Ziada faisly aur thaka hua dimagh jab jazbat khamosh ho jaty hain article by Tanzil khan Psychologist

*زیادہ فیصلے اور تھکا ہوا دماغ: جب جذبات خاموش ہو جاتے ہیں*

ہم سمجھتے ہیں کہ جذبات کا تعلق صرف دل سے ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جذبات بھی دماغ کی توانائی سے چلتے ہیں۔ اور جب دماغ تھک جائے تو سب سے پہلے جو چیز خاموش ہوتی ہے، وہ جذبات ہی ہوتے ہیں۔ایک عام دن میں ہم درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں فیصلے کرتے ہیں۔ کیا پہننا ہے۔ کس بات کا جواب دینا ہے۔ کس کو نظر انداز کرنا ہے۔ کس بات پر ردعمل دینا ہے۔ کون سا کام پہلے کرنا ہے۔ کس پر اعتماد کرنا ہے۔ یہ سب چھوٹے فیصلے لگتے ہیں، مگر ہر فیصلہ دماغ کی توانائی استعمال کرتا ہے۔جب یہ سلسلہ مسلسل چلتا رہے، خاص طور پر دباؤ، ذمہ داریوں اور توقعات کے ساتھ، تو دماغ ایک کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے جسے سادہ لفظوں میں ذہنی تھکن کہا جا سکتا ہے۔ اس حالت میں دماغ اپنی ترجیحات بدل لیتا ہے۔ وہ گہرائی میں جا کر محسوس کرنے کے بجائے صرف کام چلانے پر اکتفا کرتا ہے۔جذبات کو محسوس کرنا بھی ایک عمل ہے۔ اس کے لیے توجہ، وقت اور ذہنی گنجائش چاہیے۔ جب ذہن بھر چکا ہو تو وہ یہ گنجائش بند کر دیتا ہے۔ انسان کام کرتا رہتا ہے، بات کرتا رہتا ہے، فیصلے بھی کرتا رہتا ہے، مگر اندر سے کچھ کم محسوس کرنے لگتا ہے۔یہ بے حسی سستی نہیں ہوتی۔ یہ ایک حفاظتی طریقہ ہوتا ہے۔ جیسے موبائل کی بیٹری کم ہو جائے تو وہ غیر ضروری ایپس بند کر دیتا ہے۔ اسی طرح دماغ بھی جذباتی پراسیسنگ کم کر دیتا ہے تاکہ بنیادی کام جاری رہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اگر یہ حالت لمبے عرصے تک رہے تو انسان اپنی ہی کیفیت سے دور ہونے لگتا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ خوش ہے یا تھکا ہوا۔ مطمئن ہے یا خالی۔ سب کچھ دھندلا سا لگنے لگتا ہے۔

*یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب رکنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ انسان چلتا تو رہتا ہے مگر اندر سے بند ہوتا جاتا ہے۔*

________________________

*سادہ علاج: جو انسان خود کر سکتا ہے.*

یہ کیفیت پیچیدہ لگ سکتی ہے، مگر اس کا ابتدائی حل سادہ عادتوں سے شروع ہو سکتا ہے۔

*1. فیصلوں کی تعداد کم کریں.*

ہر چیز پر فوری فیصلہ کرنا ضروری نہیں۔ کچھ فیصلے اگلے دن تک مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔روزمرہ کے معمولات سادہ بنائیں۔ کپڑوں، کھانے یا معمولی معاملات میں خود کو کم آپشن دیں۔ کم آپشن، کم ذہنی بوجھ۔

*2. فیصلہ کرنے کے بعد وقفہ لیں.*

کوئی اہم فیصلہ کرنے کے بعد فوراً اگلے کام میں نہ کودیں۔ دو منٹ رکیں۔ گہری سانس لیں۔ خود سے پوچھیں، میں ابھی کیسا محسوس کر رہا ہوں۔ یہ چھوٹا سا وقفہ دماغ کو جذباتی جگہ واپس دیتا ہے۔

*3. دن میں ایک وقت “بے فیصلگی” کا رکھیں.*

ایسا وقت جب آپ کو کچھ طے نہیں کرنا۔ نہ سوچنا کہ کیا بہتر ہے، نہ یہ کہ کیا غلط ہے۔ صرف موجود رہنا۔ چہل قدمی، خاموش بیٹھنا یا ہلکی سی دعا یا مراقبہ۔ یہ دماغ کو ری سیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

*4. نیند اور جسمانی آرام کو سنجیدہ لیں.*

تھکا ہوا دماغ اکثر نیند کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مناسب نیند جذباتی نظام کو بحال کرتی ہے۔ اسی طرح ہلکی جسمانی حرکت، جیسے روزانہ کی واک، ذہنی بوجھ کم کرتی ہے۔

*5. ہر دن ایک چھوٹا سا شعوری احساس نوٹ کریں.*

دن کے آخر میں صرف ایک بات لکھیں: آج میں نے کس لمحے کچھ محسوس کیا۔

چاہے وہ ہلکی سی خوشی ہو، چڑچڑاہٹ ہو یا سکون کا ایک لمحہ۔ یہ عادت دماغ کو یاد دلاتی ہے کہ جذبات اب بھی موجود ہیں۔

________________________

زیادہ فیصلے کرنا بظاہر مضبوطی کی علامت لگتا ہے، مگر مسلسل فیصلہ سازی انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہے۔ اور جب دماغ حد سے زیادہ بوجھ اٹھا لے تو وہ جذبات کو عارضی طور پر بند کر دیتا ہے۔

*اصل طاقت یہ نہیں کہ ہم ہمیشہ متحرک رہیں۔ اصل طاقت یہ ہے کہ ہم جان سکیں کب رکنا ہے۔*

کیونکہ جب ذہن کو آرام ملتا ہے، تو جذبات خود بخود واپس آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

 

*پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کرنا مت بھولیے گا آپکے لائک سے ہمیں بہترین کام کرنے میں موٹیویشن ملے گی اپنا قیمتی وقت دینے کا  شکریہ*

*Tanzil Clinical Psychologist*

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Comments