Hmari haar kab hoti hai article by Salwa Farooq

ہماری ہار کب ہوتی ہے؟

از قلم: سلویٰ فاروق

ہماری ہار کب ہوتی ہے؟ جب ہم کسی چیز میں ناکامی (failure) کا سامنا کرتے ہیں؟ یا جب ہم کسی میدان میں بہت سارے کھلاڑیوں کے ساتھ ریس لگاتے ہوئے پیچھے رہ جاتے ہیں؟ یا جب ہمارا سانس پھول جاتا ہے اور ہم تھک ہار کر رک جاتے ہیں؟ یا جب ہماری زندگی کی کوئی رکاوٹ ہمارا راستہ روک لیتی ہے اور ہم اچانک سے کسی مسئلے کا سامنا کرتے ہیں؟ کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے، ہم چل چل کر بیمار پڑ جاتے ہیں، دماغ ہار مان لیتا ہے، ہم جسمانی طور پر تھک جاتے ہیں یا آنے والی مشکلات (hurdles) کا سامنا نہیں کر پا رہے ہوتے۔ یا پھر جب کوئی آ کر کہہ دیتا ہے کہ "جس راہ پر تم چل پڑے ہو، اس راہ پر تو کوئی پھل ہے ہی نہیں!" کس وقت؟ یا ایسے ہی ہزاروں مسائل، جب ہم کسی چیز کی تلاش میں نکل رہے ہوتے ہیں تو راستے میں رکاوٹ بن کر آ جائیں تو ہم تب ہارتے ہیں۔ دیکھیے، یہ ان سب لوگوں کو پتہ ہوگا کہ پرابلمز کیسی کیسی ہوتی ہیں۔ جب آپ چل رہے ہوتے ہیں تو ٹریفک کا بھی انہیں پتہ ہوتا ہے، روڈ خراب ہے یہ بھی انہیں پتہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ ان راستوں سے گزر کر آئے ہیں۔ کہیں ان کا فیول بھی ختم ہوا ہوگا، ظاہر ہے آپ ایک ہی دفعہ ٹنکی فل کروا کر سارا راستہ نہیں چل سکتے، دوبارہ چیک بھی کروانا پڑے گا، ہو سکتا ہے مزید ڈالنا پڑ جائے۔ فیول تو لازمی کم ہوگا۔

 اصل رکاوٹ: ہمارا اپنا دماغ

یا کوئی بھی چیز ہمیں نہیں روکتی، اگر کوئی چیز روکتی ہے تو وہ صرف اور صرف ہمارا دماغ ہے۔ یہ بات بالکل سچ ہے۔ جیسے جیسے چیزیں آپ کو فیس کرنی ہوتی ہیں، دل کرتا ہے بس رک جاؤ، "نہیں ہوتا مجھ سے!"کیا ہے؟ دو وقت کی روٹی؟ وہ تو مل ہی جائے گی کسی نہ کسی طرح، اللہ ڈال دیں گے پیٹ میں۔ لیکن کیا پیٹ میں ڈال کر بس یہی سب ختم ہو جاتا ہے؟

کچھ بھی آسانی سے نہیں ملتا۔ یہ کہانی کسی ایک سٹوڈنٹ، کسی ایک ہاؤس وائف یا کسی ایک جاب کرنے والے کی نہیں ہے، یہ ہر بندے کی ہے۔ یہاں ایک چھوٹے بچے سے لے کر، ایک جاب پر جانے والے اور ایک سٹوڈنٹ تک، ہر دوسرا بندہ اپنے حصے کی برداشت کر رہا ہے۔ کسی کو بھی کچھ بھی مفت میں نہیں مل رہا۔ آپ کی سوچ ہے! میں نے اپنی لائف میں کیسے کیسے لوگوں کو سٹرگل کرتے دیکھا ہے۔ بس ہر ایک پر اس کی طاقت (strength) کے مطابق بوجھ ڈالا جاتا ہے۔

> ہمیں کوئی چیز نہیں ہرا سکتی۔ آپ گرتے ہو؟ کوئی بات نہیں، سب گرتے ہیں۔ لیکن کیا اس کے بعد لائف ختم ہے؟ بس وہی گزار دینی ہے؟ نہیں! اس کے بعد ایک آپشن بھی تو ہے، اور وہ ہے اٹھنے کا۔ ہم اٹھ بھی تو سکتے ہیں! آپ کوئی کام کر رہے ہو، آپ زیرو پر واپس چلے گئے تو کیا ہوا؟ رک گئے بس؟

معاشرے کا المیہ اور نوجوانوں کی ناامیدی

اصل میں ہماری سوسائٹی کا ایک بہت بڑا فالٹ یہ ہے کہ یہاں ہر دوسرا بندہ یوتھ کو ناامید کر رہا ہے۔ جس کے منہ سے سنو، یہی کہتا ہے: "بھائی! کچھ نہیں ملے گا آپ کو یہاں۔"کیوں بھائی؟ کیا پاکستان مریخ پر ہے جو اس دنیا نامی چیز سے دور ہے؟ جہاں آبادی نہیں ہے؟ آپ کو روزگار نہیں مل سکتا؟ آپ کس بیس پر کہہ سکتے ہیں کہ یہاں کچھ نہیں ملے گا؟

ہم اکثر یہ کہہ کر ہمت ہار جاتے ہیں کہ کچھ نہیں ملے گا، لیکن کیا ہم نے خلوصِ نیت سے کوشش کی؟ آپ یہاں ایک ماسٹرز کرنے والے سے پوچھ لو کہ کیا پلانز ہیں؟ کہے گا: "بھائی! ملنا تو کچھ ہے نہیں، چلو ڈگری ہی مل جائے گی۔"* لیکن اس حقیقت پسندانہ اوپنر کو سمجھنا ضروری ہے کہ ڈگری کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں مطلوبہ سکلز (Skills) کا ہونا بھی لازمی ہے۔ او بھائی! کیوں نہیں ملے گا آپ کو؟ کیا آپ نے ٹرائی کیا؟ چلو مان لیا آپ نے ٹرائی کر لیا، پھر اس کے بعد کیا؟ پھر بھی کیا ہوگا؟ چلو وہاں فیلور ہو گیا، پھر آپ نے اپنے حصے کی سٹرگل کر کے، یہ جو ڈیجیٹل مواقع (Digital Opportunities) کا ایک سمندر ہمارے سامنے موجود ہے—جس پر آپ گھنٹوں نیٹ فلکس کی موویز اور ڈرامے دیکھنے میں گزار دیتے ہیں—وہاں جا کر دیکھا کہ آپ کے سبجیکٹ کے ریلیونٹ کہاں کہاں جاب مل سکتی ہے؟ آپ کے پاس کہاں کہاں اپرچونٹی ہے؟ دیکھا آپ نے؟ پھر آپ نے اس کو ٹرائی کیا؟

آپ جو دوسری کنٹریز کا حوالہ دے رہے ہوتے ہیں، وہاں دیکھ لو کہ بچوں کو کیا مل رہا ہے اور وہاں کتنی اپرچونٹیز ہیں۔ کبھی آپ نے کسی ایک بچے کا شیڈول نکال کر کبھی غلطی سے پڑھا ہے کہ کیا روٹین ہے وہاں؟ جیسے ہی بچہ بالغ ہوتا ہے، اس کے پیرنٹس اسے سپورٹ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہاں ان کو بلاوجہ کا آرام نہیں دیا جاتا۔ وہاں آفٹر اسکولنگ ہر بچہ خود کماتا ہے، اپنا خود کرتا ہے۔

آپ نے ماسٹرز تک تو ماں باپ کے پیسوں پر کرنا ہے، پھر اپنی ڈگری یہ کہتے ہوئے پوری کر دینی ہے کہ کچھ نہیں ملے گا، چلو ایک پیپر ہی سہی وہی مل جائے۔ پھر اس کے بعد مشکل سے دو مہینے آپ نے کہیں ایک سے دو جگہ دیکھنا ہے، جاب نہیں ملی تو پاپا کو کہنا ہے: "آپ دیکھ لیں، جاننے والے ہیں تو مجھے جاب ہی دلوا دیں۔" وہ کہیں گے: "بیٹا! نہیں بھائی، ہمارے جاننے والے نہیں ہیں۔" پھر آپ بیٹھ جائیں گے۔ ایسے کیسے ملے گا؟ جب آپ باہر نکل کر کچھ ڈھونڈیں گے ہی نہیں!

آپ کو کیا لگتا ہے یہ جو باہر گئے ہوئے ہیں، سیٹ پر بیٹھ کر پیسہ کما رہے ہیں؟ نہیں بھائی! وہ مزدوری کرتے ہیں۔ کبھی پوچھنا کسی سے، آپ کو بتائیں گے کہ دیکھنے میں ڈالرز اور ریال کیسے کما کر بھیج رہے ہیں۔ وہاں کیفے، ہوٹل اور سٹورز میں جا کر دیکھنا، موسٹلی سٹوڈنٹس ملیں گے آپ کو، انڈینز اور پاکستانیز ہوں گے۔ جو کام یہاں آپ کو میٹرک کے بعد کسی دکان پر کھڑا ہونا پڑ جائے تو انا آڑے آ جاتی ہے، وہاں آپ ماسٹرز کر کے بھی یہ کر رہے ہو۔ زیادتی ہے یہ تو!

 اپنی طاقت کو پہچانیں: کچھ الگ کیجیے

مجھے لگتا ہے یہ غلطی یوتھ کی بھی نہیں ہے، یہ ان لوگوں کے مائنڈ سیٹ کی ہے جو کچھ کرنے نہیں دیتے اور طنز کر کر کے ہرا دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے پاس ایک پاور یہ بھی تو ہے کہ ہم ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں، ان فیکٹ سنیں ہی نہ! سنی ہوئی بات تو می بی کہیں مائنڈ میں ستک ہو جائے۔ اول تو آپ کی اپنی پاور ایسی ہو کہ ہرانا آسان ہو ہی نہ آپ کو۔ آپ کو اتنا لڑنا آنا چاہیے کہ آپ کے حالات ہار مان جائیں اور تقدیر آپ کا جذبہ دیکھ کر کہے: "بھائی! مجھے اب دینا ہی ہوگا، مجھے راستہ دینا ہی پڑے گا۔"* مجھے یہ بات بہت بری لگتی ہے جب لوگ کہتے ہیں: "بھائی! ہم کیسے کریں؟ گھر سے پرمیشن نہیں ملے گی۔" بھائی! ایسے کیسے نہیں ملے گی؟ آپ بناؤ نا راستہ! گھر والوں نے پورا ایجوکیشن کیریئر سپورٹ کر دیا، کیا یہ تھوڑا ہے؟ اب کوئی چیز ان کے دماغ میں نہیں آ رہی تو آپ بتاؤ نا انہیں، بناؤ اپنا راستہ! مزہ تو پھر آئے گا جب آ کر کہو گے: "لو جی! دیکھ لو، میں نے کر لیا۔" کچھ سپیشل کرو، کچھ الگ کرو۔ کیا سب کی طرح ایک ہی لائن میں لگ کر ایک ہی ٹرین کی ٹکٹ لیے جا رہے ہو؟ کچھ الگ لاؤ، کچھ سپائسی سا، کچھ تیکھا، یو نو! مزہ آئے جس میں۔

ایک بات اپنے دماغ میں بٹھا لو، اس کو لکھ لو: آپ سب کر سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور روایتی راستوں سے ہٹ کر کچھ تخلیقی (creative) سوچیں، آپ سب کو قائل کر سکتے ہیں۔جس دن آپ نے یہ مان لیا نا، میں مان ہی نہیں سکتی کہ کچھ آپ سے نہیں ہوگا۔ سب ہوگا، لکھوا لو مجھ سے! میرا اپنا ایکسپیرینس ہے یہ۔

جب آپ میں کچھ الگ ہوگا نا، کہیں پوٹینشل ہوگا، کسی کو کچھ نظر آئے گا، تو سب ہی آپ کی ڈیمانڈ کریں گے۔ کیونکہ اب وہ بھی کہتے ہیں کہ "کچھ نیو دکھاؤ"۔ وہ کہتے ہیں: "آپ کو ہم کیوں رکھیں، بتاؤ؟" تو آپ کے پاس ہونا چاہیے نا کچھ دکھانے کے لیے جو سب سے الگ ہو، جس کی بیس پر وہ آپ کو رکھنے پر مجبور ہو جائیں۔

 محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی

دیکھیے! پکا پکایا کسی کو نہیں ملتا، خود ایفرٹ کرنی ہوتی ہے۔ جتنا گڑ ڈالو گے، اتنا ہی میٹھا ہوگا۔ آپ بس ایفرٹ ڈالیں، راستے خود بنیں گے، خود کے دشمن بن کر خود کو نہ گرائیں۔ جو کچھ بھی نہیں کر سکتا، پھر امید ہے کہ ایک تھوڑی سی چیز آپ کو کہیں تو لے جائے گی، کہیں نہ کہیں پہنچا دے گی۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ:

 "جب آپ 20 سال کی عمر سے کمانا شروع کر دو، تو آپ کے پاس 25 سال کی عمر میں اس سے چار گنا (four times) زیادہ ہوگا اس بندے کی نسبت جو 25 کی عمر میں سٹارٹ کرے گا۔"

پاکستان ہم سے ہے، ہم نے اسے بنا رکھا ہے۔ جیسے ہم ہیں، ویسا ہی یہ بنا ہوا ہے۔ اب آپ خود سمجھدار ہیں، سوچ لیں کہ ہم کہاں ہیں اور کیا ہیں۔ یونیورسٹی لائف تک تو ہم پیرنٹس سے پاکٹ منی لے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان میں رکھا کیا ہے! خود کو بدل لیں، اپنے حصے کی ذمہ داری سنبھال لیں، پاکستان خود اچھا ہو جائے گا۔

اصل میں بنے بنائے راستوں میں نقص بھی بڑے نکلتے ہیں، ہمیں یہ (ملک اور زندگی) مل گیا ہے تو اب نقص بھی نکال لیتے ہیں۔ اپنی محنت سے جو حاصل ہو، اسے ہم سینے سے لگا کر رکھتے ہیں۔ غور کیجیے، گول سیٹ کیجیے اور بار بار کوشش کیجیے۔ کچھ کرنے کے لیے کی گئی محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی، یہ دماغ میں رکھ لیں، اس کا پھل آپ کو ملے گا، ان شاء اللہ۔

بس کریں، آپ ماشاء اللہ سے جوان جہان ہیں، بوڑھے تھوڑا ہی ہیں جو گھٹنوں میں درد ہو جائے گا یا کمر کا مسئلہ ہو جائے گا۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ کو، یقین رکھیں، کیونکہ آج کا کیا گیا ایک قدم، آپ کے کل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ یہ بات واقعی زیادہ گہری اور دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔

فی امان اللہ۔ دعاؤں میں لازمی یاد رکھیے گا۔

*******

Comments