کچھ
باتیں ہمارے ذہن میں دیمک کی طرح چپک جاتی ہیں ،جنہیں ہم چاہ کر بھی نہیں بھلا پاتے
ہیں ،حالانکہ وہ باتیں ہماری تکلیف کا سبب ہوتی ہیں، بعض اوقات ہمیں ضرورت ہوتی ہے
کسی ایسے کی جس کے گلے لگ کر ہم پھوٹ پھوٹ کر رو سکیں اور اپنے دل کی ہر بات کھل کر
اسے بتا سکیں ،جو ہمیں سمجھے ،ہماری تکلیف کو محسوس کریے، لیکن ہمیں کوئی ایسا دکھائی
نہیں دیتا، اس وقت ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اکیلے ہیں، ہم خود ہی روتے ہیں،
خود ہی اپنے انسو پہنچ لیتے ہیں، کوئی ایسا نہیں ہوتا جو ہمیں سمجھے، ہمارے دکھ میں
شریک ہو سکے، پھر آہستہ آہستہ یہ سب سہتے ہمارے
اندر سے زندگی کی تمنا ختم ہونے لگتی ہے، اور
ہم اللہ سے ملنے کا شوق رکھنے لگتے ہیں، کیونکہ پھر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس دنیا سے
چلے جائیں اور اپنے رب سے ملاقات کریں
***************
Comments
Post a Comment