**کمتری کی انا: نفسیاتی گرہ اور انسانی رویوں کا المیہ**
نفسیات
کی دنیا میں انسانی شخصیت کی تہوں کو سمجھنے کے لیے "انا" (Ego) کا مطالعہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ہم "کمتری والی انا"
یا *Inferiority Complex*
کی بات کرتے ہیں، تو یہ محض ایک معمولی احساسِ محرومی نہیں، بلکہ ایک ایسی گہری نفسیاتی
گرہ ہے جو انسان کے پورے طرزِ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ الفریڈ ایڈلر، جو اس تصور کے
بانی مانے جاتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہر انسان پیدائشی طور پر بے بس ہوتا ہے اور
اسی بے بسی سے نکلنے کی تگ و دو اسے آگے بڑھنے کی تحریک دیتی ہے۔ لیکن جب یہ احساس
تعمیری ہونے کے بجائے تخریبی شکل اختیار کر لے، تو یہ "کمتری کی انا" بن
جاتا ہے۔
یہ
انا دراصل ایک دفاعی حصار ہے جو انسان اپنے اردگرد اس لیے کھڑا کرتا ہے تاکہ وہ اپنی
نام نہاد نااہلی یا کمزوری کو چھپا سکے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق اس کی جڑیں اکثر بچپن
کے ان تجربات میں ہوتی ہیں جہاں بچے کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو، اسے دوسروں
سے کم تر ظاہر کیا گیا ہو یا اس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو نظر انداز کیا گیا ہو۔
ایسا بچہ بڑا ہو کر ایک ایسی شخصیت کا حامل بن جاتا ہے جو ہر وقت اپنی ذات کو شک کی
نگاہ سے دیکھتی ہے۔
**کمتری
کی انا کی مختلف صورتیں**
نفسیاتی
تجزیہ کیا جائے تو کمتری کی انا کی کئی اہم اقسام سامنے آتی ہیں۔ پہلی قسم وہ ہے جسے
ہم "بنیادی کمتری" کہتے ہیں۔ یہ وہ احساس ہے جو بچپن کی محرومیوں یا جسمانی
و ذہنی کمزوریوں کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ یہاں انسان خود کو قدرت کے سامنے بے بس
پاتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ وہ کبھی دوسروں کے برابر نہیں آ سکتا۔
دوسری
اہم قسم "ثانوی کمتری" ہے، جو بلوغت کے دور میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ اس وقت
سر اٹھاتی ہے جب انسان اپنے طے کردہ معیار یا معاشرے کے بنائی ہوئی کامیابی کی دوڑ
میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، معاشی بدحالی یا تعلیمی میدان میں ناکامی انسان
کے اندر یہ سوچ پختہ کر دیتی ہے کہ وہ معاشرے کا ایک ناکارہ پرزہ ہے۔
ایک
اور دلچسپ مگر خطرناک قسم "برتری کا لبادہ" یا *Superiority
Complex* ہے۔
نفسیات کہتی ہے کہ جو شخص حد سے زیادہ تکبر دکھاتا ہے یا دوسروں کو حقیر
سمجھتا ہے، وہ دراصل اپنی شدید کمتری کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی
مصنوعی انا ہے جس کے پیچھے ایک خوفزدہ بچہ چھپا ہوتا ہے جو ڈرتا ہے کہ کہیں دنیا اس
کی اصلیت نہ جان لے۔
**نفسیاتی
علامات اور رویوں کا اتار چڑھاؤ**
کمتری
کی انا کا شکار شخص اکثر دو انتہاؤں پر رہتا ہے۔ یا تو وہ بالکل گوشہ نشین ہو جاتا
ہے اور سماجی محفلوں سے کتراتا ہے، یا پھر وہ ضرورت سے زیادہ نمایاں ہونے کی کوشش کرتا
ہے۔
ایسے
لوگ تنقید برداشت کرنے کی بالکل سکت نہیں رکھتے۔ ان کے لیے کسی کی اصلاحی بات بھی ایک
ذاتی حملے کے مترادف ہوتی ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار تقدیر، حالات یا دوسرے لوگوں
کو ٹھہراتے ہیں تاکہ ان کی اپنی انا کو ٹھیس نہ پہنچے۔
مشہور
ماہرِ نفسیات کارل جنگ کا ایک قول اس صورتحال کی خوب ترجمانی کرتا ہے کہ: *"آپ
وہ نہیں ہیں جو آپ کے ساتھ ہوا، بلکہ آپ وہ ہیں جو آپ بننے کا انتخاب کرتے ہیں۔"*
لیکن کمتری کی انا میں مبتلا شخص انتخاب کی اس قوت سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا
ماضی اس کے حال پر حاوی رہتا ہے۔
**کردار
کی پختگی اور حل کا راستہ**
اس
نفسیاتی الجھن سے نکلنے کا واحد راستہ "خود آگاہی" ہے۔ جب تک انسان اپنی
کمزوریوں کو تسلیم نہیں کرتا، وہ ان پر قابو نہیں پا سکتا۔ کمتری کی انا کو ختم کرنے
کے لیے ضروری ہے کہ انسان دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا چھوڑ دے۔ ہر انسان کی زندگی کی
جدوجہد اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔
سگمنڈ
فرائیڈ نے ایک جگہ بہت اہم بات کہی تھی کہ:
*"مکمل
ایمانداری کے ساتھ خود کا سامنا کرنا ایک بہترین مشق ہے۔"* جب انسان اپنی ذات
کے ساتھ سچا ہو جاتا ہے، تو اسے دوسروں کی تائید یا تنقید سے فرق پڑنا کم ہو جاتا ہے۔
اپنی عزتِ نفس (Self-esteem)
کو بحال کرنا اور چھوٹے چھوٹے اہداف حاصل کرنا اس انا کے حصار کو توڑنے میں مددگار
ثابت ہوتا ہے۔
آخر
میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انا کا کام ہمیں بچانا ہے، ہمیں قید کرنا نہیں۔ اگر آپ کی
انا آپ کو لوگوں سے دور کر رہی ہے یا آپ کے اندر حسد پیدا کر رہی ہے، تو یہ وقت ہے
کہ آپ اپنے اندر جھانکیں اور اس نفسیاتی گرہ کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ انسانی عظمت
اس میں نہیں کہ ہم کبھی نہ گریں، بلکہ اس میں ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کو پہچان کر ایک
بہتر انسان بن کر ابھریں۔
*پوسٹ
پسند آئے تو لائک اور شیئر کرنا مت بھولیے گا آپکے لائک سے ہمیں بہترین کام کرنے میں
موٹیویشن ملے گی اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ*
*Tanzil Khan Clinical Psychologist*
*****************
Comments
Post a Comment