Mashriq ka taleemi zawal (jadeed amaraten, khokhly kirdar) Article by Salwa Farooq

# کالم:

مشرق کا تعلیمی زوال: جدید عمارتیں، کھوکھلے کردار

**تحریر:** سلویٰ فاروق

آج کا ہمارا موضوع عصرِ حاضر کا وہ تلخ ترین اور حساس ترین معاملہ ہے جو ہمارے آس پاس روز رونما ہو رہا ہے، لیکن ہم سب کی آنکھیں بند ہیں۔ یا تو ہمیں کچھ نظر نہیں آ رہا، یا پھر ہم خود جان بوجھ کر دیکھنا نہیں چاہتے۔ اور اگر کبھی کبھار ہم دیکھ بھی لیں، تو ہمارا احتجاج صرف چند دنوں کی گرمہ گرمی تک محدود رہتا ہے، جس کے بعد دوبارہ مجرمانہ خاموشی کا کفن اوڑھ لیا جاتا ہے۔

اس موضوع کی گہرائی میں جانے سے پہلے ایک بنیادی نقطے پر بات کرنا ضروری ہے، اور وہ ہے ہمارے اسکول, کالج اور یونیورسٹیاں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ تعلیمی ادارے ایک جاہل اور غیر مہذب انسان کو سچا انسان بنا دیتے ہیں۔ یہ ہمیں بولنا، اٹھنا بیٹھنا، چلنا، اپنے آپ پر غور کرنا، اور ہر غلط بات پر "کیوں؟" کہنا سکھاتے ہیں۔ حق کے لیے لڑنا، اچھے اور برے کی تمیز کرنا، اور زندگی کی حقیقتوں کو پرکھنا ہمیں انھی اداروں سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر مختصراً کہوں تو یہ ادارے ہمیں "انسان" بناتے ہیں۔ لیکن افسوس! آج ان مقدس جگہوں کا جو حال ہو چکا ہے، وہ ناقابلِ بیان اور ناقابلِ برداشت ہے۔

### روشن خیالی کا سراب اور استقبالیہ تقریبات کا تماشہ

کہنے کو تو ہمارے تعلیمی ادارے بہت "ماڈرن" ہو چکے ہیں۔ یہاں مادی ترقی عروج پر ہے؛ جدید ترین لیبارٹریز ہیں، لائبریریاں کتابوں سے بھری پڑی ہیں، ڈگریوں سے مالامال اساتذہ ہیں جن کے پاس علم کا وسیع ذخیرہ ہے، اور کروڑوں روپے سے بنی خوبصورت، وسیع و عریض عمارتیں ہیں جنھیں سجانے کے لیے دن رات محنت کی جاتی ہے۔ کلاس رومز روشن ہیں، پنکھے اور لائٹس وافر مقدار میں موجود ہیں۔ ہر ادارہ اپنے ڈسپلن (نظم و ضبط) کو عروج پر دکھانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ نظم و ضبط صرف اسی دن نظر آتا ہے جب کسی ڈائریکٹر یا اعلیٰ عہدیدار کا دورہ ہونا ہو۔

ان سب چمک دمک کے ساتھ، ہر مہینے کوئی نہ کوئی "آگاہی پروگرام" (Awareness Program) بھی رکھا جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ ان پروگراموں کا اصل مقصد صرف تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا رہ گیا ہے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ ہم نے اپنی ڈیوٹی پوری کر دی ہے۔ اسپورٹس ڈے، سالانہ فنکشنز اور اس طرح کی بے شمار تقریبات پورا سال چلتی رہتی ہیں، لیکن جس چیز کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے، یعنی **"اخلاقی تربیت"**، وہ یہاں کہیں غائب ہے۔ انتہائی مایوسی کی بات یہ ہے کہ جہاں کسی ادارے کی باگ ڈور کسی خاتون کے ہاتھ میں ہے، وہاں بھی اس اخلاقی گراوٹ کو روکنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔

اب وہ بات کیا ہے؟ ہمارے تعلیمی اداروں کے سالانہ فنکشنز میں کیا ہوتا ہے؟ معصوم بچیوں کو اسٹیج پر آنے والے مہمانوں کے استقبال (Welcome) کے لیے کھڑا کر دیا جاتا ہے، جہاں وہ مختلف گانوں پر رقص (Performance) کر کے مہمانوں کا دل بہلاتی ہیں۔ جب اعتراض کیا جائے تو جواز پیش کیا جاتا ہے کہ "یہ تو صرف ایک ویلکم ہے، ہم کون سا کوئی ناچ گانا کر رہے ہیں!"۔ لیکن یاد رکھیے، **کسی غلط کام کو نیا نام دینے یا اس کی شکل بدل دینے سے اس کی حقیقت نہیں بدل جاتی۔** ایک پڑھے لکھے معاشرے کے طور پر ہم یہ سب کیسے برداشت کر لیتے ہیں؟ ہمیں کیوں لگتا ہے کہ اپنی بیٹیوں کو اسٹیج پر نچوا کر ہی ہم اپنی تقریبات کو کامیاب بنا سکتے ہیں؟ کیا ہمیں کوئی اور مہذب طریقہ نظر نہیں آتا؟

یہ طریقہ کار دراصل غیر مسلموں کا تھا، جو اپنی بزنس میٹنگز اور تقریبات میں لڑکیوں کو پیش کرتے تھے تاکہ وہ مہمانوں کو خوش کر کے اپنے کاروباری سودے پکے کر سکیں۔ کیا ایک مسلمان اور پڑھے لکھے انسان کے طور پر ہمیں یہ کلچر زیب دیتا ہے؟ ہم ماڈرن نہیں بلکہ دورِ جاہلیت کی طرف واپس جا رہے ہیں۔ خدا کے لیے ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کو ان واہیات رسومات سے بچانا ہو گا اور ان کا تقدس پامال کرنے سے روکنا ہو گا۔ باہر دیواروں پر قرآنی آیات اور احادیث لکھ کر اندر یہ سب کرنا منافقت کے سوا کچھ نہیں۔

تعلیمی اداروں کے اسی اخلاقی زوال کا دوسرا اور بھیانک رخ وہ واقعات ہیں جو مغربی معاشرت کی اندھی تقلید سے ہوتے ہوئے اب ہمارے ہاں جڑ پکڑ چکے ہیں۔ آئے دن ہماری یونیورسٹیوں اور کالجوں سے ہراساں کرنے (Harassment) اور عصمت دری جیسے دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آتے ہیں، جو چند دن اخبارات کی زینت بن کر ختم ہو جاتے ہیں اور ان درندوں کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ حالیہ چند بڑے واقعات ہمارے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں:

 * **1۔ مہران یونیورسٹی، جامشرو کا واقعہ (مئی 2026):**

   مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (MUET) میں ایم فل (MPhil) کی ایک طالبہ نے اپنے شعبے کے ایک پروفیسر پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا جب وہ اسائنمنٹ کے سلسلے میں پروفیسر کے آفس گئی تھی۔ اس واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ تھا کہ طالبہ کے خاندان نے یونیورسٹی کی اندرونی "انٹی ہراسمنٹ کمیٹی" پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، کیونکہ تعلیمی اداروں کی کمیٹیاں اکثر اپنے ہی لوگوں کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اب یہ کیس صوبائی محتسب کو منتقل کیا جا چکا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ والدین اور طالبات اب تعلیمی اداروں کے اندرونی نظام سے مایوس ہو چکے ہیں۔

 * **2۔ فہمیدہ لغاری خودکشی کیس (اپریل 2026):**

   میرپورخاص کے ایک میڈیکل کالج کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے ایک استاد کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے سے تنگ آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ پاکستان کی سینیٹ کمیٹی نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں ہراساں کرنے کے 472 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لڑکیاں بدنامی کے خوف سے خاموش رہتی ہیں یا فہمیدہ کی طرح انتہائی قدم اٹھا لیتی ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہمارا نظام کیوں مصلحت کی نیند سویا ہوا ہے؟

 * **3۔ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ (IoBM) کراچی کا واقعہ (اکتوبر 2025):**

   کراچی کی ایک نامور نجی یونیورسٹی میں ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے عملے نے ایک طالبہ کو ہراساں کریں۔ جب طالبہ اور اس کے گھر والوں نے آواز اٹھائی، تو یونیورسٹی انتظامیہ نے انصاف دینے کے بجائے الٹا لڑکی ہی کو یونیورسٹی سے نکال (Expel) دیا۔ بعد میں طلبہ کے شدید احتجاج پر یہ فیصلہ واپس لیا گیا، لیکن یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ **ادارے اکثر "وکٹم بلیمینگ" (مظلوم لڑکی کو ہی قصوروار ٹھهرانے) اور اپنی ساکھ بچانے میں لگ جاتے ہیں۔**

 * **4۔ پنجاب یونیورسٹی، لاہور کا واقعہ (مارچ 2025):**

   پنجاب یونیورسٹی نے اسلامک اسٹڈیز کے ایک طالب علم کا داخلہ مستقل طور پر منسوخ کر دیا کیونکہ وہ ایک طالبہ کو ہراساں کرنے میں ملوث تھا۔ یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں صرف اساتذہ یا عملہ ہی نہیں، بلکہ ساتھ پڑھنے والے لڑکے (Peer Harassment) بھی لڑکیوں کے لیے خوف کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔

### حفظِ ماتقدم: حیا کا اسلامی تصور اور عورت کی چھٹی حس

جہاں ہم یونیورسٹیوں کے فنکشنز اور عمارتوں پر اتنی توجہ دیتے ہیں، اگر تھوڑی سی توجہ ان درندوں کی سرکوبی پر دیں تو ہم اپنی بیٹیوں کو بچا سکتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بچیوں کو پڑھانے کے لیے مرد اساتذہ کی جگہ خواتین اساتذہ ہونی چاہئیں، کیونکہ ہمارے ہاں قابل خواتین کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اور اگر کہیں مرد اساتذہ ہوں بھی، تو انتظامیہ میں اتنی عقل ہونی چاہیے کہ وہ ان کے کردار اور نظروں کو پرکھ سکے۔ ہم کسی مرد کے بارے میں یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ "وہ ایسا نہیں ہو سکتا"۔

ہمارے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:

> **"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ بیٹھے، سوائے اس کے کہ اس کا محرم اس کے ساتھ ہو، کیونکہ جہاں دو (نامحرم) اکیلے ہوتے ہیں، وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔"**

>

جب دین کا یہ واضح حکم ہے، تو ہم کیسے یہ سوچ سکتے ہیں کہ عام انسان جس کے ساتھ ہر وقت شیطانوں کا لشکر ہوتا ہے، وہ اپنے نفس کے بہکاوے سے بچ جائے گا؟

تعلیمی ادارے جہاں انسان بننا سکھایا جاتا ہے، وہاں ایسے درندے کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ اس سے بچاؤ تب ہی ممکن ہے جب تعلیمی انتظامیہ اپنی بند آنکھیں کھول کر کام کرے گی۔ لیکن اگر انتظامیہ کو اس کی فرصت نہیں، تو اللہ تعالیٰ نے عورت کو ایک خاص بصیرت اور حس دی ہے جس سے وہ ایک نظر میں سامنے والے کی نیت اور اس کی نظر کے پیچھے چھپے خبیث ارادوں کو پہچان سکتی ہے۔ **اگر آپ کا ذہن یا چھٹی حس (Sixth Sense) کوئی بھی منفی سگنل دے، تو اسے ہرگز نظر انداز نہ کریں۔**

### مخلوط نظامِ تعلیم: ترقی کی ضرورت یا فتنوں کی آماجگاہ؟

آخری بات یہ کہ اگر ہمیں صرف لڑکیوں کے تعلیمی اداروں (Girls-only education) میں تعلیم کی سہولت میسر ہے، تو ہمیں وہیں سے تعلیم حاصل کرنا اپنی پہلی ترجیح بنانا چاہیے۔ مخلوط تعلیم (Co-education) کے فتنوں میں جا کر اپنی دنیا اور عاقبت برباد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ دینِ اسلام نے بھی مخلوط ماحول کے نقصانات سے بچنے اور حیا کا دامن تھامنے کا حکم دیا ہے۔ خدا کے لیے جاگیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

تعلیمی اداروں کا یہ زوال محض چند افراد کا ذاتی جرم نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی موت کا پیش خیمہ ہے۔ علم روشنی کا نام تھا، مگر جب اس روشنی کے رکھوالے ہی اندھیروں کے سوداگر بن جائیں تو نسلیں تباہ ہو جایا کرتی ہیں۔ ہمیں اب مصلحتوں کے بت توڑنے ہوں گے۔ ہراساں کرنے والے لومڑوں کو استاد کے مقدس لبادے سے نکال کر نشانِ عبرت بنانا ہو گا، اور تعلیمی اداروں کو کاروباری مراکز کے بجائے دوبارہ "درسگاہیں" بنانا ہو گا۔

یاد رکھیے! **جب تک ہم ڈگریوں سے زیادہ "کردار" پر اور عمارتوں سے زیادہ "حیا اور اخلاق" پر سرمایہ کاری نہیں کریں گے،** تب تک ہماری بیٹیاں عدم تحفظ کے سائے میں جینے پر مجبور رہیں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب جاگیں، آواز اٹھائیں اور اس سے پہلے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کا بقیہ تقدس بھی خاک میں مل جائے، اس وباء کا جڑ سے خاتمہ کریں۔ یہی ہماری بقا ہے اور یہی ہماری نسلوں کا تحفظ!

**کالم نگار کا تعارف:**

*سلویٰ فاروق ایک طالبہ، کالم نگار اور ڈیجیٹل پروفائل آپٹمائزیشن کی ماہر ہیں۔ وہ سماجی مسائل، نوجوانوں پر معاشرتی دباؤ اور خاص طور پر خواتین کے حقوق و تحفظ پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے مستقل کالم لکھتی ہیں۔*

*****************

Comments