Riyasti nakami ka noha article by Hussain Ahmad

عنوان :

ریاستی ناکامی کا نوحہ

لکھاری :حسین احمد

 

کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان، مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ہوتی ہے۔ جب ایک ریاست اس اولین فریضے کی ادائیگی میں ناکام ہوجائے تو اس کی بلند و بانگ تقریریں، ترقی کے دعوے، اور حکمرانی کے تمام سرکاری بیانیے محض کھوکھلے نعروں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کم سن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوا، قتل اور تشدد کے واقعات جس تسلسل سے رونما ہوئے ہیں، وہ صرف مجرموں کی درندگی کا اظہار نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کے ایک ایسے المناک باب کی نشاندہی کرتے ہیں جسے اب چھپانا ممکن نہیں رہا۔ہر نئے سانحے کے بعد چند دنوں تک میڈیا میں شور برپا ہوتا ہے، حکومتی نمائندے افسوس کا اظہار کرتے ہیں، پولیس چند مشتبہ افراد کو گرفتار کرتی ہے، اور پھر ایک دن خبر آتی ہے کہ ملزم کسی "پولیس مقابلے" میں مارا گیا۔ یوں ایک گولی کے ساتھ ایک مقدمہ بھی دفن ہوجاتا ہے، سوالات بھی دفن ہوجاتے ہیں اور انصاف کی امید بھی۔ مگر کیا کسی ملزم کو عدالت کے بجائے بندوق کے ذریعے خاموش کردینے سے والدین کو انصاف مل جاتا ہے؟ کیا ایک ماں کے دل میں جلتی ہوئی آگ بجھ جاتی ہے؟ کیا ایک باپ کے آنسو خشک ہوجاتے ہیں؟ یا پھر یہ سب محض ریاست کی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک بے ہنگم کوشش ہوتی ہے؟

اصل سوال یہ نہیں کہ قاتل مارا گیا یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ قاتل پیدا کیوں ہورہے ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ وہ نظام کہاں ہے جو جرم کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روک سکے؟ وہ ادارے کہاں ہیں جنہیں شہریوں کی حفاظت کے لیے اربوں روپے دیے جاتے ہیں؟ اگر ہر چند ماہ بعد ایک نیا سانحہ جنم لیتا ہے، ہر بار ایک نئی بچی درندگی کا شکار بنتی ہے، اور ہر بار ریاست صرف لاش کے بعد بیدار ہوتی ہے، تو یہ محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ حکمرانی کی مکمل شکست ہے۔ناقص حکمرانی کی سب سے بڑی علامت یہی ہوتی ہے کہ ریاست جرائم کی روک تھام کے بجائے صرف ان کے نتائج پر ردعمل دیتی ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست خطرات کو جنم لینے سے پہلے ختم کرتی ہے، جبکہ ایک ناکام ریاست صرف لاشیں گننے اور پریس کانفرنسیں کرنے تک محدود رہ جاتی ہے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ ریاست ایک ایسے تماشائی کا کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے جو ہر نئے جرم کے بعد حیرت کا اظہار تو کرتا ہے مگر اسباب کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھاتا۔یہ صورتحال صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی نہیں بلکہ پورے حکومتی ڈھانچے کی ناکامی ہے۔ جب انصاف کا نظام سست، تفتیشی عمل کمزور، عدالتی فیصلے تاخیر کا شکار اور احتساب کا تصور مفقود ہو تو جرائم پیشہ عناصر کے لیے خوف کی دیواریں گر جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں مجرم جانتا ہے کہ اس کے جرم سے زیادہ طاقتور ریاست کی بے حسی ہے۔آج سوال صرف چند مجرموں کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جو مسلسل ناکامی کے باوجود خود کو کامیاب قرار دیتا ہے۔ سوال ان پالیسی سازوں کا ہے جو ہر سانحے کے بعد مذمتی بیانات جاری کرکے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں۔ سوال اس حکمرانی کا ہے جو شہریوں کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں خوف، عدم تحفظ اور بے یقینی کے سپرد کرچکی ہے۔

ریاستیں اپنی سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے اعتماد سے زندہ رہتی ہیں۔ جب ایک ماں اپنی بیٹی کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوفزدہ ہو، جب ایک باپ اپنے بچے کی حفاظت کے بارے میں مطمئن نہ ہو، اور جب انصاف بندوق کے دھانے سے تقسیم ہونے لگے تو یہ صرف چند جرائم کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ریاستی وجود پر ایک سنگین فردِ جرم بن جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں مسئلہ صرف مجرم نہیں ہوتے، بلکہ وہ ناقص حکمرانی بھی ہوتی ہے جو مجرموں کے لیے راستے کھلے چھوڑ دیتی ہے اور پھر ہر سانحے کے بعد اپنی ناکامیوں کی قبر پر تعزیتی بیانات کے پھول رکھ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔شاید ریاستی ناکامی کی سب سے خوفناک شکل یہ نہیں کہ جرائم وقوع پذیر ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جرائم معمول بن جاتے ہیں اور ریاست کا ردِعمل بھی معمول بن جاتا ہے۔ ایک بچی کی عصمت دری ہوتی ہے، قوم چند دن سوگ مناتی ہے، حکمران تعزیتی بیانات دیتے ہیں، ادارے کارروائیوں کا اعلان کرتے ہیں، میڈیا بحث کرتا ہے اور پھر سب کچھ اگلے سانحے تک خاموش ہوجاتا ہے۔ گویا اس معاشرے نے المیوں کو برداشت کرنا سیکھ لیا ہے اور ریاست نے انہیں روکنے کے بجائے ان کے ساتھ جینا۔یہ کیسی حکمرانی ہے جس میں مجرموں سے زیادہ خوف شہریوں کو اپنے مستقبل کا ہو؟ یہ کیسی ریاست ہے جو وقوعۂ جرم کے بعد تو اپنی پوری قوت کا مظاہرہ کرتی ہے مگر وقوعۂ جرم سے پہلے اس کی موجودگی کہیں محسوس نہیں ہوتی؟ اگر ہر چند ماہ بعد ایک نئی لاش، ایک نیا سانحہ اور ایک نیا مقدمہ سامنے آتا ہے تو پھر یہ انفرادی ناکامی نہیں بلکہ پالیسی، ترجیحات اور حکمرانی کی اجتماعی شکست ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ناقص حکمرانی صرف انتظامی کمزوری کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ کیفیت ہے جس میں ریاست اپنے بنیادی فرائض سے بتدریج دستبردار ہونے لگتی ہے۔ جب شہری اپنی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لیے قانون کے بجائے قسمت پر بھروسا کرنے لگیں تو یہ خطرے کی گھنٹی نہیں بلکہ خطرے کا اعلان ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر ریاست محض ایک انتظامی ڈھانچہ رہ جاتی ہے جبکہ اس کا اخلاقی جواز کمزور پڑنے لگتا ہے۔مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد اصل سوالات کو دفن کردیا جاتا ہے۔ عوام کو ایک گرفتار ملزم، ایک پولیس مقابلے یا ایک وقتی کارروائی دکھا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ انصاف فراہم کردیا گیا ہے۔ حالانکہ انصاف صرف ایک مجرم کی موت کا نام نہیں، بلکہ ایسا نظام قائم کرنے کا نام ہے جس میں اگلی بچی محفوظ ہو، اگلا خاندان برباد نہ ہو اور اگلی ماں کو اپنے بچے کی سلامتی کے لیے رات بھر جاگنا نہ پڑے۔ اگر جرم ختم نہیں ہورہا تو پھر یہ کہنا مشکل ہے کہ انصاف کامیاب ہورہا ہے۔

ریاست کی طاقت کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ وہ مجرم کو کتنی جلدی مار سکتی ہے، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ جرم کو کتنی مؤثر طریقے سے روک سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر اوقات نتائج کو کامیابی اور اسباب کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سانحات ختم ہونے کے بجائے دہرائے جاتے ہیں اور عوامی اعتماد بحال ہونے کے بجائے مزید مجروح ہوتا جاتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں دشمنوں کے حملوں سے کم اور اپنی اندرونی غفلت، بے حسی اور ناقص حکمرانی سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔ جب حکمران طبقہ عوام کے خوف کو اعداد و شمار میں، انسانی المیوں کو فائلوں میں اور انصاف کے مطالبات کو رسمی بیانات میں تبدیل کردے تو پھر مسئلہ صرف جرائم کا نہیں رہتا بلکہ حکمرانی کے پورے فلسفے کا بن جاتا ہے۔ ایسے میں ہر نیا سانحہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں ہوتا بلکہ ریاستی کارکردگی پر ایک نیا فردِ جرم بھی بن جاتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Comments