تحریر
نگار
افشاں
بتول
موضوع،انسان
انسان
(human)
شروع اللّٰہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔میری پہلی
کوشش آپ سب کے لیے ۔میں ہمشہ سوچتی ھوں کہ آخر انسان کو انسان کیوں نہیں سمجھا جاتا
عورت اور مرد اللّٰہ نے جوڑا بنایا تو آخر ایسا کیا ہے جو اس جوڑے کو انسان نہ سمجھتا
ہر کوئی اپنا آپ منوانا چاہتا ہے میں بہتر ھو کا سفر انسان کو انسان نہ رہنے دیتا
۔کہا جاتا ہے کوئی بھی چیز حد سے زیادہ ھو یا کم ھو وہ نقصان دہ ہے اور اسی طرح میں بہتر ھو یہ بھی چاہ
اگر انسان میں زیادہ ھو جاے تو وہ کیا سے کیا کر جاتا ہے قابیل بھی خود کو اپنے بھائی
سے بہتر کہتا تھا اور اسی لیے اپنے بھائی کو مار دیا ہمیں لگتا ہے کہ بھائی کو مارا جب کہ اسے لگتا ھو گا کہ خود سے بہتر
کو مٹا دیا اب میں بہتر مان لیا جاؤ گا ۔اسی طرح عورت مرد کو اور مرد عورت کو انسان
سمجھتا ہی نہیں اب ہر گھر کی کہانی ہے کہ باپ ہیٹی پہ پابندی لگتا ہے لیکن بیٹے کو
کچھ نہ کہتا یہ کہہ کے یہ مرد ھے شوہر بیوی کو یہ کہہ کہ زیادتی کر جاتا کہ عورتیں
چپ ہی اچھی لگتی ہیں اللہ نے تو انسان پیدا کیے تھے تو یہ فرق کیسے آگے ۔اللہ نے تو
تقوی کو اہمیت دی تھی تو کیوں ہم نے عورت کو سائیڈ پر کر دیا ہے۔ آب جب کوئی اپنے حق
کے لیے بولے تو اسے ہمیشہ کے لیے ابدی نیند
سلا دیا جاتا ہے پہلے انسان کو جھوٹ بولنے پر سزا ملتی تھی اور اب وہ سچ بولے تو موت
دے دیتے اور یہ کام انسان کر رہا ہے اللہ نے
تو انسان کو اشرف المخلوقات بنایا تھا پھر یہ کون ہیں جو یہ ظلم کر رہے ہیں کیوں کہ
انسان خود کو بہتر سمجھتا ہے آج کی عورت خور کو بہتر بنانا مرد کی جگہ جانے کو سمجھتی
ھے اس لیے وہ نوکری کر کے خود کو کولو کا بیل بنا رہی ھے اور وجہ کیا ھے خود کو بہتر
دیکھنا اس کے لیے وہ خود کو بھول رہی ھے ۔اصل میں اللہ نے تو عورت کو رزق کی مشقت سے
آزاد کیا تھا یہ کام مرد کے لئے تھا لیکن خود کو بہتر کرنے کے چکر میں اتنی محنت کر
رہی ہے ۔اج کی عورت جو اسلام میں حقوق ھونے کے باوجود اپنے حقوق نہ لے سکی ھونا تو
یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنے حقوق منواتی لیکن وہ نئے حقوق کے پیچھے چل پڑی جو اسے وقت
کے ساتھ تھکا رہا ہے آج کی عورت کو چاہیے وہ اپنے حقوق خود تو نہ لے سکی لیکن اپنے
بچوں کو انسان کے حقوق بتایے کہ انسان کو عورت مرد میں نہ گنے بلکہ اسے انسان سمجھے
۔
مرد
کو یہ کہہ کر بوجھ زیادہ دیا جاتا ہے کہ وہ سہہ لے گا ۔اسے انسان کیوں نہ سمجھا جاتا
آج کا مرد بہت مشکل میں ہے اس کو اپنے گھر والوں کے لیے آسانی پیدا کرنی ہے اس کے لیے
اسے محنت کرنی پڑتی ہے اور وہ صحیح غلط کا فرق بھول جاتا ہے لیکن گھر والے ہیں کہ وہ
خوش ہی نہ ھوتے وقت کے ساتھ عورت کے لیے سہولت موجود ہے لیکن مرد کے لیے مشکل بڑھ رہی
ہے اب مرد انسان نہیں ایک مشین بن رہا ہے دوسری
طرف عورت کو بھی کہتے ہیں کہ گھر بچے شوہر سسرال سب کو سنبھالے کچھ مرد آج بھی دورے
جہالت میں جی رہے سب عورت پہ ڈالتے جب کہ سنت تو یہ تھی کہ مرد بھی اپنی عورت کی مدد
کرے اسے آرام دے لیکن وہ چار شادیوں کی سنت صرف یاد رکھتے وہ یہ بھول چکے کہ دونوں
ساتھی تھے اب وہ حریف بن گئے ہیں دونوں خود کو بہتر بنانے کے چکر میں خود کو پیچھے
چھوڑ رہے ہیں ۔انسان جو خور کے لیے چاہتا ہے وہ دوسرے کو ویسا نہ دیتا مرد یہ چاہتا
ہے کہ عورت اسے سمجھے لیکن وہ خود اسے سمجھتا نہ اپنے لیے عزت چاہتا لیکن دیتا نہ انسان
کو اللہ نے جو اپنے لیے پسند کرنے کا کہا وہی دوسرے کے لیے بھی وہی حکم دیا لیکن ایسا
نہ ھوتا مرد اپنی بیٹی کو پیار کرتا ہے اس
لیے ااس کو اچھا شوہر دینا چاہتا ہے اپنی بیٹی پہ زرہ بھی آنچ برداشت نہ کرتا
لیکن اپنی ہی بیوی پہ ظلم کرتا ہے اسے مارتا ہے وہ اسے انسان ہی نہ سمجھتا دوسری طرف
عورت کہتی ہے میرا شوہر سسرال میں میری سائیڈ نہ لیتا لیکن جب اپنا ہی بیٹا اپنی بیوی
کی سائیڈ لیتا کو اسے آگ لگ جاتی وہ خود لک کے لیے الگ سوچ رکھتی اور دوسرے کے لیے
الگ ۔انسان صرف انسان کو انسان سمجھ لے نہ مرد نہ عورت نہ ساس نہ بہو ۔ھم نہ خود انسان
کو تقسیم کر لیا ہے ہمارا دین تو غیر مذہب والے کے ساتھ بھی برابری کا کہتا ہے تو ہم
کیوں اسے تقسیم کرتے ہیں انسان نے اس لیے انسانیت کھو دی کیوں کے عمل کے نتائج ھوتے
ھیں جو بھگتنے پڑتے ہیں اس لیے ھم نے انسانیت کو کھو دیا بس بہتر کے چکر میں اپنے ہی
جیسے انسان کو راندہ ۔اج بھائی بھائی کا نہ رہا سگے رشتے ایک دوسرے کے دشمن بن گے
۔انسان تو محبت کا پیغام تھا اب ہر شخص بہتر کی دوڈ میں ہے یہاں تک سکون بھی کھو بیٹھا
اگر ہر انسان اپنا کام صحیح سے کرے تو انسانیت بچ سکتی ھے ہر ماں اپنی بیٹی کو کہنے
کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹے کو بھی سکھائے کہ کیسے بیوی کے ساتھ سلوک کرے کیسے عورت کو عزت دی جاتی ہے ماں اپنے
بچوں کو آنے والے وقت کے لیے تربیت دے ہم صرف اپنے بچے پال رہے ہیں ان کی تربیت نہ
کر ریے اس لیے وہ انسان بن ہی نہ سکے جیسے فوج کی تربیت کی جاتی ہے ویسے ہی بچوں کی
کی جاے تاکہ آنے والے وقت میں ھمیں نسلوں کے محافظ ملیں جو انسان بننا جانتے ھو
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Comments
Post a Comment