عنوان:
جمالیات کا فریب
حُسن
و جمال ازل سے انسانی شعور، احساس اور تخیّل کا محور رہا ہے۔ انسان نے ہمیشہ خوبصورتی
کو تقدیس کا درجہ دیا، اسے اپنی خواہشات، تمناؤں اور جذبات کا مرکز بنایا، مگر فطرت
کا ایک غیر متبدل اور اٹل اصول یہ ہے کہ ظاہری خوبصورتی دوام کی حامل نہیں ہوتی۔ وقت،
جو کائنات کا سب سے بے رحم مگر منصف حاکم ہے، ہر شے کی تازگی، لطافت اور کشش کو رفتہ
رفتہ زوال کی دہلیز تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ حسن اپنی تمام تر دلآویزی کے باوجود
ایک عارضی اور فانی حقیقت ہے۔
انسانی
معاشرہ اکثر ظاہری جمالیات کے سحر میں اس قدر گرفتار ہو جاتا ہے کہ وہ اصل قدروں کو
فراموش کر بیٹھتا ہے۔ چہرے کی شگفتگی، لباس کی نزاکت اور انداز کی دلکشی کو کامیابی
اور برتری کا معیار سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ تاریخِ انسانی اس امر کی شاہد ہے کہ
محض ظاہری حسن کبھی بھی دائمی عظمت کی ضمانت نہیں بن سکا۔ وہ شخصیات جو اپنے کردار،
علم، فہم اور اخلاقی رفعت کے سبب زندہ رہیں، ان کی عظمت وقت کے جبر سے ماورا ہو گئی۔
سقراط کا چہرہ شاید دلکش نہ تھا مگر اس کی فکر آج بھی زندہ ہے؛ مولانا رومی کی ظاہری
شخصیت سے زیادہ ان کے افکار نے دنیا کو مسحور کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ فانی جسمانی
حسن کے مقابلے میں فکری و روحانی جمال کہیں زیادہ پائیدار اور مؤثر ہوتا ہے۔
فطرت
کا مطالعہ بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ بہار کے رنگین مناظر خزاں کی زرد آلود آغوش
میں تحلیل ہو جاتے ہیں، شبنم کے قطرے طلوعِ آفتاب کے ساتھ معدوم ہو جاتے ہیں، اور گلستان
کی مہکتی کلیاں چند لمحوں بعد مرجھا جاتی ہیں۔ یہی تغیّر دراصل کائنات کی روح ہے۔ اگر
حسن کو دوام حاصل ہو جاتا تو شاید انسان حقیقت کے شعور سے محروم ہو جاتا۔ حسن کی ناپائیداری
انسان کو فنا، عجز اور حقیقت پسندی کا درس دیتی ہے۔
عصرِ
حاضر میں مادّیت اور سوشل میڈیا نے خوبصورتی کے تصور کو مزید سطحی اور مصنوعی بنا دیا
ہے۔ انسان اپنی اصل شخصیت سے زیادہ اپنی ظاہری نمائش کو اہمیت دینے لگا ہے۔ مصنوعی
مسکراہٹیں، فلٹر شدہ تصاویر اور نمائشی طرزِ زندگی نے حقیقی انسانی قدروں کو پس منظر
میں دھکیل دیا ہے۔ مگر وقت کا بے رحم ہاتھ آخرکار ہر مصنوعی چمک کو ماند کر دیتا ہے۔
جھریاں، بڑھاپا اور کمزوری انسان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ جسمانی حسن ایک عارضی سرمایہ
تھا، دائمی حقیقت نہیں۔
اصل
خوبصورتی دراصل روح کی پاکیزگی، فکر کی بلندی اور کردار کی شرافت میں مضمر ہے۔ ایک
نرم خو، بااخلاق اور صاحبِ شعور انسان اپنی ظاہری کشش ختم ہو جانے کے باوجود دلوں میں
زندہ رہتا ہے، جبکہ محض ظاہری حسن رکھنے والے افراد وقت کے دھندلکوں میں گم ہو جاتے
ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی سب سے عظیم اور ناقابلِ فراموش شخصیات اپنی صورتوں کے باعث
نہیں بلکہ اپنے کردار اور افکار کی عظمت کے باعث امر ہوئیں۔
پس
انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ظاہری حسن کے تعاقب میں اپنی باطنی خوبصورتی کو فراموش
نہ کرے۔ کیونکہ چہرے وقت کے ساتھ ڈھل جاتے ہیں، مگر اعلیٰ کردار، خلوص، محبت اور انسانیت
کی روشنی کبھی زائل نہیں ہوتی۔ حسن اگرچہ دل کو لبھاتا ہے، مگر کردار ہی وہ قوت ہے
جو روحوں کو مسخر کرتی ہے، اور یہی وہ
خوبصورتی
ہے جو حقیقی معنوں میں لازوال کہلانے کی مستحق ہے۔
تحریر
:حسین احمد
******************
Comments
Post a Comment