Sakoot e lab kay sath lashaur ki shifa aur wasif ali wasif ki danashmandana aqwal Article by Tanzil khan Psychologist

*سکوتِ لب کے ساتھ لاشعور کی شفا اور واصف علی واصف صاحب کی دانشمندانہ اقوال*

 

انسانی نفسیات کا ایک حیران کن پہلو یہ ہے کہ ہمارا ذہن مسلسل ایک (Survival Mode) میں رہتا ہے۔ ہم بولتے اس لیے ہیں تاکہ خود کو ثابت کر سکیں لیکن ہم خاموش اس لیے ہوتے ہیں تاکہ خود کو دریافت کر سکیں۔

 

حضرت واصف علی واصفؒ نے کیا خوب فرمایا

*خاموشی وہ واحد زبان ہے جس میں جھوٹ نہیں بولا جا سکتا۔*

 

 اس ایک جملے میں نفسیات کی وہ گہرائی چھپی ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے وجود کی تہوں میں اترنا پڑے گا۔

 

*نفسیاتی کیتھارسس (Psychological Catharsis)**

عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ بولنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے لیکن نفسیات کی ایک شاخ کہتی ہے کہ **خاموشی ایک فلٹر ہے*۔

جب ہم خاموش ہوتے ہیں، تو ہمارا ذہن غیر ضروری جذبات کو (Process) کر رہا ہوتا ہے۔

 

 واصف صاحب فرماتے *انسان کے اندر ایک سمندر ہے، اور خاموشی اس کا ساحل ہے۔*

 

 نفسیاتی طور پر جب آپ کسی دکھ یا صدمے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں تو آپ کا (Unconscious) اس درد کو قبول کرنے کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے۔ جو لوگ فوری طور پر ری ایکٹ کرتے ہیں ان کا زخم کچا رہ جاتا ہے جبکہ خاموشی اس زخم کو بھرنے کی قوت فراہم کرتی ہے۔

 

 * اعصابی ہم آہنگی (Neuroplasticity and Silence)*

 

جدید تحقیق کے مطابق، دو منٹ کی مکمل خاموشی music سننے سے زیادہ پرسکون ثابت ہوتی ہے۔ اسے **نیوروپلاسٹیسٹی* کے عمل میں مدد ملتی ہے جہاں دماغ نئے اور مثبت کنکشنز بناتا ہے۔

 

*واصف علی واصفؒ نے بتاتے ہیں ذکر وہ ہے جو زبان سے نہیں، خاموشی سے کیا جائے۔*

 

نفسیاتی نکتہ نظر سے یہ ذکر دراصل Focused Attentionہے۔ جب آپ زبان بند کر کے اپنے اندر کے مرکز پر توجہ دیتے ہیں، تو آپ کا دماغ بیٹا ویو (Anxiety waves) سے نکل کر 'الفا ویو (Relaxation waves) میں داخل ہو جاتا ہے۔

 

 *خاموشی اور ایگو (The Ego vs. The Soul)*

 

نفسیات میں (Ego) ہمیشہ خود کو نمایاں کرنا چاہتی ہے۔ انا چاہتی ہے کہ اسے سنا جائےاور  اسے سراہا جائے۔

 

 واصف صاحب فرماتے  *خاموشی انا کی موت ہے اور روح کی زندگی۔*

 

 جب ہم خاموش ہوتے ہیں، تو ہم اپنی انا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ تمہارا بولنا ضروری نہیں۔

 

 یہ عمل نفسیاتی طور پر انسان کو عاجزی کی اس منزل پر لے جاتا ہے جہاں اسے دوسروں کی تنقید یا تعریف سے فرق پڑنا بند ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی  (Detachment) ہے جو انسان کو ذہنی طور پر آزاد کر دیتی ہے۔

 

 *خاموشی: سماجی نفسیات کا بہترین اوزار*

 

 (Social Psychology) کے مطابق، ایک خاموش انسان دوسروں کے لیے ایک آئینہ بن جاتا ہے۔ جب آپ کسی کی بات خاموشی اور گہری توجہ سے سنتے ہیں، تو سامنے والا شخص آپ کے سامنے اپنے آپ کو زیادہ بہتر طور پر کھول پاتا ہے۔

 

بقول واصفؒ: *سننا سیکھ لو، بولنا خود بخود آ جائے گا*

 

یہ خاموشی آپ کو ایک  Empathetic انسان بناتی ہے جو جذباتی ذہانت کی بنیاد ہے۔

 

 

خاموشی کوئی خلا نہیں ہے بلکہ یہ بھری ہوئی ہوتی ہے حکمت سے، مشاہدے سے اور شفا سے۔ واصف علی واصفؒ کے فلسفے اور نفسیاتی حقائق کو جوڑیں تو نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے *الفاظ انسان کو دنیا سے جوڑتے ہیں، جبکہ خاموشی انسان کو حقیقت سے جوڑتی ہے۔*

 

اگر آپ ذہنی الجھنوں کا شکار ہیں تو تھوڑی دیر کے لیے لفظوں کا سہارا چھوڑ کر اپنی روح کو خاموشی سے سیراب ہونے دیں کیونکہ بقولِ واصف  **شفاء آواز میں نہیں آواز کے تھم جانے میں ہے۔**

 

*پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کرنا مت بھولیے گا آپکے لائک سے ہمیں بہترین کام کرنے میں موٹیویشن ملے گی اپنا قیمتی وقت دینے کا  شکریہ*

 

*Tanzil Khan Clinical Psychologist*

*************

Comments