خود اعتمادی: ایک خاموش طاقت
از قلم: سلویٰ فاروق
انسان
کی ایک ایسی کمزوری ہے جسے کچھ لوگ تو کمال مہارت سے چھپا لیتے ہیں، لیکن کچھ لوگوں
پر یہ اس قدر حاوی ہو جاتی ہے کہ ان کے اندر اللہ کی ودیعت کردہ ایسی شاندار صلاحیتیں،
جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جائے، پسِ پردہ چلی جاتی ہیں۔ یہ جوہرِ قابل انسان کے اندر
ہی چھپا ہوتا ہے، بس ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ اسے پہچانا جائے، اسے تراشا جائے اور
اس میں نکھار لایا جائے۔
اکثر
آپ نے لوگوں کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ "یہ مجھ میں خدا داد صلاحیت ہے"۔ جب
ہم ان کا کام دیکھتے ہیں تو ایک لمحے کے لیے انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے کہ کیا ایک
انسان اتنا پیارا اور مکمل کام بھی کر سکتا ہے؟ بے شک وہ صلاحیت خدا داد ہی ہوتی ہے،
لیکن اس انسان نے اسے وقت پر پہچان کر اور تھوڑی سی محنت اور لگن سے نکھار لیا ہوتا
ہے۔
دوسری
طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس ان سے بھی کہیں زیادہ بہترین صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں، مگر
وہ انہیں ظاہر نہیں کر پاتے۔ ان کا ٹیلنٹ کہیں بوجھ تلے دب جاتا ہے، حالانکہ اگر انہیں
ذرا سا سازگار ماحول ملے تو وہ بہت اچھے سے سامنے آ سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ
کیا چیز ہے جو ہمیں اس پر مجبور کرتی ہے یا ہم خود اپنے ساتھ ایسا کرتے ہیں؟ وہ ہے
"اعتماد کی کمی".
ہم
دوسروں کے سامنے دب جاتے ہیں۔ ہمیں اکثر یہی دکھ کھائے جاتا ہے کہ دوسرا شخص کتنا اچھا
کر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جو ہم کر سکتے ہیں وہ شاید دوسرا نہ کر سکے۔ اپنی پہچان
ہم خود جتنی بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں، کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ یہ میرا ذاتی تجربہ
بھی ہے؛ میری اپنی بہت سی ایسی خدا داد صلاحیتیں تھیں جو صرف گھر تک محدود تھیں، لیکن
تھوڑی سی محنت نے میرا ایک نام بنا دیا۔
ہم
اکثر اس وہم کا شکار ہو جاتے ہیں کہ "میں یہ نہیں کر پاؤں گی"۔ بہت سے لوگ
اس لیے بھی مات کھا جاتے ہیں کہ وہ محفل میں بول نہیں پاتے، حالانکہ ان کے پاس علم
کا ایک سمندر ہوتا ہے جسے "بنڈل آف نالج" کہا جا سکتا ہے، مگر وہ اسے پہنچا
(deliver) نہیں پاتے۔ گھبراہٹ، ہاتھوں کا پسینہ، اور زبان
کا ساتھ نہ دینا ان کے خوف کی علامات ہوتی ہیں۔ وہ اپنے ڈر کو قابو کرنے کے لیے کبھی
ہاتھ بند کرتے ہیں تو کبھی کھولتے ہیں، انہیں مسلسل یہ احساس رہتا ہے کہ شاید وہ ٹھیک
سے کھڑے نہیں ہیں یا صحیح بول نہیں رہے۔
میں
نے کہیں سنا تھا کہ "بے شک آپ غلط بول رہے ہوں، لیکن اتنے اعتماد سے بولیں کہ
سامنے والا شک میں پڑ جائے کہ شاید وہی غلط ہے"۔ (یہ صرف ایک محاورہ ہے، اس پر
حرف بہ حرف عمل نہیں کرنا چاہیے)۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں اپنی ذات کو ان چیزوں کے
پیچھے چھپانا نہیں چاہیے۔ اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لانا ہوگا اور اپنی پہچان
منوانا ہوگی۔
اکثر
کہا جاتا ہے کہ "مڈل کلاس" بچے زیادہ ترقی کرتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ یہ
کہتا ہے کہ اس کی وجہ ان کے حالات ہوتے ہیں جو انہیں نڈر بنا دیتے ہیں۔ وہ ناز و نعم
میں پلے ہوئے (pampered)
نہیں ہوتے، اس لیے کھل کر سامنے آتے ہیں۔ انہیں یہ خوف نہیں رہتا کہ لوگ کیا کہیں گے؛
وہ جگہ جگہ جا کر ہر مشکل کا سامنا کرتے ہیں جس سے ان کا ڈر ختم ہو جاتا ہے۔ یہ اندرونی
ڈر ایک ایسی شے ہے کہ اگر یہ آپ پر حاوی ہو جائے تو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے، اور اگر
اس پر قابو پا لیا جائے تو انسان وہ بن جاتا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں
ہوتا۔
ہماری
سوسائٹی میں وہی لوگ جو ایسی صورتحال کے ذمہ دار ہوتے ہیں، ایسے ہی دبے ہوئے لوگوں
کو "بزدل" کہہ کر ناپسند کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف جو نڈر ہوتا ہے اور جس
کے اندر کوئی خوف نہیں ہوتا، اسے "پراعتماد" کہہ کر پسند کیا جاتا ہے۔
یہاں
میں ایک بات واضح کرنا چاہتی ہوں جو آج کل کی نوجوان نسل میں بہت عام ہے: "اوور
کانفیڈنس" (حد سے زیادہ اعتماد)۔ بہت سے لوگ اپنی بدتمیزی یا تلخ کلامی (bluntness) کو اعتماد کا نام دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، اعتماد اور بدتمیزی میں فرق
ہے۔ بات کرنے کا ایک سلیقہ ہوتا ہے، ہمیں تمیز کے دائرے سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔
اپنی بات دلیل سے دیں مگر اخلاقی حدود پار نہ کریں۔ اس کی بہترین مثال ہمارے آخری نبی
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔
ہمیں
پراعتماد بننا ہے، خود کو ظاہر کرنا ہے، اپنی صلاحیتوں کو پالش کرنا ہے لیکن
"بلنٹ" (تلخ) نہیں بننا۔ اپنے آپ کو ثابت کریں، آپ سب کچھ کر سکتے ہیں، بس
خود پر یقین اور تھوڑا سا اعتماد چاہیے۔ دوسروں کو خود پر حاوی ہونے کا موقع نہ دیں
اور نہ ہی مظلوم بنیں۔ یقین جانیے، اس دنیا میں مظلوم کے لیے کوئی جگہ نہیں رہتی۔
اب
بات یہ ہے کہ اس ڈر پر قابو کیسے پانا ہے اور خود کو پُر اعتماد کیسے بنانا ہے؟ اگر
آپ کو محفلیں اور لوگوں کا ہجوم پریشان کرتا ہے تو کوئی بات نہیں، لیکن اس بات پر اڑے
رہنے کے بجائے کہ "میں ایسا ہی ہوں"، اس صورتحال کو بدلا بھی تو جا سکتا
ہے۔
دیکھیں،
اگر آپ لوگوں کا سامنا کرنے سے ڈر رہے ہیں، تو اس سے کسی دوسرے کا نقصان نہیں ہو رہا،
بلکہ آپ خود کو مزید پیچھے لے کر جا رہے ہیں۔ ہاں، یہ بھی ٹھیک ہے کہ آپ کا گزارا ہو
جائے گا، لیکن کب تک چھپ کر؟ آپ سامنا کیوں نہیں کرتے؟ اور کسی سے چھپنا ہی کیوں ہے،
کیا آپ نے کسی کا کچھ دینا ہے؟
شروعات
تھوڑے سے کریں اور خود کو چیلنج دیں۔ خود سے کہیں کہ "میں کیوں ڈروں؟ مجھے ڈرنے
کی ضرورت نہیں"۔ بڑی محفلوں کے بجائے چھوٹی چھوٹی ملاقاتوں میں جانا شروع کریں۔
ان سے پورے اعتماد کے ساتھ بات کریں اور تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھیں؛ اس طرح آپ کی
یہ جھجک کھلنے لگے گی اور آپ میں آہستہ آہستہ اعتماد آنا شروع ہو جائے گا۔ پھر ایک
وقت آئے گا جب ان چھوٹی محفلوں کا خوف بالکل ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد اگلا قدم لیں،
خود چیزوں کا مشاہدہ کریں۔ یاد رکھیں، یہی کام جب کوئی دوسرا آپ کے لیے کرے گا تو آپ
کو چڑچڑاہٹ ہوگی، لیکن جب آپ خود کریں گے تو زیادہ بہتر محسوس ہوگا۔ اسی طرح چھوٹی
محفلوں سے بڑی محفلوں کی طرف قدم بڑھائیں اور اسے جاری رکھیں۔
ایک
اور اہم چیز یہ ہے کہ آپ بازار جیسی جگہوں پر جائیں، وہاں اپنے ڈر پر قابو پانا زیادہ
آسان ہوگا۔ اپنی ضرورت کی چیزیں خود دیکھیں اور خریدیں۔ اپنے چھوٹے موٹے کام، جیسے
اسٹیشنری لینا یا کچھ بھی ایسا جہاں آپ کو بولنا پڑے، وہاں خود جائیں اور بات کریں۔
اس طرح آپ کا ذہن لوگوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔ جب آپ اس کے عادی ہو
جائیں گے تو ڈر خود بخود ختم ہو جائے گا۔ ہو سکتا ہے ایک دو بار ہچکچاہٹ ہو، لیکن جب
سامنا ہو جائے گا تو یہ احساس ختم ہو جائے گا۔
ایک
اور مؤثر ذریعہ مطالعہ ہے۔ آپ مضبوط اور پُر اعتماد کرداروں کے بارے میں پڑھیں۔ یہ
انسانی فطرت ہے کہ آپ جو پڑھتے ہیں، اس کا عکس آپ کی شخصیت میں نظر آنے لگتا ہے۔ اچھی
کتابیں پڑھیں جن میں بااعتماد شخصیات کا ذکر ہو اور ان کی عادات کو خود پر لاگو کریں۔
اس طرح بھی آپ بہت حد تک بہتری لا سکتے ہیں۔
جب
آپ نے کسی سے ملنا ہو یا کچھ بولنا ہو، تو اسے پہلے سے ترتیب دے لیں۔ اگر آپ کو بولنے
میں مشکل ہوتی ہے تو کوئی بات نہیں، پہلے سے ذہن میں خاکہ بنا لیں کہ "پہلے میں
یہ کہوں گا/گی، پھر یہ بات کروں گا/گی"۔ اس کی ایک بار پریکٹس کر لیں اور پھر
جا کر کہہ دیں۔ آپ کا ذہن جہاں اس بات پر اٹک گیا ہے کہ "میں غلط کر رہا ہوں"،
پہلے خود کو اس سوچ سے نکالیں۔ خود سے کہیں کہ "نہیں، یہ ٹھیک ہے، آہستہ آہستہ
سب صحیح ہو جائے گا، میں یہ کر سکتا/سکتی ہوں"۔
امید
ہے کہ میری یہ چھوٹی سی کوشش کہیں نہ کہیں کام ضرور آئے گی۔ مجھ سے زیادہ آپ خود اچھا
کر سکتے ہیں۔ خود کو ایک ایسی نئی شخصیت میں ڈھال لیں جسے کوئی زیر نہ کر سکے اور جسے
دیکھ کر ہر کوئی یہی سوچے کہ "یہ کیا چیز ہے! اس میں اتنا اعتماد کہاں سے اور
کیسے آیا؟"
بس
خود پر توجہ دیں، فی امان اللہ۔ دعاؤں میں لازمی یاد رکھیے گا۔
میرا
نام سلویٰ فاروق ہے۔ میرا تعلق کسی باقاعدہ ادبی حلقے سے تو نہیں، مگر زندگی کے مشاہدات
کو قلمبند کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کر رہی ہوں۔ میری اس تحریری سفر میں میرے الفا
ریڈر (Alpha Reader)
کا تعاون بھی شامل ہے، جن کی اصلاح اور رائے نے اس کالم کو نکھارنے میں اہم کردار ادا
کیا۔ امید ہے کہ یہ تحریر آپ کو خود کو بہتر بنانے اور زندگی کی مختلف صورتحال کو سمجھنے
میں مدد دے گی۔
***********
Comments
Post a Comment