Column by Hijaab Fatima

(HIJAAB FATIMA)*اسلام علیکم! میرا نام  حجاب فاطمہ ہے۔ یہ میرا پہلا کالم ہے ۔

 

*اپنے کو میں عام سی لڑکی سمجھتی ہوں مگر جب سب خاص  لڑکیاں جمع ہو کر بیٹھتی ہوتی  ہیں تو اس میں سے ایک عام لڑکی یعنی میں نمایاں ہوتی ہوں۔ اس لیے نہیں کہ میں الگ ہوں ان سے یا مجھ میں کوئی خصوصیت ہے۔ بلکہ اس لیے کہ میں موٹی ہوں ۔*۔*

 

*جو لڑکیاں  پتلی ہوتی ہیں وہ کھا کر موٹی ہو  جاتی ہیں۔ مگر ہم جیسیوں کا کیا؟ ہم کہاں جائیں؟ جو مانا کہ ہم کھاتے پیتے گھر کے ہیں۔ باہر سے تندرست نظر آنے والی لڑکیاں ہیں بہت سی بیماریوں کا شکار  ہوتی ہیں جیسے تھالاسیمیا، پی-سی-او-ڈی۔*

 

*اور جو بڑی عمر کی عورتیں ہوتی ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ اس نے یہ  بچپن میں کچھ کھایا تھا جس کی وجہ سے آج یہ ایسی ہے  یا پھر سست ہوگی  اس کی تو شادی نہیں ہونے والی تو میرا سوال ہے کہ آپکو کیسے معلوم؟ آپ بھی تو ہماری طرح انسان ہی ہیں نا۔۔۔۔

آج کے زمانے میں کوئی عام لڑکی ہو نا پھر کوئی سوشل میڈیا سٹار کوئی محفوظ نہیں ہے ۔ سب کو یہی پریشانی ہوتی ہے کہ دوسرا ہمارے بارے میں کیا سوچے گا ۔ آپ کو معاشرے کی پرواہ کیوں ہے؟ ہمارے معاشرے میں کوئی لڑکا ہو ،لڑکی ہو،بچہ ہو یا بچی کوئی محفوظ نہیں ہےبہت سی ایسی لڑکیاں ہیں جو بغیر کسی غلطی کے ماری گئیں 1)منتہا 2) ثناء یوسف 3) ایکٹر حمیرایہ سن کر بہت دکھ ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تعداد بہت زیادہ ہے۔

 

#### *2021 سے 2024 تک - 4 سال کا سرکاری ڈیٹا*

وزارتِ انسانی حقوق نے قومی اسمبلی کو بتایا:

- *خواتین کے خلاف تشدد کے کل کیسز*: 1,73,367

- *قتل کے کیسز*: 5,948

- *غیرت کے نام پر قتل*: 1,553 عورتیں

- *4 سال میں قتل ہونے والی کل عورتیں*: 7,500 سے زیادہ

- *ریپ*: 16,135 کیسز

- *گینگ ریپ*: 1,636 کیسز 

- *اغوا / کڈنیپنگ*: 89,599 کیسز

- *گھریلو تشدد - مار پیٹ*: 8,799 کیسز

 

#### *2024 کا ڈیٹا - SSDO رپورٹ*

- *Gender Based Violence کے کل کیسز*: 32,617

- *ریپ*: 5,339 کیسز

- *اغوا*: 24,439 کیسز 

- *غیرت کے نام پر قتل*: 547 کیسز

- *گھریلو تشدد*: 2,238 کیسز

 

#### *2025 - جنوری سے نومبر تک*

ساحل NGO کی رپورٹ کے مطابق:

- *کل کیسز*: 6,543

- *قتل*: 1,414 کیسز

- *ریپ*: 585 کیسز

- *اغوا*: 1,144 کیسز

- *خودکشی*: 649 کیسز

 

#### *سب سے اہم بات*

یہ صرف وہ کیسز ہیں جو رپورٹ ہوئے ہیں۔ اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ڈر، بدنامی اور قانون پر بھروسے کی کمی کی وجہ سے 90% عورتیں رپورٹ ہی نہیں کرتیں۔

 

پنجاب میں سب سے زیادہ 78% کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

 

---

 

یہ صرف نمبر نہیں ہیں۔ ہر نمبر کے پیچھے کسی کی بیٹی، بہن یا ماں کی کہانی چھپی ہے۔

بس یہی دعا ہے کہ اللّٰہ پاک ہمارے ملک کی خیر فرمائے ۔

Comments