کالم:حاصل کی بے وقعتی اور تھکن کا سفر
تحریر: سلویٰ فاروق
انسان کا اصل حاصل کیا ہے؟ بچپن سے جوانی تک ہم صرف نمبروں اور گریڈز کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں،
لیکن جب وہ منزل مل جاتی ہے تو اکثر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی وقعت کھو چکی ہے۔ جس چیز کے لیے ہم نے اپنی توانائیاں صرف کیں، وہی آخر میں ثھکن بن کر ہم پر غالب آ جاتی ہے۔ ہائر اسٹڈی تک پہنچتے پہنچتے گریڈز کی وہ تڑپ ختم ہو جاتی ہے کیونکہ ہم اس دوڑ میں بری طرح ٹوٹ چکے ہوتے ہیں۔ پھر ایک نیا محاذ شروع ہوتا ہے—نوکری کی تلاش۔ یہ مرحلہ ہمیں اتنا نڈھال کر دیتا ہے کہ جب کامیابی قدم چومتی ہے، تب تک ہم اندر سے خالی ہو چکے ہوتے ہیں۔
اس طویل سفر میں بہت سے لوگ ہم سے شکوے پال لیتے ہیں، جن میں سرِ فہرست ہمارے والدین ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اکثر ان کا ویسا خیال نہیں رکھ پاتے جیسا رکھنا چاہیے تھا، لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ انٹر کے بعد 50 فیصد سے زائد بچے اپنی تعلیم کے اخراجات خود اٹھا رہے ہیں۔ لڑکے پارٹ ٹائم نوکریاں کر کے اور لڑکیاں اپنے ہنر، ٹیوشنز، جیولری سازی یا سلائی کڑھائی کے ذریعے حالات سے لڑ رہی ہیں۔ تعلیم اور معاشی بوجھ کو ایک ساتھ سنبھالنا انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتا ہے۔ اوپر سے ہمارا تعلیمی نظام، جسے صرف 'کاپی پیسٹ' اور صفحات بھرنے والا مواد چاہیے، وہ ایک الگ ذہنی اذیت ہے؛ اور اگر اس دوران کوئی ایسا استاد مل جائے جو راہ دکھانے کے بجائے بدلے لینے پر اتر آئے، تو گویا "کرے کوئی اور بھرے کوئی" والا معاملہ ہو جاتا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس سارے عمل میں سب سے بڑا نقصان ہماری اپنی ذات کا ہوتا ہے۔ ہم خود سے بیزار ہونے لگتے ہیں اور ہمارے اندر وہ ناامیدی جنم لیتی ہے جو کفر کے برابر ہے۔ اصل خسارہ یہ ہے کہ ہم دنیا کے حصول کی اس اندھی دوڑ میں اپنی "روح کی غذا" کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی غلطی ہے جنہوں نے ہمیں اس قدر پریشرائز (Pressurize) کر رکھا ہے کہ ہم اپنے اصل سے دور ہو کر اللہ کو بھول چکے ہیں۔ ظاہر ہے، جب ہم خالق کو بھول کر ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے، تو وہ سب تو شاید حاصل کر لیں جو نصیب میں لکھا ہے، لیکن سکون اور وہ باوقار شخصیت کھو دیں گے جو ٹھنڈے مزاج اور رکھ رکھاؤ کی پہچان ہوتی ہے۔ جب صبر رخصت ہو جائے اور اللہ سے دوری ہو جائے، تو پھر یہی انجام ہونا تھا۔
والدین کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچے مشین نہیں ہیں جو ہر وقت دوسروں سے مقابلے میں جیتیں اور بہترین نتائج بھی لائیں۔ زندگی میں کہیں نہ کہیں سمجھوتہ (Compromise) کرنا پڑتا ہے اور رویوں میں لچک ضروری ہے، کیونکہ زیادہ سختی سے تو لوہا بھی اپنی اصل پہچان کھو دیتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا وجہ ہے جس کی بنا پر ہم آج بہت سے ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہیں؟ ہمیں اپنے بچوں کو اعتماد دینا ہوگا۔ جس ملک میں نوجوانوں کی اتنی بڑی آبادی ہو، وہ ملک کیسے پیچھے رہ سکتا ہے؟ بشرطیکہ ہم اس بے جا دباؤ کو ختم کریں اور اپنے بچوں کی قابلیت اور کچھ کر دکھانے کی صلاحیت کو کچلنے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیں۔ ان کے کندھوں پر لدے اس بوجھ کو اتاریں تاکہ وہ آزادانہ سوچ کے ساتھ اپنا اور ملک کا نام روشن کر سکیں۔ یہ باتیں طنز نہیں، بلکہ وہ تلخ حقائق ہیں جن پر ہم سب کو مل کر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
تعارفِ مصنفہ
سلویٰ فاروق | کالم
نگار و طالبہ بی ایس کیمسٹری۔ قلم کے ذریعے سماجی رویوں کی عکاسی اور انسانی
نفسیات کے الجھے ہوئے پہلوؤں کو سلجھانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش۔
************
Comments
Post a Comment