بنٹی اور چُنی کی شادی
از قلم: کے۔جے خانم
اسلام
و علیکم!
امید
ہے سب قارئین خیریت سے ہوں گے۔
کچھ
دن پہلے یہ موضوع بہت چرچا میں رہا کہ کم عمر لڑکیوں اور لڑکوں کی شادی کا بِل پاس
کیا جاۓ۔کم
عمر سے مراد 18 سال سے بھی کم عمر "بچے".
وہ
مسئلہ تو فلحال حل ہو گیا مگرصرف "فلحال"۔
کچھ
عرصے بعد پھر کوئی اس نقطے کو چھیڑ دیتا ہے۔کبھی اس کے خلاف تو کبھی اس کے حق میں فیصلے
کر دیئے جاتے ہیں۔یہ صدیوں سے چلنے والی بحث اور رسم ہےجو قوانین بننے کے باوجود بھی
بھاری شرح میں جاری رہتی ہے۔
کیونکہ یہ مسئلہ غیرت کے نام پر قتل کرنے،10 بچے پیدا کر کے انہیں بھوک
و افلاس سے مارنے،زیادتی کی بڑھتی شرخ سے،مجرموں کے سرِ عام دندناتے پھرنےسے،کم عمر
بچوں کے کھیلنے کی عمر میں مزدوری کرنے سے یقیناَ بہت بڑا ہے اور ہم ان سب مسائل کو
اتنی ہی لگن سے پیش کر کے انہیں حل بھی کر
چکے ہیں۔اس لیے صرف یہی آئنی ترمیم ضروری رہ گئی ہے۔
•کیا
آج کے دور میں 18 سے کم عمر بچے پاکستان میں رہتے ہوۓ
اس قابل ہیں کہ وہ شادی جیسی زمہ داری اٹھا لیں؟
یہ
وہ دور نہیں جس میں 14 سال کے بچے ریاستیں فتح کیا کرتے تھے وہ بھی ایک بھاری نفری
کی حفاظت میں۔بہرحال اتنی کم عمری میں شادی تب بھی قابلِ توصیف نہیں تھی۔
اور
آپ چاہتے ہیں کے آج کا بچہ جو عجیب و غریب قسم کے حالیہ تعلیمی سلیبس سے جوجھ رہا ہے
،جسے ڈوم سکرولنگ میں اپنا ہوش نہیں رہتا،جو اس ملک کی گرتی معیشت میں اپنا مستقبل
اندھیر دیکھ رہا ہے،جو ٹھیک سے خود کو بھی نہیں جانتا وہ شادی،ہمسفر اور بچوں کی زمہ
داری میں پڑ جائے؟
کیا
ہم طلاق کی شدت سے بڑھتی شرخ سے کچھ نہیں سیکھ رہے جو کہ ہر عمر سے تعلق رکھتے جوڑے
میں ہو رہی ہے خواہ وہ جوڑا 25 سالہ ہو یا 50 سالہ جو ہمیں اب بچوں کی شادیاں دیکھنی
ہیں؟
•اگر
آپ پھر بھی یہی چاہتے ہیں تو کیا آپ بچوں کی تربیت کے لیے ایسے اقدام اٹھا رہے ہیں
کہ وہ اس قابل ہو سکیں؟
ازدواجی
اور خاندانی تعلیم تو سرے سے نہیں اور جیسے تعلیمی ادارے تعلیم دے رہے ہیں ،یا ایک
رٹے باز طوطا وہاں سے نکلتا ہے یا چند انگریزی کے لفظ سیکھ کر خود کو دانشمند سمجھنے
والا بونا، یا شر پسند تحریکوں میں شامل ہو جانے والا اپنی نظر میں سستی فلم کا چھپڑی
ہیرو اور نئے ٹرینڈ کے پیچھے بھاگتی تتلیاں
جو ابھی انفرادی راۓ
بھی نہیں رکھتیں۔
منتشر،
فرسودہ خاندانی نظام سے نفسیاتی مسائل کا شکار بنا ہوا بچہ(جو کہ پاکستان میں عام ہے)یا بدلتے دور سے متاثر
ہوتا بچہ۔
کیا
یہ اتنی بڑی زمہ داری کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟
جو
اپنے جذبات کو سمجھ نہیں پا رہے، انھیں متوازن نہیں کر پا رہے وہ کسی دوسرے شخص کو
سمجھ پائیں گے؟
گھر
کا خرچہ،کچن کا بجٹ،بجلی کا بِل ،پیٹرول کی سونے برابر بڑھتی قیمتوں اور بچوں کو پڑھائی
کے ساتھ کما کر سنبھال پائیں گے؟
یا
ان بڑھتے خرچوں کو بھی اپنے والدین پر ڈال کر شروع سے ہی غیر زمہ داری کے عادی ہو جائیں
؟
یا پڑھائی چھوڑ کر سِرے سے جو کچھ تھوڑا بہت
تیز رفتار دنیا سے قدم ملانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی چھوڑ دیں؟
اور
اس بھول میں مت رہیں کے وہ کاروبار کر لیں گے۔سب کاروبار بھی نہیں کر سکتے اور اگر
سب کر بھی لیں تو باقی سب کون کرے گا۔
•
جب آئینی ترمیم کی جاتی ہے تو سب کے لیے ہوتی ہے۔اگر کہہ دیں کہ صاحبِ استطاعت کر لیں
تو پھر بھی کیا بچوں میں رشتے سنبھالنے کا شعور ہے؟
یہ
کیسے پتا کیا جاۓ
گا؟
اس
کے لیے تو کوئی ٹیسٹ بھی نہیں۔
متوسط
و غریب طبقے میں تو یہ رجحان پہلے ہی زیادہ ہے،پھر وہ کیوں رکیں گے؟
ان
کے تو وسائل و آمدنی بھی کم ہے۔
بچوں
کی نفسیاتی ،جسمانی،سماجی اور معاشی زمہ داریاں پورا کرنا ماں باپ کا فرض ہے۔وہ کیسے
انہیں پورا کر سکیں گے؟
بچے
نہیں کہتے کے انہیں پیدا کیا جاۓ
وہ بھی جب آپ ان کی زمہ داری بھی پوری کرنے کے قابل نا ہوں۔یہ نسلوں تک چلنے والے ٹروما
کی چابی ہے۔
•پاکستانی
اوسط خاندانی نظام کی چپکلش کو بچے ہینڈل کر پائیں گے؟
•خاندانی
منصوبہ بندی جو پہلے ہی بہت کم ہے یہاں اور پھر فرسودہ معاشرے کے دباؤ میں آکر کم عمری
کی زچگی کے مسائل کی زمہ داری کون لے گا؟
جس
میں سینکڑوں جانیں جاتی ہیں،سینکڑوں حمل ضائع ہوتے ہیں ،سینکڑوں مسائل کی وجہ سے بچیاں
پھر کنسیو کرنے سے قاصر ہو جاتی ہیں جو کہ
ایک اور وجہ ہے طلاق کی،زہنی دباؤ اور متعدد شادیوں کی۔
•ایک
بچہ وقت سے پہلے دو دو خاندانوں کی زمہ داریاں نبھانے میں نمٹ جاتا ہے۔خاندان اور بچوں
میں مڈل مین بن جاتا ہے کیونکہ اکثریت تو انہیں اطوار پر چلتی ہے۔
•جتنے
وثوق سے ایسے اقدام اٹھائے جا رہے تھے ،مجھے تو شک ہونے لگا کہ شاید ان سب باتوں کو
مدنظر رکھ کر کوئی ایسا بہترین بچا ڈھونڈ لیا گیا ہے جو سب کچھ بیلنس کر سکتا ہے اور
اس کی مثال پر یہ بِل پاس ہو جانا چاہیے ۔
بس
میں چاہتی ہوں ہمیں بھی اسے دیکھنے کا موقع دیا جائے ۔
اور
اگر اس عمر کے بچے ان تمام امور کے لیے موزوں اور دانشمند ہیں تو پھر انہیں نوکریوں
بلکہ سیاست میں آنے کی بھی اجازت دی جاۓ
وہ یقیناً اس کے لیے بھی موزوں ہوں گے۔انہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جاۓ،ہم
بھی نئے چہرے دیکھنا چاہتے ہیں۔
•کچھ
پکے امتی سنی سنائی باتوں پر کہتے ہیں کہ بھلے ہم کریں نا کریں پر سنت تو ہے نا۔
آپ
دکاندار کو پیسے دے کر جب باقی واپس لیتے ہیں تو ایک ایک روپے کا حساب کرتے ہیں۔یہ
حساب تاریخ پڑھ کر بھی چند برس کا کرنے کی کوشش کی ہوتی، جس کی بنیاد پر دین کے شاپر
میں لپیٹ کے آپ بچوں کو بیاہی جاتے ہیں ۔9 کے بجاۓ
17-19 کی عمر تک تو آہی جاتے آپ۔
•کبھی
کوئی ساٹھ سالہ مرد نما مخلوق کہہ دیتی ہے
کہ میں 16 سالہ لڑکی سے شادی کر کہ مشعلِ راہ بنوں گا اور سنت کو ذندہ کروں گا ۔ان
سے گزارش ہے وہ ایک اور سنت پہلے پوری کریں جو ان کی گھڑی ہوئی سنت سے کئی سال پہلے
دنیا نے دیکھی تھی ۔یہ خود سے بڑی کسی 80 سالہ خاتون سے نکاح کر کے انکا آ سرہ بنیں۔ہم
اس مشعلِ راہ کو مزید روشن ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
تمام
سنتوں کو واپس ذندہ کریں،غزہ اور ایران جا کر جہاد والی بھی۔
اور
اپنا سب عام کے لیے قربان کرنے والی بھی۔
•اگر
والدین کو بھی لگتا ہے کہ آج کے دور میں افیئرز
سے بچنے کے لیے یہ ایک اچھا قدم ہے تو آپ سے درخواست اس معاملے میں بھی ذرا ویسی توجہ
اور ویسے جوش و جذبے سے تربیت کرنے کی کوشش کریں جیسی والدین کے حقوق کے حوالے سے کرتے
ہیں،مجھے امید ہے بچے کم از کم اٹھارہ سال تو گزار ہی لیں گے۔ اپنی تیرہ سال کی بیٹی اور چودہ سال کے بیٹے سےان
کی پسند لازمی پوچھی جاۓ
اور وہیں ان کی شادی کی جاۓ
۔
چونکہ
آپ کہ بقول، وہ دین کے اصولوں کے مطابق شادی کے قابل ہو گئے ہیں تو ان کی مرضی کا حق
بھی خوش اصلوبی سے انہیں دیا جائے جو دین نے دیا ہے۔
اس
معاشرے میں رہنے والوں کے معیار یہاں بھی عجیب ہیں۔
بہو
آپ کو چھوٹی چاہئے اور سگھڑ بھی جو عالم ارواح سے نہاری بناتی اور جھاڑو لگاتی آئی
ہو اور داماد آپ کو کماتا ہوا، سمجھدار، پکی عمر کا چاہئے جو اسی چکر میں اگلی عمر
کو پہنچ چکا ہوتا ہے۔بے جوڑ شادیاں کر کے نصیب کے نام پر اپنا پھیلایا کچرا پھینک دیں۔
اگر
ان (بچوں)کی پسند پر بھروسہ نہیں کر سکتے تو مانیے کہ آپ کی سوچ کو تبدیلی کی ضرورت
ہے اور کچھ سال صبر کیجئے۔
اس
آڑٹیکل کو لکھنے کا مقصد تمام پیراہوں سے اس موضوع کو تول کر ڈیجیٹل دنیا میں آگاہی پھیلاناہے۔آگاہی ان
کے لئے جو اپنی قوی راۓ
نہیں رکھتے ابھی اور سوشل میڈیا کی بھیڑ میں الگ الگ لوگوں کے ذاتی نظریات پڑھ کر محمصے
کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس کا مقصد ان لوگوں کو سوچنے کے لئے محتلف زاویئےدینا ہے جو صرف
سنی سنائی باتوں کے بجاۓ
خود بھی اس موضوع کو کھوجنے کی جستجو رکھتے ہیں۔
میرا
مقصد بلکل بھی ان لوگوں پر الفاظ ضائع کرنا نہیں جو احتلافِ رائے اور اپنے پتھر عقیدوں میں مثبت تبدیلیوں کی خاطر بھی دراڑ
برداشت کرنے کی قوت نہیں رکھتے۔اگر یہ آرٹیکل کسی ایسے شخص کے پاس پہنچا ہے تو میں
معزرت خواہ ہوں، آپ پتھر سے سر پھوڑنا جاری رکھیئے ،جب تک تکلیف کا احساس پیدا نا ہو
جائے ۔
نیک
تمناؤں کے سنگ!
کے۔ جے خانم اب رخصت چاہتی ہے۔
***************
Comments
Post a Comment