Mohabbat e rasool ka haqeeqi taqaza itbah e sunnat article by Syeda Rimsha Touqeer

عنوان: محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا: اتباعِ سنت

از قلم: سیدہ رمشہ توقیر

رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور ولادتِ باسعادت تمام انس و جاں کے لیے اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان اور عظیم ترین نعمت ہے۔ آپ ﷺ کی ذات گرامی ہی وہ محور ہے جس سے ایک مومن کے ایمان کی شمع روشن ہوتی ہے۔ ہر مسلمان کے دل میں آپ ﷺ کی محبت کا موجود ہونا ایمان کی بنیاد اور شرطِ اول ہے۔ تاہم، شریعتِ اسلامیہ میں محبت کا ایک واضح، متعین اور مسنون طریقہ ہے، اور جب انسان اس طریقے سے ہٹ کر جذبات پر مبنی راستے اختیار کرتا ہے تو وہ اصلاح کے بجائے بدعت اور غلو کا شکار ہو جاتا ہے۔

محبتِ رسول ﷺ کا اصل معیار

قرآنِ مجید نے محبتِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کا ایک ہی معیار مقرر فرمایا ہے، اور وہ ہے اتباعِ سنت۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ

(ترجمہ: آپ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا)۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ ﷺ سے کائنات میں سب سے زیادہ محبت کرتے تھے، لیکن ان کی محبت کا مظاہرہ نعروں، چراغاں یا سالانہ میلوں کی صورت میں نہیں تھا، بلکہ ان کا ہر عمل آپ ﷺ کے قدم بقدم ہوتا تھا۔ وہ جنگ و امن، عبادات و معاملات، اور اخلاق و کردار میں اسوہِ حسانہ کو اپناتے تھے۔

عیدین کی شرعی حیثیت اور نو ایجاد رسمیں

اسلام ایک مکمل اور متوازن دین ہے۔ شریعت نے مسلمانوں کے لیے اجتماعی خوشی اور مسرت کے اظہار کے لیے صرف دو دن مقرر فرمائے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔ ان کے علاوہ کسی بھی دن کو مذہبی عید کا درجہ دینا یا اس کے لیے مخصوص رسومات بنانا دین کی اصل روح کے منافی ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ دورِ حاضر میں عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ایسی متعدد چیزیں شامل کر لی گئی ہیں جنہیں لوگ عین دین اور ثواب سمجھ کر کرتے ہیں، حالانکہ ان کا شریعت اور اسلاف کے طرزِ عمل سے کوئی تعلق نہیں:

فضول خرچی اور چراغاں: گلیوں، بازاروں اور مکانات پر لاکھوں روپے کی لائٹنگ اور سجاوتیں کی جاتی ہیں۔ جن پیسوں سے کسی غریب کی مدد کی جا سکتی تھی یا کسی کا علاج کروایا جا سکتا تھا، انہیں محض چند دنوں کی نمائش کے لیے ضائع کر دیا جاتا ہے، جبکہ قرآن میں فضول خرچی کرنے والوں کو "شیطان کے بھائی" کہا گیا ہے۔

کیک کاٹنا اور ماڈل بنانا: غیر مسلموں اور غیر شرعی طریقہ ہائے زندگی کی تقلید کرتے ہوئے بڑی بڑی عیدوں کے کیک کاٹے جاتے ہیں، کعبہ اور مسجدِ نبوی کے ماڈل راستوں میں بنا کر ان کی گلی محلوں میں نمائش کی جاتی ہے، جہاں اکثر ان کے احترام کی پامالی ہوتی ہے۔

موسیقی، گانے اور ناچ گانا: نعتوں کے نام پر میوزک اور باجوں کا استعمال کیا جاتا ہے، گاڑیوں پر اونچی آواز میں ساؤنڈ سسٹم لگا کر گلیوں میں گشت کیا جاتا ہے، جس سے بیماروں، بزرگوں اور پڑھنے والے بچوں کو شدید تکلیف پہنچتی ہے۔

مرد و زن کا اختلاط: جلوسوں اور ریلیاں کے نام پر سڑکوں پر بے ہنگم ہجوم ہوتا ہے جہاں پردے کے احکام کو پامال کیا جاتا ہے اور نمازیں قضا ہو جاتی ہیں۔

رسوم و رواج بمقابلہ حقیقی شریعت

رسول اللہ ﷺ کی ولادت کے دن (پیر کے دن) کی خوشی کا مسنون طریقہ آپ ﷺ نے خود واضح فرما دیا تھا۔ جب آپ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: "یہ وہ دن ہے جس میں، میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی" (صحیح مسلم)۔

جس دن آپ ﷺ نفلی روزہ رکھ کر عاجزی اور عبادت کا اظہار فرماتے تھے، اسی دن لوگ گاہکوں اور لذیذ کھانوں کے مجمے لگا کر سڑکوں پر شور مچاتے ہیں۔ جب انسان دین میں کسی ایسی بات کو ثواب سمجھ کر شامل کر لیتا ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت اور صحابہؓ کے عمل سے نہ ملے، تو اسے شریعت کی اصطلاح میں "بدعت" کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح ارشاد فرمایا: "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے" (صحیح بخاری)۔

ائمہ اور علماء کا موقف

امام کعبہ شیخ عبدالرحمن السدیس سمیت دنیا بھر کے جلیل القدر علماء اور مفتیانِ کرام نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اسلام میں خوشی کے اظہار کا بہترین طریقہ سیرت النبی ﷺ کا احیاء ہے۔ محض ایک دن جھنڈیاں لگا لینے اور چراغاں کر لینے سے آپ ﷺ کا حق ادا نہیں ہوتا۔

ہماری ذمہ داری

اگر ہم واقعی نبی کریم ﷺ سے محبت کرتے ہیں، تو ہمیں چاہیے کہ:

آپ ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

اپنے اخلاق، لین دین، اور گھر کے ماحول کو آپ ﷺ کے اسوہ کے مطابق ڈھالیں۔

جہالت، بدعات اور فضول رسومات سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی حکمت و دانائی کے ساتھ سمجھائیں۔

اس دن سیرت کے مطالعے، درود و سلام کی کثرت، اور نفلی عبادات (روزہ) کے ذریعے آپ ﷺ کی تشریف آوری کا شکر ادا کریں۔

محبت کا دعویٰ تبھی سچا ثابت ہوگا جب عمل میں رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری نظر آئے گی۔

Comments