Mutshairon ki sadi article by Hussain Ahmed

عنوان :

متشاعروں کی صدی

 

اردو ادب کی تاریخ اپنے اندر ایک عظیم تہذیبی، فکری اور شعری ورثہ سموئے ہوئے ہے۔ اس زبان کو اگر کسی فن نے سب سے زیادہ وقار بخشا ہے تو وہ شاعری ہے۔ میر، غالب، اقبال، مومن، فیض اور فراز جیسے شعراء نے اپنے الفاظ سے نہ صرف جذبات کی ترجمانی کی بلکہ انسانی فکر کو بھی نئی جہت عطا کی۔ مگر موجودہ دور کو اگر “متشاعروں کی صدی” کہا جائے تو شاید یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ آج ہر دوسرا شخص دو چار ٹوٹی پھوٹی سطریں لکھ کر خود کو شاعر کہلوانا چاہتا ہے، حالانکہ شاعری محض قافیہ ملانے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فن، علم اور ریاضت کا تقاضا کرتی ہے۔

اصل شاعر وہ ہوتا ہے جو زبان کے آداب، عروض کے اصول، بحر کی نزاکت، قافیہ و ردیف کی پابندی اور معنی کی گہرائی سے واقف ہو۔ اردو شاعری صدیوں کی محنت اور تہذیبی ارتقاء کا نتیجہ ہے۔ ایک اچھا شعر صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساس، فکر، موسیقیت اور تاثیر کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم شعراء اپنے ایک ایک شعر پر برسوں محنت کرتے تھے۔ میر تقی میر نے کہا تھا:

“پھرتے ہیں میر خوار، کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی”

اس شعر میں سادگی بھی ہے، درد بھی، روانی بھی اور وزن کی مکمل پابندی بھی۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک شاعر کو متشاعر سے ممتاز کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے آج کے دور میں سوشل میڈیا نے شاعری کو ایک فیشن بنا دیا ہے۔ لوگ عروض اور بحور کے بنیادی اصول جانے بغیر اشعار تخلیق کر رہے ہیں۔ نہ قافیہ درست ہوتا ہے، نہ ردیف کی پہچان، اور نہ ہی وزن کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ محض جذباتی جملوں کو اشعار کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایسے نام نہاد شعراء اپنی کم علمی کو “جدید شاعری” کا نام دے کر اصل فن سے فرار اختیار کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بحر اور وزن سے واقف نہیں، وہ شاعر نہیں بلکہ محض متشاعر ہے۔

شاعری کے بنیادی اصولوں میں سب سے اہم “علمِ عروض” ہے۔ یہی وہ علم ہے جو شعر کے وزن کو متعین کرتا ہے۔ جس طرح موسیقی میں سر اور تال کی اہمیت ہوتی ہے، اسی طرح شاعری میں بحر کی اہمیت ہے۔ اگر شعر وزن سے خارج ہو جائے تو اس کی خوبصورتی اور تاثیر ختم ہو جاتی ہے۔ قافیہ اور ردیف شعر کو ایک صوتی حسن عطا کرتے ہیں جبکہ تشبیہ، استعارہ، علامت اور صنعتیں شعر کے معنوی حسن کو بڑھاتی ہیں۔ ایک اچھا شاعر لفظوں کا انتخاب بھی نہایت احتیاط سے کرتا ہے تاکہ مفہوم میں گہرائی پیدا ہو۔

آج کے اکثر متشاعر ان تمام اصولوں سے ناواقف ہیں۔ ان کے اشعار میں نہ زبان کی پاکیزگی ہوتی ہے اور نہ ہی خیال کی پختگی۔ محض وقتی داد سمیٹنے کے لیے ایسے جملے لکھے جاتے ہیں جو سننے میں تو جذباتی محسوس ہوتے ہیں مگر ادبی معیار سے بالکل خالی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آج کل سوشل میڈیا پر اس قسم کی سطریں بکثرت نظر آتی ہیں:

“تم گئے تو زندگی اداس ہوگئی

میری ہر خوشی خراب ہوگئی”

یہ نہ مکمل شعر ہے، نہ اس میں کوئی فنی حسن موجود ہے، اور نہ ہی وزن کی پابندی۔ اس کے برعکس کلاسیکی شعراء کے اشعار دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں کیونکہ ان میں فن اور احساس دونوں شامل ہوتے ہیں۔

یہ کہنا ہرگز درست نہیں کہ جدید دور میں اچھے شاعر موجود نہیں، بلکہ آج بھی بہت سے سنجیدہ شعراء ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اصل شعراء کی آواز متشاعروں کے شور میں دبتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی وقتی شہرت نے محنت، مطالعہ اور فنی تربیت کی اہمیت کم کر دی ہے۔ لوگ داد تو چاہتے ہیں مگر ریاضت نہیں کرنا چاہتے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو شاعری کے اصل اصولوں سے روشناس کرایا جائے۔ ادب کا مطالعہ کیا جائے، کلاسیکی شعراء کو پڑھا جائے اور علمِ عروض سیکھا جائے تاکہ شاعری اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ رہ سکے۔ کیونکہ شاعری محض لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ ایک مقدس فن ہے، اور اس فن کا احترام تبھی ممکن ہے جب اسے اصول و ضوابط کے ساتھ اپنایا جائے۔

مختصراً، موجودہ دور واقعی “متشاعروں کی صدی” بنتا جا رہا ہے جہاں اصل فن کم اور نمائشی جذبات زیادہ نظر آتے ہیں۔ مگر ادب کی حقیقی روح آج بھی انہی شعراء کے ہاں زندہ ہے جو شاعری کو محض مشغلہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ فن سمجھتے ہیں۔ وقت گزر جائے گا، شور مچانے والے متشاعر بھی بھلا دیے جائیں گے، مگر وہی اشعار ہمیشہ زندہ رہیں گے جن میں فن، وزن، فکر اور سچائی موجود ہوگی۔

 

تحریر :حسین احمد

****************

Comments