عنوان:
روحانی سکون کیسے حاصل ہو؟
کسی
محلے میں ایک محسن نامی شخص رہتا تھا جو کہ مسلسل بے چینی اور بدسکونی کا شکار تھا۔
ظاہری
عبادات - نماز، روزہ، وظائف، تلاوتِ قرآن - کے باوجود بھی اسے وہ روحانی لذت نصیب نہیں
ہو رہی تھی جس کی وہ تلاش میں تھا اور یہ معاملہ اسے بہت بے چین کر رہا تھا۔
ایک
دن وہ اسی بے چینی کے ساتھ اپنے ایک باورچی دوست کے گھر گیا اور اپنے دوست کو جا کر
سارا ماجرہ سنایا۔
دوست
نے کہا: "پہلے میں ایک ہنڈیا تیار کر لوں، پھر بات کرتے ہیں۔"
وہ
باورچی سالن بنانے میں مصروف ہو گیا۔ اس نے ہنڈیا میں پیاز، ٹماٹر، لہسن، مرچ، مصالحے
ڈالے اور ہنڈیا کو چولہے پر رکھ دیا۔
اور
اپنے دوست کے ساتھ باتوں میں مشغول ہو گیا۔
تو
کافی دیر بعد یک دم محسن کی نظر ہنڈیا پر گئی اور دیکھا کہ ہنڈیا چولہے پر ہے لیکن
نیچے آگ نہیں جلی ہوئی۔ اس نے دل میں سوچا: "بغیر آگ جلے سالن کیسے تیار ہوگا؟
لگتا ہے میرا باورچی دوست آگ جلانا بھول گیا ہے۔"
اس
نے اپنے باورچی دوست کو کہا: "ارے بھائی! تم نے ہنڈیا تو چولہے پر رکھ دی لیکن
آگ نہیں جلائی۔ بغیر آگ جلے سالن کیسے تیار ہوگا؟"
یہ
سن کر باورچی مسکرانے لگا اور کہنے لگا:
"جس
طرح بغیر آگ جلے سالن تیار نہیں ہو سکتا، بالکل اسی طرح ظاہری عبادات بھی اس وقت تک
سکون نہیں دے سکتیں جب تک دل میں اصلاح، تقوی اور پرہیزگاری کی آگ نہ جلے۔ اور روحانی
سکون تب ہی نصیب ہوگا جب تمہارے دل میں رب کی محبت کی شمع جلے گی۔"
یہ
سنتے ہی محسن سوچ میں پڑ گیا اور اپنی بے چینی و بدسکونی کی وجہ جان گیا۔
اس
سے ہمیں یہ سبق ملا کہ ظاہری عبادات کے ساتھ ساتھ انسان کے دل میں تقوی و پرہیزگاری
بھی ہونی چاہیے جو انسان کے باطن کو سرور بخشتی ہے۔
حدیث
پاک کا مفہوم
ہمارے
پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ ﷺ نے تین بار اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
"تقوی یہاں ہے"
تو
رب کے حضور پیش ہوتے وقت ہمارے ظاہری اعضاء کے ساتھ ساتھ دل جمعی بھی بہت ضروری ہے۔
عبادات
اور روزمرہ زندگی میں روحانی سکون تب تک حاصل نہیں ہوگا جب تک دل میں تقوی، پرہیزگاری
اور خوفِ خدا کی شمع نہ سلگ جائے۔
کیونکہ
آج کل ہماری جنریشن کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ:
"یار
سکون نہیں ہے۔۔۔
سکون
نہیں مل رہا۔۔۔
دل
نہیں لگ رہا۔۔۔"
تو
یاد رکھیں!!
دلوں
کا سکون صرف میرے رب کے ذکر میں ہے۔
اور
ہم سب اپنا سکون اس فانی دنیا کی رونقوں اور سوشل میڈیا میں ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں۔
لیکن
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جن فانی چیزوں میں ہم قلبی اور روحانی سکون ڈھونڈ رہے ہیں، درحقیقت
وہی ہماری بدسکونی کی اصل وجہ ہیں۔
روحانی
اور قلبی سکون صرف رب کی ذات میں ہے۔ اپنا تعلق رب سے جوڑیے اور اپنی بات رب سے بنائیے۔
از
قلم: نائمہ راجپوت
*******************

Comments
Post a Comment