تحریر
نگار
افشاں
بتول
موضوع
۔ آج کا مظلوم
شروع
اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔
کیا
کبھی کسی نے سوچا ہے ۔اس وقت سب سے زیادہ کون خسارے میں ہے ۔کون ہے جسے کوئی سمجھ کی
کوشش ہی نہ کررہا ۔وہ ہیں ہمارے بچے ۔جی ہاں ہم اپنے بچوں کو ذہنی مریض بنا رہے ہیں
۔اج بھی سکول جانے والے بچوں میں سے تقریبا 40%بچے سکول نہ جانا چاہتے ہوں گے۔
وجہ
کسی کو معلوم نہ ۔اور نہ ہی کوئی کرنا چاہتا۔وجہ دو ہیں
1:
بچوں کو ہراسمنٹ کا نشانہ بنانا
2:
پڑھائی کا سمجھ نہ آ نا
بچوں
کی ہراسمنٹ:
اس
میں بچوں کو ذہنی طور پر پریشان کیا جاتا ہے ۔جسمانی طور پر بھی بڑے بچے مارتے ہیں
تنگ کرتے ہیں ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو نہ بتاتے کے کس طرح اپنے حقوق لینے
ہیں ۔کیسے بونڈرز بنانی ہیں ۔کیسے سامنے والے سے بنا لڑے اسے خبردار کیا جائے ۔اگر
آج ہم یہ نہ کریں گے تو آنے والے وقت میں وہ ٹروماٹائز ہو جائیں گے ۔یہ چیز انکے زہن
کے لیے زہر ہے جو انہیں اندر سے کھا رہی ہے ۔
۔بچے
خوف زدہ ہو جاتے ہیں ۔کہ آن کا یقین نہ کیا جائے گا ۔ہا انہں مارا جائے گا ۔اس لیے
وہ بتا نا سکتے اور اندر ہی اندر خود سے لڑتے رہتے ہیں یہ حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ
آپ کے بچے کو ذہنی مریض بنانے کے قریب کر رہی ہے .اپنے بچوں کو کنفیڈنس دیں ۔اس کے دوست بن کے اس کے دل کا حال پوچھیں
۔بچوں کو اپنے لیول پر نہ لائیں بلکہ کہ خود ان کے لیول پر جا کے سوچیں ۔
2:
پڑھائی سمجھ نہ آ نا۔
بچے
اس لیے بھی سکول نہ جانا چاہتے کیونکہ کہ ان کی پڑھائی ان کو سمجھ نہ آتی ۔مسئلہ یہ
نہ کے ٹیچر اچھا پڑھا رہا ہے کہ نہ ۔بلکہ یہ ہے کہ ابھی آپ کے بچے کا ذہن اس لیول پہ
آیا ہی نہ کہ جو اسے پڑھایا جا رہا ہے وہ ابھی اس سے پیچھے ہے ۔پہلے بچے سکول میں
7 سال کی عمر میں جاتے تھے ۔
لیکن
اب 3 سال کا بچہ سکول جا رہا ہے ۔جن میں سے کچھ بچے تو جلدی سمجھ جاتے ہیں اور کچھ
ابھی سمجھنے کی صلاحیت تک پہنچے ہی نہ ۔والدین کا بس یہ نظر آتا ہے کہ ہمارا بچہ فلا
کے بچے سے پیچھے ہے ۔وہ یہ نہ سمجھتے کہ کیوں پیچھے ہیں ۔
بچے
سکول جاتے ہیں سبق نہ آنے کی وجہ سے ٹیچر مارتی ہے ۔
گھر
آتے ہیں اور سکول نہ جانے کہں تو گھر والے مارتے ہیں ۔
آپ
کو چاہے اپنے بچے کو مسئلہ کا سامنا کرنا سیکھیں نہ کے مسئلہ سے دور بھاگنا ۔
پہلے
تو بچہ روز کا کام کور کر نا سکتا پھر جب کبھی زیادہ ٹیسٹ ہو بچہ پریشان ہو جاتا ہےاور چھوٹی کا سوچتا ہے ۔بچہ اتنی محنت پڑھائی پہ نہ
کرتا جتنی محنت سکول کی چھٹی کرنے پہ کرتا ۔اسے لگتا ہے وہ آج بچ گیا وہ یہ نہ جنتا
کہ وہ اپنے ساتھ بہت غلط کر رہا ہے ۔پھر جب رزلٹ آتا ہے بچہ فیل ہو جاتا ہے پھر کہتا
ہے میں نے محنت کی تھی ۔والدین اپنے بچے کا مقابلہ دوسرے بچے سے کرتے ہیں ۔وہ یہ نہ
سمجھتے ہر بچے کو الگ طرح سے ڈیل کیا جاتا ہے ۔ہر بچہ ایک ہی چیز میں اچھا نہ ہو سکتا
۔اور ہر انسان کو اللہ نے مختلف خصوصیات سے نوازاہے ۔
ہر
والدین کو چاہیے اپنے بچے کو سمجھے ۔ہر بار مار پیٹ سے مسئلہ حل نہ ہو تے ۔اپنے بچوں
سے روانہ کے 20 منٹ اسی کی طرح بچے بن جاہیں ان کے مسئلے جانیں ۔انہں مشکلات سے نکلنا
سکھائیں ۔تاکہ وہ ایک مظبوط انسان بنیں ۔قومیں سٹرکوں عمارتوں سے نہ بنتی قومیں نسلوں
سے بنتی ہے جن کے دل مظبوط اور ذہن آ زاد ہوں
********
Comments
Post a Comment