*ان لڑکیوں اور لڑکوں کے نام جو ایک غلطی کرنے سے بچنا چاہتے ہیں*
*
وہ
لڑکیاں جو گھر سے بھاگ کر شادی کرتی وہ کیا سمجھتی جس انسان کے لیے وہ یہ سب کر رہی
ہیں وہ ان کے ساتھ مخلص ہے، نہیں کبھی بھی نہیں کیونکہ جو مخلص ہوتےہیں نہ وہ کبھی
بھی کسی دوسرے کی عزت کو پامال نہیں کرتے ہیں اور جو اسے کرتے ہیں ان کو یہ سمجھانا
چاہیے کہ جو لڑکی اپنے ماں باپ کی نہیں ہوئی ہے جس کو ماں باپ دنیا کی مشکلوں کو اٹھا کر ان کو پال پوس کر بڑا کرتے ہیں اور وہ
ان ہی ماں باپ کی عزت کو اپنے پاؤں کے نیچے رکھ کر ایک ایسے انسان کے ساتھ چلی جاتی
ہیں جو نہ صرف اس کے ماں باپ کی عزت پامال کرنے والا ہوتا ہے بلکہ وہ اس کی عزت بھی
پامال کرتا ہے، کیا جو لڑکا بھی لڑکی کو بھگا کر لے جاتا ہے وہ اپنی بہن کا بھاگنا
برداشت کر سکتا ہے کیا ۔ہمارے معاشرے کی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ جب کوئی ایسا کرتا ہے
تو تو ہم اس کا ساتھ دیتے ہیں اس میں لڑکے
کے دوست ،بھائی،کزن اور تو اور ماں باپ تک شامل ہوتے ہیں،
کیا
جو دوست دوسروں کی عزت خراب کر سکتا ہے آپ کی گھر کی عزت کرے گا دوستی اپنی جگہ مگر
اس طرح تو ہر اس انسان کے لیے راہیں ہموار کر رہیں ہیں جو ایسا کرنا چاہتا ہے اگر ہم
اس کا ساتھ نہ دے کیونکہ کے کبھی کبھی جو ایسا کرتے ہیں ان کو فرک نہیں پڑتا ہے مگر
وہ لڑکیاں اس کا شکار ہوتی ہیں جو ان کے محلہ میں رہتی ہوں،کزنسس ہوں،کیونکہ ان پر
بےجا شک کیا جاتا ہے،مگر کہیں کہیں ایسا بھی ہوتا ہے بھاگی ہوئی لڑکی کو اور اس لڑکے
کو بہت عزیز رکھتے ہیں ارے یہ تو سوچو جس نے یہ سب کیا ہے اس کو تو فرک نہیں پڑتا تو
آگے اس کی بیٹی کیسی ہو گئی کیونکہ زیادہ تر بیٹی ماں پر گئی ہے یہ ہی تو بولا جاتا
ہے کیا آپ کسی کی بیٹی کو بھگا کر لاۓ
ہیں کل کو آپ کی بیٹی بھی کسی کے ساتھ ایسے جاۓ
برداشت کر لے گئے، یا میں لڑکے کے ماں باپ سے پوچھتی ہوں ان کی بیٹی ایسا کرے برداشت
کرے گے ۔
مگر
آج کل یہ عام سی بات سمجھی جاتی ہے کہ. Love
marriage *
. ہے تو اپنی زندگی ہے کرے جو بھی کرنا ہے
،
تو
والدین کا کردار کہا ہے بڑے بھائیوں کا کردار کہا ملتا ہے ہمیں، ارے ہاں ملتا ہے تو
بس اس میں جس میں لڑکے کے ساتھ مل کر دوسروں کی عزت پامال کرتے ہیں ۔
بلکہ
ماں باپ کو چاہۓ
کے اپنے بیٹوں کو سمجھاۓ
کے بیٹا یہ تمہاری بہن کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور جو لڑکی اپنے والدین کی نہیں ہوئی
وہ کل کو آگر تم سے اچھا محبت کرنے والا اور مہربان مل گیا تو تمہیں بھی چھوڑ سکتی
ہے اور اس کی مثالیں ہم معاشرے میں بےشمار دیکھ رہے ہیں، جو چار چار بچے ہوتے ہیں مگر وہ بچے گھر سب چھوڑ جاتی
ہیں،
اور
ہاں بیٹا اگر تمہیں وہ پسند ہے تو ہمیں دس بار بھی جانا پڑا تو جاۓ
گے رشتہ لے کر جاۓ
گے ۔
اور
ایک لڑکی کو سوچنا چاہیے جو اپنی بہن کو بھگاتے نہیں دیکھا سکتا تو وہ اس کو کیوں مجبور
کرتا ہے یہ سب کرنے پر
اور
اگر آج اس کو مجبور کر رہا ہے اور محبت کے دعوے کر رہا ہے تو کل کو اس سے بہتر ملنے
پر اس سے بھی کرے گا ۔
کیوں
کہ بھگا کر اس کے بعد نکاح کرنے سے کبھی بھی عزت وہ نہیں ملتی ہے جو والدین کی رضامندی
سے ملتی ہے،
اور
یاد رہے اس طرح بھگا کر نکاح کرنے والا تو ہر دوسرا ملے گا۔
اور
اگر آپ ہر دوسرے کو اپنا ہمسفر بنانا پسند کرتی ہیں تو آپ کی اپنی مرضی ہے ۔
میں
جاتی ہوں کے میری یہ تحریر بہت لوگوں کو بری لگے گی مگر اگر ہم اپنے والدین کی عزت
کرنا چاہتے ہیں اور بہترین معاشرا بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس طرح کے واقعات کو روکنے
کے لیے راہیں ہموار کرنی چاہیے ۔
آیک اچھا دوست بھائی کزن اور ماں باپ ہونے کے ناطے
شکریہ
۔
(تحریر
از جویریہ شریف)
****
Comments
Post a Comment