Zulam ki woh qisam jis ki FIR nahi hoti article by Salwa Farooq

ظلم کی وہ قسم، جس کی ایف آئی آر (FIR) نہیں ہوتی

 

ہم اپنی تمام عمر عموماً ایک ہی شکوے میں گزار دیتے ہیں کہ "فلاں نے میرے ساتھ زیادتی کی، قسمت نے ساتھ نہیں دیا، والدین نے بہن بھائیوں کو مجھ پر فوقیت دی، یا کسی کم قابلیت والے کو مجھ سے بہتر نوکری مل گئی"۔ ہمارے پاس دکھوں کی ایک طویل فہرست ہے جسے سناتے ہوئے لفظ کم پڑ جائیں اور سننے والے تھک جائیں۔ لیکن کیا کبھی ہم نے ٹھہر کر خود سے یہ سوال کیا کہ ہم نے اپنے ساتھ کیا کیا ہے؟ کیا ہم نے اپنی ذات کے ساتھ انصاف کیا؟ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے خود کو ہر جگہ "مظلوم" ثابت کرنے کی کوشش میں اپنی ہی ذات کو دوسروں کا محتاج بنا دیا۔ کسی نے ذرا سی تنقید کی اور ہم نے اسے حرفِ آخر مان کر اپنی رائے، اپنی سوچ اور اپنے دماغ کو تھپکی دے کر سلا دیا۔ ہم بلاوجہ وہاں جھکتے رہے جہاں ہماری کوئی قدر نہ تھی، اور ان لوگوں کی خاطر خود کو ذہنی و جسمانی اذیت دی جنہیں ہماری تکلیف کا احساس تک نہیں۔

ایک شخص کوئی منفی بات کہہ کر چلا جاتا ہے اور ہم پوری رات اس کے تبصرے کو دماغ پر سوار کر کے خود کو احساسِ کمتری کا شکار کر لیتے ہیں۔ نتیجہ؟ ہم ڈیپریشن کے اس موڈ میں چلے جاتے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ ابھی زندگی کے اصل نشیب و فراز تو دیکھے ہی نہیں ہوتے کہ محض لوگوں کے طنز اور معمولی باتوں کی وجہ سے ہم نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ذرا سی بات پر بلڈ پریشر کا بگڑنا یا ٹراما میں چلے جانا—یہ دراصل ہمارے دماغ اور جسم کے درمیان چھڑی اس جنگ کا نتیجہ ہے جو ہم نے خود شروع کی ہے۔ کیا کسی "ایرے غیرے" کو اتنی اتھارٹی ملنی چاہیے کہ وہ ہمیں ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کر دے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اتنی اہمیت دیں جو ہمیں جذباتی اور دماغی طور پر بیمار کر دیں؟

آج سوشل میڈیا (فیس بک، ٹک ٹاک، واٹس ایپ) پر ہر دوسرا شخص یہ رونا رو رہا ہے کہ "الفاظ خنجر ہوتے ہیں، لفظ زخمی کر دیتے ہیں"۔ مانا کہ الفاظ میں کاٹ ہوتی ہے، لیکن کیا ہمارا اپنے دماغ پر اتنا بھی قابو نہیں کہ ہم ان زہریلے الفاظ کے لیے اپنے کان بند کر لیں؟ ہم اپنی توانائیاں ان غیر متعلقہ (irrelevant) لوگوں اور منفی باتوں پر ضائع کر رہے ہیں جو ہمیں اس قابل بھی نہیں چھوڑتیں کہ جب ہمیں مستقبل میں حقیقی جذبات یا ہمت کی ضرورت ہو، تو ہمارے پاس کچھ باقی رہے۔

یہاں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ظلم ہر عمر میں مختلف شکل بدل کر آتا ہے۔ نوجوان نسل دوسروں کی 'ایڈیٹڈ' زندگیوں کا مقابلہ اپنی 'اصلی' زندگی سے کر کے خود کو کم تر سمجھنے لگتی ہے، جو کہ سوشل میڈیا کا ایک بڑا سراب ہے۔ ملازمت پیشہ افراد آرام کو 'گناہ' اور بے پناہ تھکن کو 'کامیابی' کا معیار بنا لیتے ہیں، حالانکہ تھکاوٹ جسم کی وہ پکار ہے جسے نظر انداز کرنا خود پر زیادتی ہے۔ اسی طرح، ہماری مائیں اور بہنیں دوسروں کی خاطر خود کو مٹا دینے کو 'قربانی' سمجھتی ہیں، مگر یاد رکھیے کہ اگر آپ خود اندر سے ٹوٹے ہوئے ہیں، تو آپ دوسروں کو سہارا کیسے دے سکتے ہیں؟

ہماری جسمانی ساخت ان حالات کی ایسی عادی ہو جاتی ہے کہ ہم اچھی بھلی بات کا بھی غلط اور منفی اثر لینے لگتے ہیں۔ یہ سراسر "سیلف انجسٹس" (اپنی ذات کے ساتھ ناانصافی) ہے۔ ہمیں باہر کے دشمنوں سے پہلے خود کے اندر چھپے اس دشمن سے بچنے کی ضرورت ہے جو ہمیں مظلوم بنا کر خوش ہوتا ہے۔ کئی ایسے دردناک کیسز سامنے آتے ہیں جہاں کسی لڑکی نے محض گھر والوں یا باہر کے لوگوں کے طنز میں آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ کیا ہماری جان اتنی سستی ہے کہ اسے نمک کی طرح پانی میں گھول دیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جب اللہ ہم سے سوال کرے گا کہ ہم نے اس کی دی ہوئی امانت (زندگی اور جسم) کے ساتھ کیا کیا، تو ہم کیا جواب دیں گے؟

قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 "آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی (ظلم) کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔"

ایک طرف اللہ ہمیں اپنی جان پر ظلم کرنے سے روک رہا ہے اور دوسری طرف ہم اسی کے حکم کی نافرمانی کر کے خود کو اذیت دے رہے ہیں۔ کیا یہ دشمنی کسی باہر والے نے کی یا ہم نے خود اپنے ساتھ؟ اکثر ہم دوسروں کی دیکھا دیکھی ایسی فیلڈ یا پیشے کا انتخاب کر لیتے ہیں جس میں ہمارا کوئی شوق نہیں ہوتا۔ آپ کا انٹرسٹ الگ ہے، آپ کا مائنڈ الگ ہے، آپ کی صلاحیتیں الگ ہیں؛ کسی دوسرے کی ریس میں خود سے زبردستی کرنا بھی اپنی قابلیت کو ضائع کرنے والا ایک "ظلم" ہے۔ خود کو پہچانیں، اپنی صلاحیتوں پر کام کریں اور اپنی ذات کو اس مقام پر لے آئیں جہاں دنیا کی کوئی تنقید آپ کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ دوسروں کو اپنی زندگی میں اتنی ہی اہمیت دیں جتنی دن کی بھرپور روشنی میں ایک چھوٹی سی ٹیوب لائٹ کی ہوتی ہے، اس سے زیادہ کسی کو پرمیشن نہ دیں۔

اس ظلم کو کیسے کم کریں؟ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس ذاتی ناانصافی کے چکر سے کیسے نکلیں؟ سب سے پہلے "ردِعمل کا انتخاب" کرنا سیکھیں۔ جب کوئی آپ پر تنقید کرے تو فوراً اسے اپنے دل پر نقش کرنے کے بجائے یہ سوچیں کہ کیا یہ شخص میری زندگی کے فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے؟ اگر نہیں، تو اس کی بات کو صرف ایک شور سمجھ کر نظر انداز کر دیں۔ دوسرا اہم قدم "ذاتی ترجیحات" طے کرنا ہے۔ روزانہ کچھ وقت صرف اپنے لیے نکالیں جہاں آپ کسی دوسرے کے لیے جوابدہ نہ ہوں۔ اپنی صحت، اپنی نیند اور اپنے سکون پر سمجھوتہ کرنا چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں، جو شخص خود کی قدر نہیں کرتا، دنیا اسے کبھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔ اپنی خوشی کا ریموٹ کنٹرول دوسروں کے ہاتھ سے لے کر اپنے پاس رکھیں۔

آپ پر سب سے پہلا حق اللہ کا ہے جس کی آپ مخلوق ہو، پھر آپ کی اپنی ذات کا آپ پر حق ہے، اور پھر ان والدین کا جو آپ کو بڑی مشکلوں سے پالتے ہیں۔ انہیں ایسا پھل دیں جو خوبصورت، تازہ اور خوشبو والا ہو، مرجھایا ہوا نہیں۔ اپنی زندگی میں فلٹر لگانا سیکھیں، اپنی ترجیح بنیں اور خود کو معاف کرنا سیکھیں۔ اپنی توانائی کو اپنے مقاصد (Goals) پر لگائیں، پھر دیکھیں کہ آپ کہاں سے کہاں پہنچتے ہیں۔ امید ہے کہ میری یہ چھوٹی سی کوشش آپ کی سوچ بدلنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ خود کو پہچانیں اور خود پر ظلم کرنا چھوڑ دیں۔

فی امان اللہ۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

تعارف مصنفہ 

میرا نام سلوٰی فاروق ہے اور میں بی ایس کیمسٹری کی فائنل ایئر کی طالبہ ہوں۔ اگرچہ میرا تعلیمی میدان سائنس ہے، لیکن میرا دل ادب اور مطالعے میں بستا ہے۔ لکھنے کا شوق تو بچپن سے تھا، مگر حال ہی میں اپنی ایک قریبی دوست کی حوصلہ افزائی اور مثبت ردِعمل نے مجھے باقاعدہ کالم نگاری کی طرف مائل کیا۔ یہ میرا دوسرا کالم ہے اور میری ایک چھوٹی سی کوشش ہے کہ اپنے لفظوں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا حصہ بن سکوں۔

****************

Comments