" تلاش "
کہتے
ہیں بولنے سے پہلے سوچو
مگر
یہ بتاؤ.. کب تک؟ کتنی گہرائی تک؟
وہ لمحہ کب آتا ہے جب سوچ ختم ہوتی ہے اور بولنا شروع ہوتا ہے؟
کس
نے ناپا ہے اس فاصلے کو؟
کہتے
ہیں جاں چلی جائے مگر عزت نہ جائے۔ یہ کیوں نہیں بتاتے .. وہ جاں کس کی ہوگی؟ مظلوم
کی؟ یا ظالم کی؟
ہمارے
ذہنوں میں سوالوں کے طوفان اٹھتے ہیں۔
مگر
کون دے گا جواب؟ کون آۓ
گا کٹہرے میں ؟
جنم
دینے والا؟ تربیت کرنے والا؟ یا حاکمِ وقت ؟
ایک
لمحے کو ٹھہرو۔
بس
ایک لمحہ۔
آخر
کب تک تم جوابوں کے لیے باہر دیکھتے رہو گے؟
کیا
وقت نہیں آگیا کہ تم اپنے اندر جھانکو
اے
اشرف مخلوق!
تم
بذات ِخود زمہ دار ہو ۔کیا تمہیں کسی خضر کا انتطار ہے جو ہاتھ پکڑ کہ درست سمت لے کے جائے یا الہ دین کا چراغ
ڈھونڈ رہے ہو جو تمہارے زنگ آلود زہن کی کھڑکیاں صاف کرے ؟
آدم کے بچے !تم بھول گئےہو
بہت
سالوں پہلے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری گئی
تھی ۔
اگر
جواب چاہیے تو وقت دو۔
آرام
چھوڑو۔ نیند توڑو۔
اس
کتاب کے صفحات کھولو۔
وہ
تمہیں بتائے گی۔۔۔کہ کچھ پانے کے لیے کیا کیا کھونا پڑتا ہے اور بولنے سے پہلے
آخر
کتنا سوچنا پڑتا ہے۔
اور
جان پاؤگے کہ تم کتنے انمول ہو یہی عقل تمہیں ممتاز کرتی ہے
تم
سیکھو گے کہ مردانگی کب دکھانی اور نسوانیت کا پاس کب رکھنا ہے
وہ
راز کھو لے گی کہ لوگ تو نبیوں سے بھی خوش نہیں ہوتے ۔
اور
تمہیں معلوم ہوگا کہ جنگوں میں بھی سب جائز نہیں ہوتا
پڑھو۔۔اسے
توجہ سے کہ شمشیر کب اٹھانی ہے اور سر کب جھکانا ہے
پڑھو
۔۔۔میرے عزیز !
اس
سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔
اس
سے پہلے کہ اس کتاب کے الفاظ اٹھا لیے جائیں ۔
لے
لو اپنے جواب۔۔
کھول
لو اپنی آنکھیں ۔۔
سنوار
لو اپنی زندگی ۔۔
اور
بتانا تم اپنی آنے والی نسلوں کو کہ جب حق
کی خاطر لڑتے ہیں تو شہید کہلاتے ہیں
کہ
ظالم اور مظلوم میں بڑا نازک سا فرق ہے
کہ
آزمائش اور عذاب ایک نہیں ہے ۔
اور
ضرور باور کروانا کہ دل واقعی ہی نازک ہوتے ہیں۔
بقلم
: ام رقیہ
Comments
Post a Comment