عنوان:
مستقبل نہیں ہے۔۔۔!
انسان
ہمیشہ مستقبل کے خوابوں میں زندہ رہتا ہے۔
وہ
آنے والے کل کے لیے منصوبے بناتا ہے، امیدیں سجاتا ہے، خواہشوں کے محل تعمیر کرتا ہے،
مگر زندگی کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ “مستقبل” محض ایک خیال ہے۔ حقیقت صرف حال ہے۔
ماضی بیت چکا، مستقبل ابھی آیا نہیں، اور انسان ان دونوں کے درمیان ایک ایسے لمحے میں
معلق ہے جسے “اب” کہا جاتا ہے۔
ہم
اپنی پوری زندگی اُس کل کے انتظار میں گزار دیتے ہیں جو شاید کبھی آئے ہی نہ۔ ہم خوشیوں
کو مؤخر کرتے رہتے ہیں، محبت کو ٹالتے رہتے ہیں، خوابوں کو دفن کرتے رہتے ہیں، صرف
اس امید پر کہ ایک دن سب بہتر ہوجائے گا۔ مگر زندگی کسی وعدے کا نام نہیں۔ یہ ایک غیر
متوقع حادثہ ہے، ایک ایسا سفر جس میں اگلا موڑ کیسا ہوگا، کوئی نہیں جانتا۔ انسان اگلے
لمحے کا مالک نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ اگلی سانس اس کے نصیب میں ہے یا نہیں۔
کتنے
لوگ صبح خواب لے کر گھر سے نکلتے ہیں مگر شام تک خبر بن جاتے ہیں۔ کتنے چہرے جو کل
تک محفلوں میں زندہ تھے، آج تصویروں میں قید ہوچکے ہیں۔ زندگی ہر لمحہ اپنی بے ثباتی
کا اعلان کرتی ہے، مگر انسان پھر بھی خود کو دائمی سمجھنے کی غلطی کرتا ہے۔ وہ مستقبل
کے تعاقب میں حال کو کھو دیتا ہے، حالانکہ اصل زندگی تو صرف اِسی لمحے میں پوشیدہ ہے۔
ماضی
ایک قبرستان ہے جہاں یادیں دفن ہوتی ہیں، اور مستقبل ایک سراب ہے جو دور سے حقیقت محسوس
ہوتا ہے مگر قریب جاکر معدوم ہوجاتا ہے۔ انسان اگر کہیں حقیقت میں زندہ ہے تو وہ صرف
حال میں ہے۔ یہی لمحہ اصل سرمایہ ہے، یہی سانس حقیقی ملکیت ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ
ہم حال کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ ہم یا تو ماضی کے زخموں میں قید رہتے ہیں یا مستقبل
کے خوف میں مبتلا۔
زندگی
کی unpredictability ہی اس کا سب سے بڑا فلسفہ ہے۔
انسان جتنا بھی حساب لگا لے، وقت ہمیشہ اُس کے اندازوں کو توڑ دیتا ہے۔ ایک لمحہ انسان
کو عروج پر پہنچا دیتا ہے اور دوسرا لمحہ اُسے زمین پر گرا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ
مستقبل پر غرور کرنا بھی حماقت ہے اور مستقبل کے خوف میں جینا بھی۔ کیونکہ جو ابھی
تک آیا ہی نہیں، اُس کی حقیقت محض وہم سے زیادہ کچھ نہیں۔
شاید
زندگی کا سب سے بڑا شعور یہی ہے کہ انسان “کل” کے انتظار میں “آج” کو ضائع نہ کرے۔
محبت کرنی ہے تو ابھی کرے، جینا ہے تو ابھی جئے، محسوس کرنا ہے تو ابھی کرے۔ کیونکہ
وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ آنے والا لمحہ شاید ہمارے اختیار میں نہ ہو، مگر موجودہ
لمحہ ہماری پوری کائنات ہے۔
“There is no future”
یہ
مایوسی کا جملہ نہیں، بلکہ حقیقت کا سب سےبڑا اظہار ہے۔ مستقبل ایک تصور ہے، جبکہ حال
ایک زندہ حقیقت۔ اور انسان کی پوری زندگی دراصل انہی چند لمحوں کا مجموعہ ہے جو ہر
گزرتی سانس کے ساتھ ماضی بنتے چلے جاتے ہیں۔
✍️:حسین احمد ۔
**************
Comments
Post a Comment