین بار ریجیکٹ ہو کر بھی تم آئی کیوں؟" 

حفصہ کی آواز بھر آئی۔ "کیونکہ اگر میں آج ہار مان گئی تو کل کوئی اور لڑکی بھی مان جائے گی۔ اور پھر کون دروازہ کھٹکھٹائے گا؟ مجھے لگتا ہے ہر 'نا' کے بعد ایک 'ہاں' چھپی ہوتی ہے۔ بس اسے ڈھونڈنا پڑتا ہے" 

عورت کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر فائل بند کر کے بولی "کل 9 بجے آ جانا۔ ٹرائل پر"

اس رات حفصہ سو نہ سکی۔ چھت پر چارپائی ڈال کر لیٹ گئی۔ آسمان پر تارے تھے۔ 

امی اوپر آئیں، چادر اڑھائی۔ "نیند نہیں آ رہی؟" 

"امی... مجھے آج سمجھ آیا۔ امید کوئی جادو نہیں۔ یہ روز خود کو منانا ہے۔ جب سب کہیں بس کرو، تب بھی ایک قدم اور اٹھانا ہے۔ جیسے ہمارے بڑے بغیر بجلی، بغیر سہولتوں کے جیتے تھے... پر دل میں امید رکھتے تھے۔ اسی لیے آج ہم یہاں ہیں" 

امی نے ماتھا چوما۔ "شاباش بیٹا۔ صبر اور امید والے کبھی خالی ہاتھ نہیں رہتے"

وقت گزرا۔ وہ چھوٹی کمپنی بڑی ہوئی۔ حفصہ اب ٹیم لیڈ تھی۔ اس کے نیچے 5 لڑکیاں کام کرتی تھیں۔ 

دادا جان اکثر کہا کرتے تھے: "بیٹا ہمارے زمانے میں نہ موبائل تھا، نہ نوکری کی اتنی آسائشیں۔ خط کا جواب مہینے بعد آتا تھا۔ پر ہم امید پر جیتے تھے۔ فصل پر، دعا پر، کل کے سورج پر۔ اور اللہ نے کبھی مایوس نہیں کیا" 

حفصہ کو وہ باتیں یاد آتیں اور حوصلہ بڑھ جاتا۔

ایک دن وہی بس اسٹینڈ۔ وہی دھوپ۔ ایک لڑکی کونے میں کھڑی رو رہی تھی۔ ہاتھ میں سی وی بھیگی ہوئی تھی۔ 

حفصہ نے پاس جا کر پوچھا "کیا ہوا؟" 

لڑکی نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا "چوتھی بار ریجیکٹ... اب گھر والے کہتے ہیں پڑھائی چھوڑ دو" 

حفصہ نے جیب سے اپنا کارڈ نکالا۔ ساتھ ایک چھوٹا نوٹ لکھ کر دیا۔ 

تم اکیلی نہیں ہو۔ آ جانا۔ اور یاد رکھنا... امید پہ دنیا قائم ہے

گھر آ کر حفصہ نے ڈائری کھولی۔ آخری صفحہ پر لکھا:

امید کوئی بڑا لفظ نہیں۔ یہ وہ چھوٹی سی چنگاری ہے جو اندھیرے میں جلتی ہے۔  

یہ وہ کشتی ہے جو نوح علیہ السلام نے طعنوں کے باوجود بنائی تھی۔ 

یہ وہ دعا ہے جو ہمارے بڑوں نے بغیر سہولتوں کے مانگی تھی۔ 

ہم سمجھتے ہیں دنیا پیسے سے، طاقت سے، قسمت سے چلتی ہے... 

پر اصل میں دنیا اس ایک جملے سے چلتی ہے جو ہم ٹوٹ کر بھی خود سے کہتے ہیں: 

کل بہتر ہوگا۔ ان شاءاللہ 

جب تک یہ جملہ زندہ ہے، جب تک ایک دل اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے... 

تب تک دنیا قائم ہے۔` 

نیچے اس نے تاریخ لکھی۔ اور ساتھ الحمدللہ لکھ کر ایک چھوٹا سا پھول کا سٹیکر چپکا دیا۔

 

Aleena Noor writes...🏻️‍🩹

Comments