Zeest mehz takhiyal article by Hussain Ahmed

عنوان:

زیست محض تخیل

 

انسان جب اس خاکدانِ عالم میں پہلی سانس لیتا ہے تو درحقیقت وہ ایک ایسی داستان کا کردار بن جاتا ہے جس کی ابتدا تو واضح ہوتی ہے مگر انجام ہمیشہ دھند میں لپٹا رہتا ہے۔ زیست، محض وقت گزارنے کا نام نہیں؛ یہ احساسات، خواہشات، محرومیوں، شکستوں، تمناؤں اور خوابوں کی ایسی پیچیدہ کائنات ہے جس میں ہر انسان اپنی ذات کا مسافر بھی ہے اور قیدی بھی۔ زندگی بظاہر حقیقت دکھائی دیتی ہے، مگر جب انسان اس کے باطن میں اترتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ یہ سب ایک عظیم تخیّل کے سوا کچھ نہیں؛ ایک ایسا تخیّل جسے انسان حقیقت سمجھ کر جیتا رہتا ہے۔

بچپن، زیست کا وہ ابتدائی باب ہے جہاں شعور ابھی دنیا کی سفاکیوں سے آشنا نہیں ہوتا۔ معصوم آنکھوں میں بسی ہوئی رنگین تمنائیں، کھلونوں میں چھپی ہوئی کائنات، اور ماں کی آغوش میں سمٹی ہوئی جنت — یہ سب انسان کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ زندگی محبت کا دوسرا نام ہے۔ مگر وقت جیسے جیسے اپنی سرد انگلیاں انسان کے وجود پر رکھتا ہے، ویسے ویسے حقیقت کے چہرے سے خوش فہمی کے نقاب اترنے لگتے ہیں۔ بچپن کا بے ساختہ قہقہہ، جوانی کی دہلیز پر پہنچتے پہنچتے ایک خاموش سوال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

جوانی، زیست کا وہ مرحلہ ہے جہاں انسان پہلی بار اپنی خواہشات کے بوجھ کو محسوس کرتا ہے۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے جہاں خواب، حقیقت سے ٹکراتے ہیں اور انسان اپنی ذات کے ملبے میں خود کو تلاش کرنے لگتا ہے۔ محبت یہاں ایک حسین سراب کی صورت نمودار ہوتی ہے۔ انسان کسی چہرے، کسی آواز، کسی لمس یا کسی خیال میں اپنی بقا تلاش کرتا ہے، مگر اکثر اوقات اسے یہ ادراک بہت دیر سے ہوتا ہے کہ محبت دراصل روح کی وہ پیاس ہے جسے دنیا کا کوئی رشتہ مکمل طور پر نہیں بجھا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں زیست اپنی اصل پیچیدگی ظاہر کرتی ہے؛ انسان جتنا زیادہ کسی شے کو پانے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ وہ خود سے دور ہوتا جاتا ہے۔

وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ کبھی رکتا نہیں۔ انسان تعلقات بناتا ہے، خواب سجاتا ہے، شہرت کے مینار تعمیر کرتا ہے، دولت کے انبار اکٹھے کرتا ہے، مگر وقت خاموشی سے ہر شے کو فنا کی طرف دھکیلتا رہتا ہے۔ چہرے ڈھل جاتے ہیں، آوازیں اجنبی ہو جاتی ہیں، اور وہ لوگ جن کے بغیر انسان جینے کا تصور بھی نہیں کرتا تھا، ایک دن محض یاد بن کر رہ جاتے ہیں۔ تب انسان کو پہلی بار محسوس ہوتا ہے کہ زیست دراصل ایک مسلسل بچھڑنے کا عمل ہے۔

انسان اپنی پوری زندگی کسی نہ کسی معنی کی تلاش میں بسر کرتا ہے۔ کوئی مذہب میں سکون ڈھونڈتا ہے، کوئی فلسفے میں، کوئی محبت میں، اور کوئی تنہائی میں؛ مگر زندگی ہر بار ایک نیا سوال سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ یہی سوالات انسان کو اندر سے توڑتے بھی ہیں اور تخلیق بھی کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے بڑے اذہان ہمیشہ اداس رہے، کیونکہ وہ زیست کے اس فریب کو سمجھ گئے تھے کہ انسان جتنا زیادہ زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، زندگی اتنی ہی زیادہ پراسرار ہوتی جاتی ہے۔

بڑھاپا، زیست کی وہ شام ہے جہاں انسان اپنے ہی ماضی کے قبرستان میں چلنے لگتا ہے۔ یادیں اس کے گرد ایسے منڈلاتی ہیں جیسے خزاں رسیدہ درخت کے گرد زرد پتے۔ وہ چہرے جو کبھی دل کی دھڑکن تھے، اب محض تصویروں میں زندہ رہتے ہیں۔ انسان آئینے میں اپنے وجود کی شکستگی دیکھتا ہے اور پہلی بار اسے احساس ہوتا ہے کہ وقت نے اس کے جسم ہی نہیں، اس کے خوابوں کو بھی بوڑھا کر دیا ہے۔

اور پھر موت…

وہ آخری حقیقت جس کے سامنے ہر تخیّل دم توڑ دیتا ہے۔ انسان جو پوری زندگی اپنے ہونے کا یقین لیے پھرتا ہے، ایک دن خاموش مٹی میں دفن ہو جاتا ہے۔ اس کی آواز، اس کے خواب، اس کی محبتیں، اس کے دکھ — سب وقت کے بے رحم سمندر میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ تب یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی واقعی محض ایک تخیّل تھی؛ ایک ایسا خواب جو آنکھ کھلتے ہی بکھر گیا۔

زیست کی سب سے بڑی سچائی شاید یہی ہے کہ انسان حقیقت میں کبھی مکمل طور پر جیتا ہی نہیں۔ وہ یا تو ماضی کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے یا مستقبل کے خوف میں مبتلا۔ حال، جو زندگی کا واحد حقیقی لمحہ ہے، ہمیشہ اس کی انگلیوں سے ریت کی مانند پھسل جاتا ہے۔ انسان پوری عمر اپنے وجود کی تعبیر ڈھونڈتا رہتا ہے، مگر آخر میں اسے صرف خاموشی نصیب ہوتی ہے۔

شاید اسی خاموشی کا نام زیست ہے۔

اور شاید اسی لیے… زیست محض تخیّل ہے۔

 

:حسین احمد

****************

Comments