تحریر
نگار: افشاں بتول
موضوع: آج کی خوش قسمت عورت
کیا
ہم آج کے دور میں عورت کو "خوش قسمت" کے علاوہ کچھ اور بھی کہہ سکتے ہیں؟
جی
ہاں! آج کے دور کی عورت کے پاس بہت سہولیات ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ کیسے؟
اگر
دیکھا جائے تو عورت کے حصے میں گھر اور بچے آتے ہیں۔ جس میں اس نے صرف انہیں ہی سنبھالنا
ہے۔ صبح ہوتے ہی روز کی ایک ہی روٹین: ناشتہ، جھاڑو، برتن، کپڑے وغیرہ۔
اگر
آپ کا دل نہ چاہ رہا ہو تو کپڑے کل دھو دیں گے۔ برتن ابھی رکھ دو، بعد میں کر لیں گے۔
یہ کہہ کر عورت اپنا کام ڈیلے کر سکتی ہے۔
لیکن
مرد ایسا نہیں کر سکتا۔ چاہے اس کا دل چاہے یا نہ چاہے، اسے کام کرنا ہے۔ وہ بیمار
ہے تب بھی جانا ہے۔ عورت کھانا نہ بنائے تو کھانا باہر سے آ جاتا ہے۔ لیکن مرد کی ڈیوٹی
کوئی اور نہیں کر سکتا۔
جب
بچے بڑے ہو جائیں تو ماں کو بیٹی کام میں مدد کر دیتی ہے۔ ورنہ بہو کر دیتی ہے۔ اگر
دونوں نہ ہوں تو کام والی ماسی مدد کر دیتی ہے۔
لیکن
مرد کو بہت کم یہ بات سننے کو ملتی ہے: "ابا، اب آپ کام نہ کریں۔ آپ بوڑھے ہو
گئے ہیں"۔ باپ ساری عمر کام کرتا ہے، کیونکہ اللہ نے مرد کو مشقت کے لیے بنایا
ہے۔
اللہ
تعالیٰ نے عورت کو بہت ریلیف دیا ہے۔ لیکن وہ شکر ادا نہیں کرتی۔ آج کے دور میں ہر
کام کے لیے سہولت موجود ہے۔ پھر بھی کچھ عورتیں مظلومیت کا رونا روتی ہیں۔
مانا
کہ سب عورتیں ایسی نہیں، کچھ ان باتوں کو سمجھتی بھی ہیں۔ پہلے عورتیں دس دس بچے پالتی
تھیں، آج تین چار پر ہی تھک جاتی ہیں۔ گزرتا وقت عورت کو آسائش دے رہا ہے۔
مرد
روز بہ روز مشکل میں ہے لیکن پھر بھی صبر میں ہے۔ وہ 12-12 گھنٹہ کام کرتا ہے۔ عورت
کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ نے اتنی سہولت دی۔ اور مرد کا درد بھی سمجھنا چاہیے
کہ وہ عورت سے دوگنا سٹرگل کر رہا ہے، پھر بھی چپ ہے۔
میں
ایسا نہیں کہہ رہی کہ عورت پر مشکل نہیں۔ وہ بھی رات کو نیند چھوڑ کر بچہ سنبھالتی
ہے۔ گھر کی فکر اسے بھی ہوتی ہے۔
اللہ
ہمیں اپنے گھر کے مردوں کو سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین۔
کیا
آپ بھی اپنے مردوں کو سمجھتے ہیں؟ 🤔
Comments
Post a Comment