Paisa hath ki meil Article by Hijaab Fatima

Writer: HIJAAB FATIMA

"پیسہ ہاتھ کی میل، عزت دل کا نور:کیا واقعی پیسے سے عزت خریدی جا سکتی ہے؟ "امیری بے عزتی یا غریبی باعزت؟"-

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

میرا نام حجاب فاطمہ ہے۔ 

دوستو! آپ نے تو یہ سنا ہی ہوگا کہ 

*"پیسہ تو مل جاتا ہے لیکن عزت نہیں ملتی دوبارہ *لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا صرف عزت سے ہم خوش رہ سکتے ہیں یا پھر کیا ہم صرف پیسے سے خوش رہ سکتے ہیں؟* 

*اب کچھ لوگوں کا جواب ہوگا کہ ہاں ہم پیسوں سے عزت بھی خرید سکتے ہیں.**اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو کوشش کر کے دیکھ لیجیے اس کو، کیونکہ یہ صرف آپ کی سوچ ہے، حقیقت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔*

 🌸 🌸 

عزت دل کا سکون دیتی ہے، اور پیسہ زندگی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ دونوں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن دونوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔*ہو سکتا ہے یہ صرف میری سوچ ہے۔

دنیا میں کچھ لوگ پیسے سے واقعی عزت خرید لیتے ہیں۔ 

کچھ لوگ عزت کے ساتھ غربت میں بھی سر اٹھا کر جیتے ہیں۔ 

اور کچھ لوگوں کے پاس نہ پیسہ ہوتا ہے نہ عزت۔

 

تو "کیا ضروری ہے" کا جواب ہر کسی کے لیے ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔

 

میں اپنی رائے تھوپ نہیں رہی۔ بس یہ کہہ رہی تھی کہ میرے نزدیک عزت اور پیسہ دونوں کا اپنا مقام ہے -  اب ہم دو مثالیں لیتے ہیں ۔

*مثال 1*: ایک امیر انسان جس کے پاس سب کچھ ہے لیکن رشتے دار عزت نہیں کرتے

- *مثال 2*: ایک استاد/مولوی جس کے پاس پیسہ کم ہے لیکن پورا محلہ عزت کرتا ہے

-  _آپ کس کی جگہ لینا پسند کریں؟

- آج کل لوگ امیر کو "سر" کہتے ہیں چاہے کردار کیسا بھی ہو

- غریب ایماندار کو "بیچارہ" کہہ کر ٹال دیتے ہیں .کیا ہم خود اس سوچ کو بدل سکتے ہیں؟

 

- اسلام میں رزق حلال اور عزت کی کتنی اہمیت ہے

- صحابہ کرام کی سادگی اور عزت

- اقوال: _"فقر فخرِ مومن ہے"_ لیکن _"تنگدستی کفر کے قریب ہے"_

- کیریئر چنتے وقت صرف پیسہ نہ دیکھو، عزت بھی دیکھو

- سوشل میڈیا پر دکھاوے کی چمک سے بچو۔

- *عزت بینک بیلنس نہیں کہ اے ٹی ایم سے نکل جائے۔ یہ کردار کا بیلنس ہے جو نسلوں تک چلتا ہے۔*

 *پیسے سے کرسی مل سکتی ہے، عزت نہیں۔ کرسی گر بھی سکتی ہے، عزت نہیں گرتی۔*

*دنیا امیر کے جنازے پر بھی پوچھتی ہے "کتنا چھوڑ گیا؟" اور غریب باعزت کے جنازے پر کہتی ہے "کتنا کما گیا؟"*

 *عزت وہ زیور ہے جو قبر تک ساتھ جاتا ہے، پیسہ تو وارثوں میں بٹ جاتا ہے۔* *پیسہ ضرورت ہے، خدا نہیں۔ جس دن اسے خدا بنا لیا، عزت بت بن جاتی ہے۔*

*پیسے سے دوا مل جاتی ہے، صحت نہیں۔ بستر مل جاتا ہے، نیند نہیں۔ رشتے مل جاتے ہیں، اپنائیت نہیں۔*

*آج کا دور کہتا ہے "جیب خالی ہو تو رشتے بھی بہانے بنا لیتے ہیں"*

*پیسہ ہاتھ میں ہونا چاہیے، سر پر نہیں۔ اور عزت سر پر ہونی چاہیے، زبان پر نہیں۔* *حلال کا ایک نوالہ، حرام کے خزانے سے بہتر ہے۔ کیونکہ نوالے کے ساتھ سکون ہے، خزانے کے ساتھ خوف۔*

 *امیری بے عزتی سے بہتر ہے غریبی باعزتی۔ کیونکہ بھوک مٹ جاتی ہے، لیکن طعنے نہیں مٹتے۔*

 *آپ کے مرنے کے بعد لوگ آپ کا بینک بیلنس یاد رکھیں گے یا آپ کا اخلاق؟ فیصلہ آج کرنا ہے۔*

*اگر پیسے سے سب کچھ خریدا جا سکتا تو قبرستان میں سب سے امیر آدمی سب سے لمبی عمر پاتا۔*

 *سوال پیسہ اور عزت کا نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کس قیمت پر کیا بیچ رہے ہیں؟** *آج کل عزت کا معیار CV نہیں، بینک بیلنس ہے۔ کردار نہیں، گاڑی کا ماڈل ہے۔*

. *غریب سچ بولے تو "بکواس" اور امیر جھوٹ بولے تو "پوائنٹ" بن جاتا ہے۔*

 *لوگ دعوت امیر کے گھر کھانے جاتے ہیں، اور جنازہ غریب باعزت کے گھر پڑھنے۔*

 *پیسے والے کی 1 غلطی کو "مجبوری" کہتے ہیں، اور غریب کی 1 مجبوری کو "غلطی"۔*

 

 *پیسہ قبر تک نہیں جاتا، لیکن قبر کی مٹی خرید لیتا ہے۔ عزت قبر میں بھی سر اونچا رکھتی ہے۔*

 *کچھ لوگ پیسے کے لیے عزت بیچ دیتے ہیں، اور کچھ عزت کے لیے پیسہ۔ فرق صرف قیمت کا ہے۔*

. *امیری میں 100 دوست ہوتے ہیں، غربت میں 1 بھی سچا مل جائے تو غنیمت ہے۔* *پیسے سے تعریفیں خریدی جا سکتی ہیں، دعائیں نہیں۔*

 

*کیریئر بناتے وقت یہ مت سوچو "کتنا ملے گا" یہ سوچو "کس نظر سے دیکھے جاؤ گے"۔*

 *سوشل میڈیا کی چمک 24 گھنٹے کی ہے، کردار کی چمک 24 سال کی۔* *پیسہ کمانا فن ہے، عزت سے کمانا فنِ عظیم ہے. *رزق اللہ دیتا ہے، عزت اللہ رکھتا ہے۔ جس کے پاس دونوں ہوں وہی اصل بادشاہ ہے۔*

 *حرام کا محل بھی قید خانہ ہے، اور حلال کی جھونپڑی بھی جنت۔*

*اللہ نے فرمایا: "عزت صرف اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے"۔ تو پھر ہم قیمت کیوں لگا رہے ہیں؟*

. *فیصلہ آپ کا ہے: پیسے کی جیب بھرنی ہے یا قبر کی؟**دنیا آپ کو آپ کے پیسے سے تولے گی، تاریخ آپ کو آپ کی عزت سے۔*

 *پیسہ ختم ہو تو پتہ چلتا ہے کون اپنا تھا۔ عزت ختم ہو تو پتہ چلتا ہے آپ کون تھے۔*

> "آخر میں بس یہی کہوں گی... پیسہ کمائیں ضرور، لیکن اتنا کہ عزت نہ گروی رکھنی پڑے۔ عزت کمائیں ضرور، لیکن اتنی کہ بھوک سے سمجھوتہ نہ کرنا پڑے۔ کیونکہ زندگی کا اصل امیر وہی ہے جس کی جیب میں روٹی بھی ہو اور دل میں سکون بھی۔"

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Comments