عنوان:
شاعری اور عملی علوم
انسان
جب اس کائنات میں آنکھ کھولتا ہے تو اُس کے سامنے زندگی کے دو چہرے نمودار ہوتے ہیں۔
ایک وہ چہرہ جو بقا، ضرورت اور مادی تقاضوں سے عبارت ہے، اور دوسرا وہ جو احساس، جذبے،
حسن اور روح کی تشنگی کا مظہر ہے۔ پہلا چہرہ انسان کو جینے کے وسائل فراہم کرتا ہے،
جبکہ دوسرا اُسے جینے کا مفہوم عطا کرتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے شاعری اپنے دامن میں
سمیٹے ہوئے ہے۔ انسان شاعری اس لئے نہیں پڑھتا کہ وہ محض الفاظ کا حسین امتزاج ہے،
بلکہ اس لئے پڑھتا ہے کہ اُس کے اندر ایک دھڑکتا ہوا دل، ایک محسوس کرتی ہوئی روح،
اور ایک بےقرار جذبہ موجود ہے۔ شاعری دراصل انسانی فطرت کی وہ صدا ہے جو عقل کی سنگلاخ
وادیوں سے نکل کر احساس کے سبزہ زاروں میں پناہ لیتی ہے۔
طب،
قانون، تجارت اور انجینئرنگ بلاشبہ انسانی تہذیب کے بنیادی ستون ہیں۔ یہ شعبے انسان
کی جسمانی بقا، معاشرتی نظم اور مادی آسائشوں کو قائم رکھتے ہیں۔ ایک معالج زندگی بچاتا
ہے، ایک قانون دان معاشرے کو ضابطہ عطا کرتا ہے، ایک تاجر معیشت کی گردش کو قائم رکھتا
ہے، اور ایک انجینئر ترقی کی عمارت تعمیر کرتا ہے۔ اگر یہ شعبے نہ ہوں تو انسانی معاشرہ
انتشار، بیماری اور تباہی کا شکار ہو جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انسان صرف زندہ رہنے
کے لئے زندہ ہے؟ کیا اُس کی تمام تر جدوجہد محض روٹی، مکان اور آسائش تک محدود ہے؟
اگر ایسا ہوتا تو انسان اور مشین میں کوئی فرق باقی نہ رہتا۔ انسان کی اصل شناخت اُس
کے احساسات، خوابوں، محبتوں اور تخیلات میں پوشیدہ ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری
اپنی حقیقی معنویت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
شاعری
انسان کے اندر پوشیدہ اُن جذبات کو زبان دیتی ہے جنہیں عام گفتگو بیان نہیں کر سکتی۔
یہ دل کی اُن خاموش چیخوں کی ترجمان بنتی ہے جو ہونٹوں تک آ کر بھی لفظوں میں ڈھلنے
سے قاصر رہتی ہیں۔ جب انسان محبت میں ٹوٹتا ہے، جدائی میں بکھرتا ہے، یا حسن کے کسی
لمحے میں کھو جاتا ہے، تو اُس کے احساسات کو شاعری اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ ایک شعر بعض اوقات پوری زندگی کے فلسفے پر بھاری محسوس ہوتا ہے۔ سائنس انسان
کو یہ بتا سکتی ہے کہ دل کیسے دھڑکتا ہے، مگر شاعری یہ بتاتی ہے کہ دل کیوں دھڑکتا
ہے۔
جدید
دور نے انسان کو مادی ترقی کے بےشمار ذرائع عطا کئے ہیں۔ فلک بوس عمارتیں، مصنوعی ذہانت،
جدید ٹیکنالوجی اور برق رفتار ذرائع ابلاغ نے زندگی کو آسان ضرور بنایا ہے، مگر اس
تمام ترقی کے باوجود انسان کے اندر ایک عجیب خلا جنم لے چکا ہے۔ آج انسان کے پاس سہولتیں
تو بےشمار ہیں، مگر سکون ناپید ہے۔ وہ مشینوں کے درمیان رہتے رہتے خود بھی مشین بنتا
جا رہا ہے۔ ایسے میں شاعری، محبت، حسن اور رومانس انسان کو اُس کی اصل ذات کی طرف واپس
بلاتے ہیں۔ یہ اُسے یاد دلاتے ہیں کہ وہ صرف گوشت پوست کا پیکر نہیں بلکہ احساسات کا
ایک جہان بھی ہے۔
حسنِ
فطرت کو دیکھیے؛ بارش کی پہلی بوند، خزاں رسیدہ پتوں کی سرسراہٹ، شام کے ڈھلتے ہوئے
رنگ، یا کسی محبوب کی آنکھوں میں چھپی خاموشی یہ سب وہ کیفیات ہیں جنہیں نہ قانون سمجھ
سکتا ہے، نہ تجارت خرید سکتی ہے، اور نہ انجینئرنگ تعمیر کر سکتی ہے۔ یہ صرف محسوس
کی جا سکتی ہیں، اور شاعری اسی احساس کا نام ہے۔ شاعری انسان کے اندر موجود اُس لطیف
حصے کو زندہ رکھتی ہے جو دنیا کی سفاکیت کے باوجود محبت کرنا جانتا ہے۔
درحقیقت
مادی علوم اور شاعری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ انسانی وجود کے دو مختلف پہلو ہیں۔
ایک جسم کو زندہ رکھتے ہیں اور دوسرا روح کو۔ اگر طب انسان کے جسم کا علاج کرتی ہے
تو شاعری اُس کی روح کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے۔ اگر قانون معاشرے میں انصاف قائم کرتا
ہے تو محبت انسان کے اندر رحم پیدا کرتی ہے۔ اگر انجینئر پل تعمیر کرتا ہے تو شاعری
دلوں کے درمیان فاصلے مٹاتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مادی علوم زندگی کو قائم رکھتے
ہیں، جبکہ شاعری زندگی کو معنی عطا کرتی ہے۔
انسان
کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ اُس کے پاس دولت کم ہو، بلکہ یہ ہے کہ اُس کے اندر
احساس مر جائے۔ کیونکہ جب احساس مر جاتا ہے تو انسان زندہ رہ کر بھی محض ایک چلتی پھرتی
لاش بن جاتا ہے۔ شاعری انسان کے اندر اسی مرتے ہوئے احساس کو دوبارہ زندہ کرتی ہے۔
یہ اُسے رونے کا ہنر دیتی ہے، محبت کا شعور عطا کرتی ہے، اور حسن کو محسوس کرنے کی
صلاحیت بخشتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیبیں تلواروں سے نہیں، ادب اور شاعری سے زندہ رہتی
ہیں۔
پس
یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ انسان صرف اس لئے زندہ نہیں رہتا کہ وہ سانس لے سکے، بلکہ
اس لئے زندہ رہتا ہے کہ وہ محسوس کر سکے، محبت کر سکے، خواب دیکھ سکے، اور حسن کے کسی
لمحے میں خود کو بھول سکے۔ طب، قانون، تجارت اور انجینئرنگ زندگی کی ضرورت ہیں، مگر
شاعری، محبت اور خوبصورتی زندگی کی روح ہیں۔ اور جب تک انسان کے اندر جذبہ زندہ ہے،
تب تک شاعری بھی زندہ رہے گی، کیونکہ شاعری محض ادب نہیں، بلکہ انسان ہونے کا ثبوت
ہے۔
✍️:حسین احمد
********************
Comments
Post a Comment