*_ہیلنک
اور ڈپریشن_*
*_ازقلم
مریم راجپوت_*
Depression
& Healing
Written
by Maryam Rajpoot
ڈپریشن
ہماری آج کی سوسائیٹی میں ایک عام بات بن گئی ہے تقریبا ۹۹ پرسنت
لوگ اس کا شکار ہیں،پہلے ہمیں سمجھنا ہے کہ ڈپریشن ہے کیا۔۔؟؟
ڈپریشن
ایک طرح کا ذہنی دباؤ ہے جب ہمارے ذہن پر کسی بھی بات یا عمل کی وجہ سے ہوسکتا ہے یہ
کسی عمل کا منفی اثر کہلاتا ہے، ہم کچھ باتوں کو بہت زیادہ سوچتے ہیں اتنا کہ وہ پھر
صرف ایک بات نہیں رہتیں وہ ہمارے ذہن پر سوار ایک بوجھ بن جاتی ہیں۔
*ڈپریشن
کی وجہ*
کسی
کا کہا گیا کوئی منفی جملہ ہماری کوشش پر کیا گیا کوئی برا کمنٹ یا پھر کوئی ایسی چیز
جو ہماری طاقت سے زیادہ ہو ہم اسے کر رہے ہوں وہ کوئی کام ہوسکتا ہے کوئی چیلنج ہوسکتا
ہے۔
*ڈپریشن
آتا کہاں سے ہے۔۔؟؟*
یہ
ایک اہم سوال ہے ڈپریشن آتا کہاں سے ہے میرے خیال میں ڈپریشن ہم میں کسی چیز کو ہینڈل
وہ کرنے کی صلاحیت یا کمی کی وجہ کے آتا ہے مثلا مجھ سے کوئی کام نہیں ہوسکا یا وہ
اس طرح نہیں ہوا جیسا میں چاہتی تھی تو میں اس کو مکمل کرنے کی کوشش کم کردوں گی اور
خود کو بلیم کرنے لگوں گی میرے ذہن پر کام مکمل نہ ہونے کا بوجھ ہے اب میں خود کو بلیم
کر رہی ہوں اور یہ دونوں چیزیں مل کر بنیں گی Over
thinking جو وجہ ہے ڈپریشن کی۔۔
*ہماری
زندگی میں ایسی کون کون سی چیزیں ہیں جو ڈپریشن کی صورت سامنے آتی ہیں۔۔؟؟*
ڈپریشن
کسی تعلق کے ٹوٹنے سے بھی ہوسکتا ہے،ڈپریشن کسی تعلق میں یک طرفہ کوششوں سے بھی ہوسکتا
ہے،دل ٹوٹنے پر بھی ہوسکتا ہے، دھتکارے جانے پر بھی ہوسکتا ہے، اعتماد کی کمی کی وجہ
سے بھی ہوسکتا ہے، ہر وہ چیز جو ہمارے اعساب پر بری طرح سوار ہوجائے ڈپریشن کی صورت
سامنے آتی ہے۔۔۔چاہے وہ کوئی تعلق ہو یا کوئی کام۔۔وغیرہ۔
*ڈپریشن
نہ ہو اسکے لیے کیا کریں۔۔؟؟*
ڈپریشن
سے بچنے کے لیے آسان حل ہے چیزوں کو جانے دیں، ہر بات کو دل پر مت لیں ہر غلطی پر امید
نہ چھوڑ دیں، ہر درد پر واویلا نہ ڈال لیں، ذرا ذرا سی بات کو گھنٹوں نہ سوچیں۔
*ڈپریشن
کا علاج*
آپ
خود بتائیں یہ ذرا ذرا سی باتیں ضروری ہیں یا آپکی اپنی ذہنی حالت۔۔؟؟ آپ کو خود سے
محبت ہے تو چیزوں کو دماغ پر سوار کرنا چھوڑ دیں۔۔جو ساتھ نہیں رہنا چاہتا اسے دفع
کریں جو ساتھ رہنا چاہتا ہے اسکی عزت کریں قدر کریں، کسی بھی چیز کے لیے ضرورت سے زیادہ
پریشان نہ ہوں یہ دنیا ہے اور آپ انسان ہیں یہاں سب کچھ وقت پر کرنا ضروری نہیں ہے
آپ پرفیکٹ نہیں ہیں یہ خود سے کہنا چھوڑ دیں آپ اپنی ذات میں پرفیکٹ ہیں کیونکہ کوئی
کسی جیسا نہیں بن سکتا ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمی ضرور ہوتی ہے، اگر آپ میں ایک
کمی ہے تو سو خوبیاں ہوں گی خود کے بدگمان کیوں ہوتے ہیں۔۔؟؟ اپنی انرجی کلئر رکھیں
منفی سوچوں کو ذہن میں جگہ نہ دیں اپنی صحت کا حیال رکھیں ہماری ذہنی سوچ ہمارے ماحول
پر منحصر ہے، اور اور اگر آپ کہتے ہیں آپکے اردگرد کا ماحول نہیں ٹھیک تو آپ ماحول
کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلیں۔۔دھیمہ لہجہ، خوبصورت الفاظ، نرمی اور رحم اپنائیں۔
*ہیلنگ
کیسے کریں۔۔؟؟*
"خود
پر رحم کریں، آپ اتنے بےقیمت نہیں ہیں کہ خود کو یوں ذائع کریں۔۔اپنی قدر کریں،خود
پر توجہ دیں اور پھر آپ دیکھیں گے کہ کیسے زندگی حسین ہوتی ہے۔"
ایک
آخری بات۔۔آپ انسان ہیں اور آپ کے اردگرد بھی انسان ہی موجود ہیں اپنے اردگرد لوگوں
پر رحم کرنا سیکھیں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں کسی کو دیکھ کر ہم اسکی ذہنی اذیت
کا اندازہ نہیں لگا سکتے کیونکہ ہر مسکراتا چہرا خوش نہیں ہوتا، خدارا کسی کے لیے اذیت
نہ بنیں۔۔سکون بنیں، وہ مسکراہٹ بنیں جو دل کو سکون دے نہ کہ وہ مسکراہٹ جو فرضی ہو،
آرٹیفیشل مت بنیں، خاموشی اور سادگی اپنائیں، اللہ پر یقین رکھیں، نماز قائم کریں۔۔اپنے
دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخری بھی سنواریں، ہر رات سونے سے پہلے پانچ نعمتوں کا شکر
کریں، پانچ گناہ یاد کریں جو آپ نے آج دن میں کئے انکی معافی مانگیں، آیت الکرسی پڑھیں،
سونے کی دعا پڑھیں اللہ سے باتیں کرتے کرتے سوجائیں۔۔رات کو دیر تک جاگنا بھی ذہنی
صحت پر اثر ڈالتا ہے کونکہ رات کے پہر انسانی دماغ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں اسی لیے قرآن
میں رات کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے، رات کو انسان کے جذبات بہت حساس ہوجاتے ہیں اسے
محرومیاں یاد آنے لگتی ہیں، وہ خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے، رات کو دیر تک مت جاگا
کریں، کم از کم سات گھنٹے کی نیند ہر انسان کے لیے ضروری ہے ایک صحت مند انسان اور
صحت مند دماغ کے لیے۔۔"
*جزاک
اللہ*
Comments
Post a Comment